تازہ ترین

بڑھتے سڑک حادثات، وجوہات اور سدِ باب

لمحہ ٔ فکریہ

تاریخ    27 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


سبزار احمد بٹ
آمد ورفت کے جدید وسائل نے انسانی زندگی کے سفر کو آسان سے آسان تر بنایا ہے۔ایک زمانہ تھا جب انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے پیدل سفر کرتا تھا ۔وہیں موجودہ دور کے جدید وسائل کی بدولت انسان مہینوں کا سفر گھنٹوں بلکہ منٹوں میں طے کرتا ہے ۔لوگ ہوائی جہاز، ریل، وغیرہ سے بڑی آسانی سے زیادہ سے زیادہ مسافت کو بھی بڑی آسانی اور بہت کم وقت میں طے کرتے ہیں ۔اتنا ہی نہیں ایک عام آدمی کے پاس اپنی گاڑی ہے، جسے چلانے کے لئے سرکار نے صاف ستھری سڑکیں تعمیر کیں ہیں۔لیکن ان سڑکوں پر چلنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اپنانے کی سخت ضرورت ہے مگر بدقسمتی سے کچھ لوگ ان احتیاطی تدابیر کا خیال نہیں رکھتے ہیں جس وجہ سے انسان اپنے ساتھ دوسروں کے لیے بھی مصیبت کھڑی کر دیتا ہے ۔آئے روز سڑک حادثات کی ایسی خبریں سننے کو مل رہی ہیں کہ دل دہل جاتا ہے۔ ان حادثات میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں انسانی جانیں تلف ہوتی ہیں۔ایک سروے کے مطابق صرف 2020  میں ایک لاکھ سےزائد لوگ ملک میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں ،اتنا ہی نہیں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ملک میں ہر روز 328  لوگ سڑک حادثات میں اپاہج ہو رہے ہیں، وہ بھی تب جب ملک میں کرونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن  لگا ہوا تھا ۔ایک اور سروے کے مطابق 2019 میں 135000 لوگ حادثات کی بھینٹ چڑھے ہیں جبکہ 2018 میں سڑک حادثات میں مرنے والوں کی تعداد 136000 ہے .جموں کشمیر میں 2020  میں 728 لوگ  سڑک حادثات میں جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ اسی سال کی اعداد وشمار کے مطابق 5894 لوگ سڑک حادثات میں اپاہج ہوئے ہیں۔ آمدورفت کے جدید وسائل اگر چہ رحمت ہیں اور ان سے ایک انسان بہت زیادہ مستفید ہوتا ہے۔ لیکن یہ تب زحمت بنتے ہیں۔جب آمدورفت کے ان وسائل کا غلط استعمال ہوتاہے ۔سوال یہ ہے کہ آخر اتنی ہموار اور پختہ سڑکیں ہونے کے باوجود اتنے حادثات رونما کیوں ہوتے ہیں؟ ایک عام تحقیق کے مطابق یہ حادثات انسانی لاپرواہی اور غلطیوں کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں ۔کہیں پر ڈرائیور تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہیں،جس کہ وجہ سے حادثات رونما ہوتے ہیں۔اُوور ٹیکنگ کی وجہ سے بھی حادثات رونما ہوتے ہیں اور انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں ۔کبھی کبھی ڈرائیور حضرات کی جلدبازی بھی حادثے کی وجہ بنتی ہے ۔لیکن ڈرائیور یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ کبھی نہ پہنچنے سے دیر سے پہنچنا قدرے بہتر ہے۔کم عمر اور نافہم بچوں کے ہاتھوں میں گاڑی اور موٹر سائیکل کی چابی تھمانا بھی حادثے کی وجہ بنتا ہے ۔بہت افسوس کی بات ہے کہ والدین اپنے کم عمر بچوں کو گاڑی چلانے کی نہ صرف اجازت دیتے ہیں بلکہ اس عمل کو وہ اپنے لیے قابل فخر سمجھتے ہیں۔لیکن اس عمل کا خمیازہ نہ صرف انہیں بلکہ راہ چلتے مسافروں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ نوجوانوں کا ہیڈ فون لگا کر گاڑی یا موٹر سائیکل چلانا اب فیشن بن چکا ہے. ۔گاڑی چلاتے وقت موبائل فون کا استعمال حادثے کی وجہ بنتا ہے ۔لہٰذا گاڑی چلاتے وقت موبائل فون کا استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جانی چاہئے۔اتنا ہی نہیں کچھ نوجوان زگ زیگ والی ڈرائیونگ کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ہیرو سمجھتے ہیں ۔ ایسے نوجوانوں پر فخر کرنے کی نہیں بلکہ ترس کھانے کی ضرورت ہے، انہیں اخلاقی تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے نوجوان اپنی اس حماقت سے باز آئیں اور اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کے زندگی کی اہمیت کو سمجھں اور ذمّہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں ۔کچھ لوگ رات کے وقت بہت ہی تیز روشنی کا استعمال کرتے ہیں جو سامنے والے کی آنکھوں پر اس طرح اثر کرتی ہے کہ اسے کچھ دکھائے نہیں دیتا اور اس وجہ سے کبھی کبھی بھیانک حادثہ پیش آتا ہے۔ایسی روشنی کا استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جانی چاہیے تاکہ ڈرائیور حضرات اس طرح کی روشنی والے بلبوں کا استعمال کرنے سے احتراز کریں۔ حیرت اس بات کی ہے کہ کیا ایسی چائنیز لائٹس کا استعمال کرنے والے ڈرائیور حضرات محکمہ کی نظروں سے نہیں گزرتے ہیں ۔اگر گزرتے ہیں تو ان کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ ۔آجکل کچھ بچے بلکہ نوجوانوں کو بھی سڑکوں پر کرکٹ کھیلتے ہوئے دیکھا جاسکتا جو بہت ہی خطرناک عمل ہے۔ سڑکیں آمدورفت کے لیے ہیں نہ کہ کھیل کھود کے لیے ۔سڑکوں پر کھیلنا بھی حادثے کی وجہ بنتا ہے ۔لہٰذا اس عمل سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔ڈرائیور حضرات کی اچھی خاصی تعداد ڈرائیونگ سند کے بغیر ہی گاڑیاں چلاتی ہیں۔ ایسے لوگوں سے محکمہ معمولی جرمانہ وصول کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے جو کہ اس بڑے جرم کے لیے ایک معمولی سزا ہے ۔حال ہی میں سرینگر کی ایک عدالت نے بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے والے چند لوگوں کو موقع پر ہی جیل بھیجنے کے احکامات صادر کر دیئے ۔عدالت کے اس فیصلے کی عوامی حلقوں میں کافی پزیرائی ہوئی۔ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے اگر چہ ایک محکمہ کام کر رہا ہے، محکمے سے منسلک افراد جگہ جگہ پر ناکے لگا کر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں تاہم جرمانہ وصول کرنا اور چالان کرنا ہی کافی نہیں ہے، کچھ لوگوں کو جرمانہ بھرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے اور جن لوگوں کے خلاف چالان پیش کی جاتی ہے، انہیں اس کی رسید تھما دی جاتی ہے لیکن یہی لوگ جب اگلی بار ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو پہلے والے چالان کی رسید دکھا کر بچ نکلتے ہیں ۔ایسا لگتا ہے کہ ان کے ہاتھ میں چالان کی رسید نہیں ٹریفک قوانین توڑنے کی سند ہو۔متعلقہ محکمے کو چاہیے کہ وقتاً فوقتاً عوامی دربار بلایا جائے اور ڈرائیور حضرات کو ذہنی طور پر تیار کیا جائے کہ وہ ٹریفک قوانین کا احترام کریں۔بعد میں ایسے درباروں کی تشہیر کی جانی چاہئے تاکہ ایسے پروگرام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔ اس ضمن میں اخبارات، ریڈیو، ٹی وی اور باقی سماجی رابطہ سائٹوں کا سہارا لیا جاسکتا ہے ۔ رسل  ورسائل کے مختلف ذرائع سے اس حوالے سے مختلف انداز سے تشہیر نہایت ضروری ہے تاکہ لوگ ٹریفک قوانین کی اہمیت کو سمجھیں اور ان کی پاسداری کریں۔سماج کے معزز اور ذمہ دار لوگوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اس ضمن میں عوامی بیداری کے لیے لازمی اقدامات اٹھائیں اور لوگوں کو ذہنی طور پر تیار کریں کہ وہ اپنی کم عمر اور نا فہم بچوں کے ہاتھوں میں گاڑی اور موٹرسائیکلوں کی چابیاں نہ تھمائیں ۔ ایسا بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ ایمبولینس کو جگہ دینے میں تاخیر کی جا رہی ہے، جس سے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈرائیور حضرات سے گزارش ہے کہ وہ ایمبولینس کو جگہ دینے میں تاخیر نہ کریں بلکہ ایمبولینس کو جگہ دے کر ذمّہ دارشہری ہونے کا ثبوت دیںاور کبھی بھی سیٹ بیلٹ کے بخیر گاڑی نہ چلائیں ۔تیز رفتاری سے گاڑی چلانے سے پرہیز کریں ،اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی کا بھی خیال رکھیں ۔ٹریفک محکمہ کے پاس ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی آن لائن جانکاری ہونی چاہیے تاکہ بار بار ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے کی لائسنس نہ صرف منسوخ کر دی جائیں بلکہ انہیں سزا دی جائے تاکہ باقی لوگ ایسا کرنے سے گریز کریں۔محکمہ کو چاہئے کہ لائسنس اجرا کرتے وقت نہ صرف لائسنس حاصل کرنے والوں کو ٹریفک قوانین پر مشتمل ایک کتابچہ دیں بلکہ ان سے باضابطہ حلف لیا جانا چاہئے کہ وہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں گے ۔
(اویل نورآباد،رابطہ۔7006738436)
�������
 

تازہ ترین