تازہ ترین

بھٹہ دھوریاں میں 11ویں روز بھی فائرنگ

سیکورٹی فورسز کی ممکنہ ٹھکانوں کی طرف پیش قدمی

تاریخ    26 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


سمت بھارگو+جاوید اقبال
راجوری +مینڈھر //بھٹہ دھوریاں مینڈھر میں پیر کے روز 11ویں دن بھی فوج اور جنگجوئوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ پیر کی صبح وقفے وقفے سے فائرنگ کے درمیان مذکورہ تصادم مسلسل گیارہویں دن میں داخل ہوا۔یہ مقابلہ گزشتہ ہفتے جمعرات کو شروع ہوا جب فورسز نے بھٹہ دھوریاں کے نار جنگلات میںمحاصرہ اور تلاشی آپریشن شروع کیا اور عسکریت پسندوں نے فوج کی ٹیم پر فائرنگ کی جس میں فوج کے دو اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ دو لاپتہ ہوگئے جن کی لاشیں دو دن بعد جنگل سے نکال لی گئیں۔گزشتہ گیارہ دنوں سے اس علاقے میں انکائونٹر اور انسداد عسکریت پسندی آپریشن جاری ہے جس میں اتوار کے روز کوٹ بلوال جیل میں بندپاکستانی عسکریت پسند ضیا مصطفی مارا گیا ، جس کو پولیس ریمانڈ پر جیل سے بھٹہ دھوریاں لایا گیا تھا تاکہ جنگجوئوں کے ممکنہ ٹھکانوں کی نشاندہی کی جاسکے۔اس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں وہ ہلاک ہوا جبکہ دو پولیس اور ایک فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔پیر کو ، گیارہویں دن صبح سویرے شروع ہونے والی شدید فائرنگ کا سلسلہ دوپہرتک جاری رہا۔بھٹہ دھویاں، نار، سنجیویٹ کا پورا علاقہ گھیرے میں ہے اورعسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن  میں سرعت لائی گئی ہے۔
 
 

پلوامہ کی تین بستیوں کا 13گھنٹے تک محاصرہ 

پلوامہ/شاہد ٹاک/ پلوامہ کی تین بستیوں میں پیر کے روز شدید سردی کے باوجود محاصرے  کے دوران تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی۔تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔محاصرے کے دوران گھر گھر تلاشی اور لوگوں کی نگرانی کیلئے فضاء میں ڈرونز کا بھی استعمال بھی کیا گیا۔ تاہم بعد دوپہر محاصرہ ختم کردیا گیا۔جنگجوئوں کی موجودگی کے بارے میں اطلاع ملنے کے بعد55آر آر اور 182بٹالین سی آر پی ایف کی مدد سے پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے اشمندر ، منگہامہ اور سرنو کے راتھر محلہ کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی عمل میں لائی۔مقامی لوگوں کے مطابق رات کے دو بجے سے شروع کئے گئے اس جنگجوں مخالف آپریشن کو دوپہر تین بجے ختم کرلیا گیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ دوران تلاشی کسی بھی نوجوان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔