تازہ ترین

بچہ مزدوری معاشرے پر بدنما داغ

سرکار ی ،سیاسی اور سماجی تنظیموں کی خاموشی افسوس ناک

تاریخ    27 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


محمد ریاض ملک
بچہ بچہ ہی ہوتاہے۔چاہے وہ امیر کا ہویاپھر کسی غریب کے گھر میں جنم لیا ہو۔پیداکرنے والے نے اس کے ساتھ کوئی بھید بھاؤ نہیں کیا۔جسم کے تمام اعضاء ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔بس فرق اتنا کہ کوئی بچہ غریب کے گھر پیداہوااور کوئی صاحب مال کے گھر پیداہوا۔لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے بلکہ دکھائی بھی دے رہا ہےکہ یہاں مال ودولترکھنے والےلوگ غریبوں کے بچوں کو غلامی میں ہی دیکھنا پسند کرتے ہیںاور صرف اپنے ہی بچوں کے مستقبل کو تابناک بنانے کی فکر میں لگ چکے ہیںاور اس لئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار رہتےہیں،یہاں تک کہ وہ حق و ناحق ،جائز و ناجائز،ہلال و حرام میں بھی کوئی فرق نہیں کرتے ہیں۔گوکہ یہ سلسلہ دنیاپر آنے کے بعد دنیامیں شروع ہوجاتاہے۔اس وقت دنیا بھر میں کروڑوں بچے، بچہ مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔بچہ مزدوری کا یہ سلسلہ گھریلو کام کاج سے لیکر ہوٹل،لاجز،فیکٹریوں، وغیرہ تک جاری و ساری ہے۔ بچوں کے حقوق کی پاسداری میںعالمی یا ملکی سطح کوئی بھی تنظیم فعال نہیں ہےاور نہ ہی سرکاری طور پر اس قدر ایجنسیاں فعال اور متحرک ہیں کہ اس حساس مسئلہ پر عمل کیاجاسکے۔یہی وجہ ہے کہ قوانین ہوتے ہوے بھی بچہ مزدوری دن بدن عرج پر ہے اور یہ سلسلہ بڑھتاہی جارہاہے۔یہاں تک کہ عالمی ادارہ محنت کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیامیں ڈیڑ کروڑ سے زیادہ بچوں سے مشقت لی جاتی ہےاور اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میں ہر دسواں بچہ، بچہ مزدوری سے دوچار ہے۔ 
ہندوستان جس کو کبھی سونے کی چڑیاکہاجاتاتھااور اب بھی حیثیت کے اعتبار سے کچھ کم نہیں ہے۔مگر افسوس یہ ہے کہ یہاں بھی بچہ مزدوری زور و شور سے جاری ہےجبکہ اس وطن ِ عزیزمیںبھی تواتر کے ساتھ جاری بچہ مزدوری کے خلاف خاموشی ٹوٹنے کانام نہیں لے رہی ہے۔ جموں وکشمیر جو ہندوستان کے لئے تاج کا مقام رکھتاہے۔ اس تاجدارِ گلشن حسین میں بھی بچہ مزدوری ایک غیر فطری داغ کی طرح پھیل چکا ہے، جو بظاہر بہت کم نظر آتاہے۔مگر حقیقت میں یہ بہت بڑا اہم مسئلہ ہے۔اس حساس ترین مسئلہ پر تمام تر قوانین ہوتے ہوئے بھی اس قدر خاموشی کیوںہے،ایک بہت بڑا سوال ہے؟حیرانی کا مقام ہے کہ جہاں دنیا کی تمام ایوانوں میں مختلف معاملات پر بڑے پیمانے پر ہلچل مچ جاتی ہے اور بحث و مباحثہ ہوتے رہتے ہیںتو وہاںاس مسئلہ پر کیوں نہیں؟ یاپھر بچہ مزدوری آج کی سیاست قائدین وعمائیدین کے لئےکوئی مسئلہ ہی نہیں ہے؟جموں و کشمیر کےضلع پونچھ جوایک سرحدی ضلع ہے اور مالی طور پر بھی پسماندہ ہے۔ یہاں پر بھی بچہ مزدوری عام ہے۔ 
سیول سوسائیٹی منڈی کے رکن اور سماجی کارکن غلام عباس ہمدانی، جن کی عمر 55سال سے زیادہ ہے اورجنہوں نے اپنی زندگی دبے کچلے لوگوں کی آواز کو بلند کرنے کے لئے وقف کردی ہے،نے بچہ مزدوری کے مسئلہ پر خاموشی کے حوالے سے بتایاکہ واقعی یہ افسوس ناک امر ہے کہ اس جدید دور میں بھی ہمارے یہاںاس اہم اور انسان دوست مسئلہ  پر وہ توجہ نہیں دی جارہی ہے جس کی بہر صورت ضرورت ہےکیونکہ بچپن سے لیکر بلوغت تک بچہ کو بنا نے اور بگاڑ نے کا وقت ہوتاہےاور بچوں کایہی وقت مزدوری کی نذر ہوجاتا ہے۔حیران کُن بات یہ ہے نہ بین الاقوامی سطح پر اور نہ ہی ملکی سطح پر اس مسئلہ کے حل کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جاتے ہیںحالانکہ ہر ملک میں بچہ مزدوری کے خلاف  اپنے اپنےقوانین موجود ہیںلیکن بعض ترقی یافتہ یورپی ممالک میں ہی ان قوانین پر عملدرآمد ہوتا ہے جبکہ دنیا بھر کے زیادہ ترترقی پذیرممالک میں ان قوانین پر عملدآمد ندارد ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر ملکوں میں بچہ مزدوری زور و شور سے جاری ہے اوراس مسئلہ پر بدستورخاموشی چھائی ہوئی ہے۔اقتصادی طور پر کمزوربعض ممالک کے پاس اتنے وسائل بھی موجود نہیں کہ وہ اس مسئلہ کا کوئی ٹھوس حل نکال سکیں۔ستم ظریفی یہ بھی ہے دنیا بھر کے تقریباً سبھی ممالک بچہ مزدوری کو انسانی حقوق کی پامالی کے ساتھ ساتھ غیر اخلاقی کام بھی قرار دے رہے ہیںلیکن اس انسانی حق کو بحال کرنے کے لئے محض بیان بازیاں ،سمینار ،تقریریں ہی کرتے رہتے ہیں،جس کے نتیجے میں قوانین ہوتے ہوئے بھی قوانین کو لاگو نہیں کرتے ہیں اور جہاں جہاں قوانین کا اطلاق ہوتا ہے وہاں وہاں اس پر بھرپور طریقے پر عمل نہیں ہوتا۔حق تو یہی ہےکہ بچہ مزدوری انسانی حقوق کی پامالی ہے اور بچہ مزدوری پر خاموشی بد اخلاقی ہے۔اپنے یہاں تو بچوں کے ساتھ اس طرح کی زیادتی اور ناانصافی طویل عرصہ سے جاری ہے۔ بچوں کے ساتھ یہ زیادتی والدین بھی کرتے ہیں، بھائی بہن بھی کرتے ہیںاور بچوں کے دوسرے رشتہ دار بھی۔ غرباء، امراء غرض جو بھی بچوں کی بلوغت تک پہنچنے سے قبل انہیں مشقت اور مزدوری پر لگائیں یا لگوائیں، وہ واقعی مجرمانہ و غیر اخلاقانہ کام کے مرتکب ہوتےہیں۔شاید اسی لئے بچہ مزدوری کے خلاف قوانین پر عملدرآمد ہونے میں کوتاہی ہورہی ہے؟ہاں! بچوں کے والدین پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مزدوری، محنت مشقت اور غلامی پر لگانے کے بجائے تعلیم سے آراستہ کریں۔ قانون بنانے والے ادارے قانون لاگو کرنے اور کروانے والے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے منصبی ذمہ داریوں کا محاسبہ کریں اور ایماندارانہ طریقے پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے پر برسہا برس سے احتجاج کرنے والے قائدین اُن بچوں کے والدین کی مشکلات کو سمجھنے کے لئے اُن کے قریب جائیں،اُن کے حالات دیکھیں،اُن کی روئیداد سُنیں اور اُن کو درپیش مشکلات کا حل ڈھونڈ نکالنے کی کوشش کریں،اسی طرح ہماری دینی ،سماجی اورعوامی فلاح و بہبودی تنظیمیں کاروباری اداروں، ہوٹلوں،دفاتر،فیکٹریوں، تعمیراتی جگہوں،فُٹ پاتھوں و دیگر مقامات پر جانے کی زحمت گورا کریں اور بچہ مزدوری پر نگاہ ڈالیں ،جائزہ لیںاور پھر بچوں کے ساتھ اس طرح کی زیادتی کرنے والوں کو قانون کےنظروں میںلاکر انہیںسزا دلوائیں۔ نہیں تو قوانین کی موجودگی اور قوانین کے محافظ ہوتے ہوئے بھی بچہ مزدوری کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا بلکہ دن بہ دن بڑھتا ہی چلا جائے گا۔
بلاک لورن جو ضلع ہیڈ کواٹر سے قریب 36کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ یہاں ایک مقامی باشندہ بشیر احمد شیخ جن کی عمر 40سال ہے،ان کا کہناہے کہ لورن ؔمیں اس وقت 60فیصدی بچے مزدوری کرتے ہیں۔غریب والدین مجبوراًان بچوں سے مزدوری کرواتے ہیں۔اسی طرح جموں اور وادی کے بیشتر علاقوں میں بچہ مزدوری کا سلسلہ جاری ہے ۔چنانچہ اپنے یہاں تو موجودہ تعلیمی نظام بھی اس قدر غریب اور لاچارنظر آتا ہےجیسے کہ یہ تعلیمی ادارے ہی بچہ مزدوری کو جنم دے ر ہے ہیں۔ بارہ سال سے اٹھارہ سال تک کے بچے ہماچل پردیش، پنجاب،چندی گڑھ،دہلی، ممبئی،لداخ وغیرہ ریاستوں میں ٹھیکداروں کے ساتھ میٹوں کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کے بہت ہی کم ایسے این جی اوز اور سیاسی و سماجی کارکن ہونگے جنہوں نے اس معاملہ پر عوام کی رائے معلوم کی ہوگی یاان بچوں کو مشقت کرتے دیکھ بچہ مزدوری کے خلاف تحریک چلائی ہوگی، لوگوں کو بیدار کیا ہوگا اور ان بچوں کے تعلیم سے منور کرنے کی فکر کی ہوگی۔جبکہ کبھی بھی کسی سیاسی جماعت نے انتخابات کے دوران بھی اس مدعے کو مقصد بنایاہوگا۔
 ضلع پونچھ کے چپہ چپہ میں بچہ مزدوری عروج پر ہے۔ سیاسی گھرانوں، ٹھیکداروں،سماجی کارکنوں،آفیسران،ڈاکٹر،ملازمین،اساتذہ کے گھروں میں بچوں کو ہی بحیثیت ملازم رکھاگیاہے اور تھوڑی سی اُجرت پران بچوں سے اپنے گھریلو کام کاج کروانےکے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو اسکول تک لے جانے اور لانے کے لئے رکھاگیاہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق یہ سلسلہ جموں اور کشمیر کے دوسرے ضلعوں میں جاری ہے۔امیرگھرانوں کے بچوں کے لئے یہ غریب بچے خدمت گاربنتے ہیںاور بعد میںامیروں کے یہی بچے غریب بچوں کے سروں پر مسلط کردیئےجاتے ہیں۔ ایک دو یا تین کا معاملہ نہیں بلکہ ضلع پونچھ میں ہی لاکھوں بچوں کا مستقبل تاریک ہورہا ہےاور ان کی تمام تر صلاحیتیں، محنت و مشقت پر صرف ہورہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اب تمام سیاسی سماجی قائدین اور سرکاری ایجنسیاں اپنے منصبی فرائض کو سمجھتے ہوے بچہ مزدوری پر اپنی خاموشی توڑیں۔
 ملک کے آئین نے بچہ مزدوری پر روک لگانے اور محنت مشقت یاغلامی کروانے والوں کے لئے جو قوانین مرتب کئے ہیں۔ان کو عملاکر ضلع پونچھ سے بچہ مزدوری کو جڑ سے ختم کرنے کا عزم مسلّم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کسی ایک انسان کا نہیں بلکہ ہم سب کا اجتماعی فرض ہے کہ امیروں کی غلامی سے غریبوں کے بچوں کو نجات دلوائیں۔سب مل جل کر ہر ایک اپنا اپنا فرض نبھائیںاور کوشش کریں کہ مستحق اور غریب بچوں جو کہ مزدوری کرنے پر مجبور ہیں ،اُن کی مالی اور اخلاقی اعانت کریں۔اگر ہم سب اس نیک کام میں حصہ دار بنیں گے تو وہ وقت دور نہیںہوگا، جب غریبوں کے بچے بھی مزدوری سے نجات پاکر تعلیم کی طرف راغب ہونگے۔یاد رکھئے کہ کسی بھی ملک اور سماج کی ترقی اس میں رہنے والے بچوں کے بہتر مستقبل سے ہوتی ہے۔ اگر بچہ تعلیم حاصل کرنے کی جگہ مزدوری کرے گا تو ایک خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرے کا تصور بھی مشکل ہی نہیں بلکہ ممکن ثابت ہو سکتا ہے۔
رابطہ۔ منڈی پونچھ 
 

تازہ ترین