تازہ ترین

دل کی دوری ختم ہوسکی نہ دلی کی دوری کم ہوئی

۔5اگست کو کشمیریوں کا بھروسہ توڑا گیا،نتائج سب کے سامنے: ڈاکٹر فاروق

تاریخ    26 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


عشرت حسین بٹ
منڈی(پونچھ)//نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جب تک نئی دلی اور جموںوکشمیر کے درمیان اعتماد بحال نہیں ہوگا اُس وقت تک یہاں کے حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔ منڈی پونچھ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’24جون کو جب وزیر اعظم ہند نے کُل جماعتی میٹنگ طلب کی تھی، میں نے اُسی وقت وزیر عظم سے کہا  تھاکہ ’آپ کو ہم پر اعتماد نہیں اور ہم کو آپ پر اعتماد نہیں‘ اور جب تک اس اعتماد کو بحال نہیں کیا جاتا اُس وقت تک ریاست میں کبھی بھی امن نہیں آئے گاا ور وزیر اعظم نے اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ’’دل کی دوری اور دلی کی دوری ‘‘کو ختم کرنے کی ضرورت ہے لیکن آج اتنے ماہ گذرنے کے بعد بھی اس سمت میں کوئی اقدام نہیں اُٹھایا گیا، نہ دل کی دوری ختم ہوسکی اور نہ دلی کی دوری کم ہوئی‘‘۔انہوں نے کہا’’یہاں منتری بھیجے گئے لیکن وہ دکھاوا ہی ثابت ہوا اور ان وزراء کا یہاں آنے سے زمینی سطح پر کوئی فرق نہیں پڑا‘‘۔
انہوں نے کہا کہ دفعہ370اور 35اے کے خاتمے کے بعد مرکزی حکومت نے دعوے کئے تھے کہ تمام مسائل ختم ہوگئے ہیں اور اب آتنکواد ( دہشت گردی)کیلئے کوئی جگہ نہیں لیکن آج’ آتنکواد‘ اتنا بڑھ گیا ہے کہ اس کو ختم کرنا انتہائی مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا’’مرکز نے 9اگست2019کو جموں وکشمیر کے لوگوں کیساتھ جو’ وشواس گھات‘ کیا اُس کا خمیازہ آج یہاں کے لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک آپ یہاں کے ہندئوں، مسلمانوں، سکھوں اور بودھوں کیساتھ انصاف نہیں کریں گے تب تک یہاں حالات کے سدھار کا کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ370اور 35اے، ہمیں مشروط الحاق کی بنیاد پر ملے تھے اور ملک کی سب سے بڑی عدالت نے دو بار دفعہ370کو مستقل قرار دیا اور کہا کہ یہ دفعہ عارضی نہیں لیکن بھاجپا نے اپنے ایجنڈا کے تحت اس کو ختم کردیا اور نتیجہ سب کے سامنے ہے، جس امن کے قیام کے دعوے کئے جارہے تھے وہ کہیں موجود نہیں ، آج وزیر داخلہ امیت شاہ بھی سرینگر یہی دیکھنے آئے ہیں کہ امن کیسے قائم ہوگا۔
امن و امان کیلئے پاکستان کیساتھ بات چیت کو ضروری قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کو پاکستان کیساتھ مل بیٹھ کر حل نہیں کیا جائے گا اُس وقت تک امن نہیں آئے گا۔ اس سے پہلے کہ جنگ کی صورت حال پیدا ہوجائے اس مسئلے کو سلجھانے میں ہی عقلمندی ہے اور یہی ایک واحد راستہ ہے۔عوام کو تقسیمی عناصر سے ہوشیار کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ ہر علاقے میں ایسے افوا باز رکھے گئے ہیں جو نفرتیں پھیلانے کا کام کررہے ہیں،یہ عناصر ہند کو مسلمان سے ، گوجر کو پہاڑی سے، شیعہ کو سنی سے، بریلوی کو دیوبندی سے الگ کررہے ہیں، ایسی سازشوں کا مل کر مقابلہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔