تازہ ترین

بات پاکستان سے نہیں نوجوانوں سے ہوگی

’تین خاندان‘ 7 دہائیوں میں جموں و کشمیر کی ترقی میں ناکامی کے ذمہ دار

تاریخ    26 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی+اشرف چراغ

۔  9اگست کے بعد کرفیو کا نفاذ نوجوانوں کو بچانے کیلئے کیا گیا، ترقی کا دور شروع ہوا ، کوئی روک نہیں سکتا،جو حق ہے وہ  2024تک ملے گا:وزیر داخلہ

 
سرینگر//مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا  ہے کہ مرکزی حکومت پاکستان سے نہیں بلکہ کشمیریوں سے بات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں پاکستان اور حریت کانفرنس سے بات چیت کی وکالت کرنے والوں نے کبھی بھی 'دہشت گردی' کے خلاف زبان نہیں کھولی۔وزیر داخلہ ، جو جموں و کشمیر کے دورے پر ہیں ،نے کئی ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور کچھ کا سنگ بنیاد رکھا۔شاہ نے یہاں ایس کے آئی سی سی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’میں نے اخبارات میں پڑھا کہ فاروق عبداللہ نے تجویز دی ہے کہ حکومت پاکستان سے بات کی جائے، اسے اپنی رائے کا حق ہے لیکن ہم کشمیری نوجوانوں سے بات کریں گے‘‘۔انہوں نے کہا ، "آرٹیکل 370 کی منسوخی کا ایک ہی ارادہ تھا ،کشمیر ، جموں اور لداخ یونین ٹیریٹرکو ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے،آپ 2024 تک ہماری کوششوں کے ثمرات دیکھیں گے‘‘۔شاہ نے بمنہ میں 500 بستروں پر مشتمل ہسپتال کا افتتاح کیا ، جو 115 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوا ، ہندواڑہ میڈیکل کالج کا سنگ بنیاد رکھا ، ضلع بارہمولہ میں فیروز پور نالے پر 46 کروڑ روپے کا سٹیل گاڈر پل اور 4000  کروڑروپے مالیت کے سڑکوں کے منصوبے بھی شامل ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ جو لوگ اسلام آباد اور علیحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کی وکالت کرتے ہیں، ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ پاکستان نے( مقبوضہ کشمیر (میں کیا کیا ہے۔انہوں نے کہا، "اس طرف اور پی او کے کے درمیان ترقی کا موازنہ کریں، کیا ان کے پاس بجلی، سڑکیں، صحت کی دیکھ بھال اور بیت الخلا ہیں؟ ،دوسری طرف کچھ بھی نہیں ہے۔کشمیریوںکو کسی دوسرے ہندوستانی کی طرح ہی حقوق حاصل ہیں۔‘‘انہوں نے کانگریس ، نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا نام لیے بغیر کہا کہ تین میڈیکل کالج "تین خاندانوں نے بنائے ، جنہوں نے جموں و کشمیر پر حکومت کی ہے، وزیر اعظم نریندر مودی نے7 نئے میڈیکل کالجوں کو یقینی بنایا ‘‘۔انہوں نے کہا’’پہلے، 500 نوجوان ڈاکٹر بن سکتے تھے، اب ان نئے میڈیکل کالجوں سے 2,000 نوجوان ڈاکٹر بن سکتے ہیں، کسی کو بھی طب کی تعلیم کے لیے پاکستان جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔شاہ نے کہا کہ مودی حکومت کی اسکیمیں اور منصوبے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جموں و کشمیر ملک کا سب سے ترقی یافتہ صوبہ ہوگا۔انہوں نے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے عوام سے تعاون طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف جموں و کشمیر کے نوجوان ہیں جو اس کو حاصل کرنے کی سمت کام کر سکتے ہیں۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حکومت جموں و کشمیر سے دہشت گردی کا صفایا کرنے اور شہری ہلاکتوں کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ شاہ نے کہا کہ کسی کو بھی مرکز کے زیر انتظام علاقے میں امن اور ترقی میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ، جو وزیر اعظم مودی کے دل میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد انٹرنیٹ خدمات پر پابندیوں اور کرفیو کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ "کچھ لوگوں نے عوام کو گمراہ کیا ہوگا، کون کشمیری نوجوان مارا گیا ہوگا؟ ، ہم جانتے ہیں کہ جوان بیٹے کا تابوت بوڑھے آدمی کے لیے کتنا بھاری  ہوتاہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں کرفیو کیوں لگایا گیا اور انٹرنیٹ کیوں بند کیا گیا، میں آج جواب دیتا ہوں، یہ ہمارے نوجوانوں کی جان بچانے اور انکی حفاظت کے لیے کیا گیا تھا، ہم نہیں چاہتے تھے کہ مفاد پرست اور امن دشمن عناصر حالات کا فائدہ اٹھائیں اور نوجوانوں کو گولیاں کھانے کیلئے سڑکوں پر دھکیل دیں‘‘۔انہوں نے کہا: 'تین خاندان کے لوگ سمجھے یا نہ سمجھے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ایک بوڑھے والد کے لئے ایک نوجوان بیٹے کی میت کا بوجھ کتنا بھاری ہوتا ہے۔ آپ کے رہتے ہوئے وادی میں چالیس ہزار لوگ مارے گئے۔ ہم کسی کو مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہاں پر جو امن اور چین قائم ہوا ہے وہ برقرار رہے گا'‘‘۔انہوں نے کہا کہ "اتنے لوگ جنگوں میں بھی نہیں مرتے، ہمیں واپس آنا ہے اور کشمیر کو ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جانا ہے‘‘۔وزیر نے کہا کہ 12000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری پہلے ہی آچکی ہے اور حکومت 2022 کے اختتام تک مقامی نوجوانوں کو پانچ لاکھ نوکریاں فراہم کرنے کے لیے کل 51 ہزارکروڑ روپے کا ہدف رکھتی ہے۔شاہ نے کہا کہ "تین خاندان" گزشتہ سات دہائیوں میں جموں و کشمیر کی ترقی میں ناکامی کے لیے لوگوں کے سامنے جوابدہ ہیں۔جموں و کشمیر میں مودی کی قیادت میں ترقی کا نیا مرحلہ شروع ہو چکا ہے لیکن دشمن عناصر کی طرف سے رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میں یہاں آپ کو یقین دلانے آیا ہوں کہ کوئی بھی رکاوٹ پیدا نہیں کر سکے گا تاکہ امن و ترقی میں خلل ڈالے۔انہوں نے کہا کہ ترقی کا نیا دور شروع ہوا ہے اور اسے کوئی روک نہیں سکتا۔مرکز میں بی جے پی کی حکومت کے قیام کے بعد حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کی فہرست دیتے ہوئے شاہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں پانچ لاکھ نوکریاں پیدا ہو رہی ہیں ، جبکہ گزشتہ دو سالوں میں 20 ہزارافراد کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔"تینوں خاندان کہتے تھے کہ کون آئے گا اور جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کرے گا،نئی صنعتی پالیسی کا اعلان کرنے کے صرف چھ ماہ میں، ہم نے جموں میں 7000 کروڑ روپے اور کشمیر میں 6000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ وزیر نے کہا کہ 2022 کے آخر تک 50,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو آگے بڑھانا ہے۔انہوں نے "تین خاندانوں" کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ پوچھ رہے ہیں کہ حکومت جموں و کشمیر کو کیا دے گی۔" جموں و کشمیر کو جو کچھ دیا گیا ہے اس کی ایک لمبی فہرست ہے اور لوگ اسے اچھی طرح جانتے ہیں لیکن عوام ان سے جواب مانگ رہے ہیں کہ پچھلی سات دہائیوں سے سابقہ ریاست پر حکومت کرنے کے باوجود انہوں نے جموں و کشمیر کو کیا دیا ۔ آپ نے اپنے خاندان کے افراد کے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچا؟"‘‘۔
 
 

صوفی بزرگوں سے ملاقات

نیوز ڈیسک
 
سرینگر //مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو کہا کہ صوفی ازم ہندوستان کے بھرپور ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔ شاہ، جو جموں و کشمیر کے تین روزہ دورے پر ہیں، نے یہاں صوفیوں اور سنتوں سے ملاقات کی۔انہوں نے ہندی میں ٹویٹ کیا، "کشمیر ہندوستان کے امیر ورثے کا مرکزی نقطہ آغاز سے رہا ہے۔ صوفی کلچر بھی اس دولت کا حصہ ہے جو امن اور لبرل ازم کا مجسمہ ہے۔انہوں نے مزید کہا ، "آج ، میں نے سری نگر میں صوفی سنتوں سے ملاقات کی اور کشمیر میں امن اور بقائے باہمی کے قیام کے لیے تفصیلی گفتگو کی۔
 

 کھیربھوانی مندر میں حاضری دی

ارشاد احمد
 
گاندربل//وزیر داخلہ نے پیر کے روز تولہ مولہ میں واقع کھیربھوانی مندر میں حاضری دی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا بھی تھے۔وزیر داخلہ بذریعہ ہیلی کاپٹر قمریہ اسٹیڈیم میں اترے جہاں سے وہ گاڑیوں کے قافلے میں کھیر بھوانیروانہ ہوئے۔ قمریہ اسٹیڈیم سے لے کر کھیر بھوانی مندر تک سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، اور کسی بھی پیدل یا گاڑی میںچلنے کی اجازت نہیں تھی۔ انہوں نے کھیر بھوانی میںپوجا پاٹ کی اور و مختصر وقت تک مندر کے احاطے میں موجود رہے۔انہوں نے پوجا پاٹ کے دوران کشمیرمیں امن و شانتی کے لئے دعائیں کیں۔