تازہ ترین

علامہ شبلی نعمانی کامذہبی فہم

تاریخی دلایل

تاریخ    26 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹرامتیازعبدالقادر،بارہمولہ
علامہ شبلیؔ ایک نابغہ تھے۔ان کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ وہ بڑی خوبصورتی اورنزاکت سے اپنے مقصد کواس طرح پیش کرتے ہیں کہ زبان میں مولویانہ یاواعظانہ انداز پیدا نہیں ہوتا بلکہ ان کامحققانہ انداز برابر باقی رہتاہے ۔ مولاناکے قلم میں ایک توازن ہے۔ وہ اپنوںکے بارے میں لکھ رہے ہوں یامغربی مستشرقین کے بارے میں،کسی اعتراض کاجواب دے رہے ہوں یااس پرخود اعتراض کررہے ہوں، وہ اعتدال کادامن ہاتھ سے نہیںجانے دیتے۔ ان کے ’مقالات‘ میںسنجیدگی اوررکھ رکھاؤ برابرنظرآتاہے اورکہیں جذباتی ہوئے نہیںنظرآتے بلکہ جوکچھ کہتے ،بڑے اعتماد ،وثوق اورتحقیق کے ساتھ ہی کہتے ہیں۔
مقالات کی پہلی جلد’مذہبی معاملات ‘پرمشتمل ہے۔ان مقالات میںکچھ تو ایسے ہیں، جن میںیورپ کے مستشرقین کے اعتراضات کاجواب دیا گیا ہے اورکچھ ایسے مقالات بھی ہیں جن میںاپنوںکی بعض غلط فہمیوں کے ازالہ کی کوشش کی گئی ہے ۔ ’علوم القرآن‘کے عنوان سے ایک مقالہ علامہ مرحوم نے بڑی تحقیق سے تحریر کیا۔ اس کوپڑھ کراندازہ ہوتاہے کہ اسلاف کتنی عرق ریزی سے کام کرتے تھے کہ قرآن کریم کی ایک ایک باریکی اورنقطہ پرصفحات لکھ ڈالے تھے اور اس کے اعجاز پربڑی بڑی ضخیم کتابیں ملتی ہیں۔ جاحظؔ نے تیسری صدی ہجری میںاس موضوع پرقلم اُٹھایا۔ بعدازاں محمد بن فریدواسطی ، عبدالقاہر جرجانی، خطابی ، ابن سراقہ اورقاضی ابوبکر باقلانیؔ وغیرہ نے بسیط اورمفصل کتابیںلکھی ہیں۔ان بزرگوں کے کارنامے کوبھی اس طرف توجہ دلاتے ہیں۔ 
’’تعددازدواج‘‘ پرہمیشہ بحث ہوتی چلی آئی ہے۔بہت سے اہل ہوس توقرآن کریم کی آیت کے ایک حصہ کواپنے لئے کافی سمجھ کر ہمیشہ دوسرے حصہ کوچھوڑدیتے ہیں اوریوںعدل سے دور رہتے ہیں۔علامہ ؔ نے اس مسٔلے پربڑے احتیاط سے قلم اُٹھایا ہے اورقرآن کے صحیح مفہوم کوسمجھانے کی کوشش کی ہے اور عدل پرباربار زوردیاہے۔ چنانچہ علامہ نے اس سلسلے میںخلیفہ منصور کی مثال پیش کی ہے کہ جب خلیفہ کاارادہ دوسری شادی کرنے کا ہواتو اس کی بیوی اس پرمعترض ہوئی۔ چنانچہ خلیفۂ وقت نے اس معاملے میںامام ابوحنیفہ ؒسے استفسار کیا کہ مسلمانوں کے لئے کتنی بیویاںجائزہیں۔ امام صاحب نے فرمایا:چار۔ خلیفہ نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور کہا کہ امام صاحب کی رائے سن لی ۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ نے فوراً فرمایا ،لیکن خلیفہ منصور کے لئے ایک سے زیا دہ شادی جائز نہیں۔ خلیفہ نے معلوم کیاکہ کیوں؟ امام صاحب نے فرمایا ’ تم نے جس اندازسے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اورجس طرح گفتگو کی ،اُس سے میں قیاس کرتاہوں کہ تم اُس کے ساتھ عدل نہیںکرتے۔ اس لئے میں حکم دیتا ہوں کہ تم اسی ایک بیوی پرقناعت کرو۔‘اس مثال کوعلامہ اس لئے پیش کرتے ہیں کہ ایک عام انسان توکیا،اگرخلیفہ وقت بھی اس شرط کوپورانہیںکرتا جسے قرآن کریم نے ضروری قراردیاہے توپھر اس کے لئے حدسے تجارز کرناجائز نہیں۔
عورتوں کے لئے پردہ کاموضوع ایسا ہے، جس پرپہلے بھی اعتراضات کئے جاتے تھے اورآج کل بھی اس پر تنقیص کی جاتی ہے۔ جدیدتعلیم یافتہ طبقہ بھی وہی باتیں کہنے لگاہے جوکچھ اہل یورپ کی طرف سے سامنے آتی تھیں۔ ۱۸۹۹ء؁ میںرسالہ ’’نائن ٹیٹھ سنچری‘‘ میںسیدامیرعلی کاایک مضمون شائع ہوا ۔ اس میںانہوںنے دعویٰ کیا کہ مسلمان عورتوں میںمروج پردہ کاخلفاء کے زمانے میںکہیںنام و نشان نہ تھا بلکہ اس کے برعکس اعلیٰ طبقے کی عورتیں بلا برقع کے مردوں کے سامنے آتی تھیں۔ اس کارواج ساتویں صدی ہجری سے ہواہے، جب خلافت اسلامی کمزورہوگئی تھی اور تاتاریوں نے اسلامی حکومت کودرہم برہم کرایاتھا ۔ علامہ شبلی ؔ نے اس مضمون کانوٹس لیا اور’’پردہ اوراسلام‘ ‘کے عنوان سے اس کے رد میں ایک مضمون لکھا۔ اس مضمون کاآغاز وہ یوں کرتے ہیں:
’’یورپ کی عامیانہ تقلید نے ملک میں جونئے مباحث پیداکردیے ہیں، ان میںایک مسٔلہ یہ بھی ہے ۔اگراس مسٔلہ پرصرف عقلی پہلو سے بحث کی جاتی تو ہم کودخل درمعقولات کی کوئی صورت نہ تھی لیکن ساتھ ہی یہ دعویٰ کیاجاتاہے خودمذہب اسلام میںپردہ کاحکم نہیں اوراس سے بڑھ کر یہ کہ قرون اولیٰ میں پردہ کارواج بھی نہ تھا۔‘‘
آگے مولانا نے مفصل بحث کرتے ہوئے ثابت کیاہے کہ عرب میںاسلام سے پہلے بھی پردہ کا رواج تھا۔ اسلام نے اس میں بعض اصلاحات کیں۔ قرآن وحدیث میںاس کے احکام دیے گئے اورمسلمانوں نے ان کے مطابق عمل کیا۔ اس لئے یہ کہناصحیح نہیںکہ یہ بعد کے دورکی ایجادہے۔ 
شبلی ؔ کے تاریخ نویسانہ تناظرمیں خاص طور پرحساس موضوع جس پر عذرخواہانہ ارتکازنظرآتاہے، وہ غیر مسلم باشندوں سے سلوک کاہے۔ انہوںنے اسلامی حکومت کے تحت غیرمسلموں کے تحفظ کے نظریہ کے نشوونما کا ۶۲۹ء کے ’’صلح نامہ نجران‘ ‘سے کیاہے۔ جس میں اسلامی ریاست اوراس کی غیرمسلم رعایا کے مابین حقوق اوراخلاقی ذمہ داریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مثلاً بیرونی حملہ آوروں سے ان کی حفاظت ،ان کی مذہبی رسومات اوران کے قسیس کے افعال میں غیرمداخلت،ان کے جان ومال اورتجارتی مفاہمت کی حفاظت کی ضمانت اورزمین کا محصول معاف کرکے جزیہ کی وصولیابی بعدمیں جومسلمان حکمرانوں نے جوامتیازی قانون یا دستورجاری کیے یافقہاء اورسیاسی مفکرین نے جوسفارشات پیش کیں وہ محض ذاتی نوعیت کی تھیں۔ بہرحال تاریخ اسلام میں قانونِ فوجداری مسلم وغیرمسلم دونوں کے لئے یکساںہی رہا ۔کسی غیر مسلم کی غیرمنقولہ جائدادکاکسی مسلمان کاخریدنا یا اپنے قبضہ میںلے لینا حضرت عمرؓ نے اپنے دور میںناجائز ہی رکھا اوراس عمل کے اجراء میں نجران کے صلح نامہ کی روایت اوررُوح کارفرما تھی۔ اس حکمت عملی کے جواز کے متعلق علامہ شبلی کااستدلال یہ ہے کہ اس کی قانونی حیثیت امام ابویوسف ؒ کے اس فتویٰ سے مسلّم ہوگئی کہ مسلمان حکمران ذمیوں کوان کی زمین سے بے دخل نہیں کرسکتے اورجب کبھی اس اصول سے انحراف کیاگیا تو اس پرسخت محاکمہ کیاجاتا۔
مغربی مؤرخین کے اس الزام کے خلاف کہ عیسائیوں کونئے گرجے بنانے کی اجازت نہیںتھی ۔شبلیؔ کاکہنا یہ ہے کہ عبداللہ بن عباسؓ کی شہادت کے مطابق یہ پابندی پہلے محدود تھی اورمحض ایسے مسلم شہروں سے متعلق تھی جومسلمانوں کی نوآبادیاں تھیں،مثلاً کوفہ،جہاں سرے سے کوئی غیرمسلم موجودنہیں تھا اوریہی وہ بستیاں تھیں جہاںعیسائیوںکونئے گرجا بنانے کی اجازت نہیںتھی ۔دمشق میںجہاں عیسائیوں سے معاہدے ہوچکے تھے،وہاںمذہبی آزادی کی جوضمانت دی گئی تھی ،اس کاپورااحترام مدنظر ہوتاتھا ۔بعد میںعیسائیوں کوخالص اسلامی شہروں مثلاً قاہرہ میںنئے گرجے بنانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔
شبلیؔ اس تاریخی حقیقت ِثابتہ کوبطور عملی حقیقت تسلیم کرتے ہیں کہ تاریخ میں کسی سلطنت میںمحکوموںکوحاکموں کے مساوی حقوق کبھی نصیب نہیںہوئے۔ اسلام سے پہلے کی تہذیبوں میںمفتوح اقوام کے ساتھ جانوروں کاساسلوک روارکھاجاتاتھا اوراسلامی حکومت کویہ برتری اورامتیازحاصل تھی کہ وہ مقابلتاًزیادہ رواداری اوریک جہتی کی قائل تھی ۔ امتیازی لباس یاپست درجہ کے متعلق جوقانونی تحریریںملتی ہیں،ان کے متعلق شبلی ؔ کی یہ رائے ہے کہ وہ خلیفہ المتوکل ؔ (۸۴۷۔۸۶۱ء) کی مذہبی حکمت عملیوں کے منصوبوں کے تحت وجودمیں آئیں، جنہوںنے عقلیت پسند معتزلیوں کوبھی سزائیںدیں۔ لہٰذا  اصولی طورپروہ اسلامی نہیںہے۔ 
بنی امیہ اوربنی عباس کے زمانے میں نامور یہودی اورعیسائی دانشوروں یاعمّال سلطنت کی جوسرپرستی کی جاتی تھی اوراعلیٰ مناصب عطاکیے جاتے تھے، وہ ان مراتب اورتوقیر سے بدرجہا برتر اور بہتر تھے،جویورپی نوآبادیوں کی انتظامی حکومتیںمقامی قوموں کے ممتاز افرادکے ساتھ روارکھتی تھیں۔
معترضین اکثر یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اسلام جمہوریت کاقائل نہیں اورجمہوری دنیامیں ذمّی بنانے کا مسٔلہ مضحکہ خیز ہے ۔ علامہ شبلی ؔ کامقالہ ’’حقوق الزمّیین‘‘اُس دور کے اورمعاصر تمام جمہوریت پسندحکومتوں کے لئے ایک چلینج معلوم ہوتاہے ۔یہ نام نہادجمہوریت پسندصرف لفظاً مساوات کی رَٹ لگائے ہوئے ہیں عملاً افلاس اورحق تلفی نے لوگوں کی کمر توڑدی ہے۔ ضروریات زندگی عنقا ہوکررہ گئی ہیں۔ اقلیتوں کے ساتھ جوسلوک روارکھاجارہاہے وہ اظہرمن الشّمس ہے۔برعکس اس کے اسلام غیرمسلم ملک کے شہری کوذمی بنا کر اپنی آغوش امن میں لے لیتاہے ۔ ان کی جان ومال کا اسی طرح محافظ بن جاتاہے جس طرح ایک مسلمان کی حفاظت کاذمہ لیتاہے۔ ان کی تعلیم،روٹی ،کپڑا اور طبی امداد وغیرہ کاانتظام کرتاہے۔علامہ شبلی ؔ حضرت عمرؓ کی مثال پیش کرتے ہیں کہ اگرچہ ایک ذمی نے اُن کوشہیدکیا لیکن بھربھی وفات کے وقت اُنہوںنے تین نہایت ضروری وصیتیں کیں،ان میںسے ایک یہ تھی ،’’کہ ذمیوں کے ساتھ جوقرارہیں،وہ پورے کیے جائیں۔ ان کی طاقت سے زیادہ کام ان سے نہ لیاجائے۔ اور ان کے دشمنوں کے مقابلہ ان کی طرف سے لڑائی کی جائے‘‘۔
آج بھی جمہوریت کانعرہ بلند کرنے والی حکومتیں اپنی خاص خاص اسامیوں پر دوسرے فرقوں کے لوگوں کاتقررنہیںکرتیں لیکن اسلام اورمسلمانوں کی وسیع القلبی یہ ہے کہ حضرت امیرمعاویہ ؓ نے ابن آثال،جوکہ عیسائی تھا،کوحمص کافنانشل کمشنر اور حاکم مقررکیا۔عبدالملک بن مروان کاچیف سیکریٹری ابن سرجون نامی ایک عیسائی تھا۔ ہندوستان پہنچ کرتو اسلام نے اپنی وسعت قلبی کی انتہا کردی کہ غیرمسلموں کوملک کی افواج میںبڑے بڑے عہدوںپرمامور کیا۔ 
آخر میں علامہ شبلی ؔ جزیہ کا اخلاقی جوازپیش کرتے ہیں کہ آبادی کے وہ افراد جو سلطنت کی مدافعت میںعسکری خدمات انجام نہیںدیتے اور برائے نام مالی مددکرتے ہیں ،وہ مسلمانوں ہی کی طرح رفاہِ عامہ کے اداروں سے مستفید ہوتے ہیں۔ مزیدبراں غیرمسلم زکوٰۃ سے بھی فائدہ اُٹھاتے ہیں، جوصرف مسلمان ادا کرتے ہیں لیکن جس سے بقول امام ابویوسفؒ حضرت عمر ؓ نے عیسائیوں اوریہودیوں کوبھی حصہ پانے کاحق دارقراردیاتھا ۔
�������
 

تازہ ترین