تازہ ترین

سرما کی دستک اور بجلی گُل

یا الٰہی آخر یہ ماجرا کیا ہے؟

تاریخ    26 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


  بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا،محکمہ بجلی کے عزائم بھانپتے ہوئے کشمیرعظمیٰ نے صارفین کو پیشگی خبردار کیا تھاکہ آنے والے دنوں میں بجلی کا بحران اپنی انتہا کو پہنچے گااور آج وہی ہورہا ہے۔جوں جوں سردی بڑھنے لگی ،بجلی شیڈول میں غیر اعلانیہ کٹوتی بھی بڑھتی گئی۔شمال و جنوب میں بجلی کی ہاہار کار کو دیکھتے ہوئے جب ارباب اختیار کی جانب سے محکمہ بجلی کو کٹوتی شیڈول پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایت تو دی گئی تھی لیکن وادی کو اندھیروں کے سپرد کرنے کا بندوبست کیاجارہا ہے ۔ مصدقہ اخباری اطلاعات کے مطابق محکمہ بجلی ایک کٹوتی شیڈول ترتیب دے رہا ہے جس کے مطابق وادی کے غیر میٹر یافتہ علاقوں میں روزانہ9گھنٹوں کی کٹوتی ہوگی جس کا مطلب یہ ہے کہ غیر میٹر یافتہ علاقوں میں ہفتے میں63گھنٹے بجلی شیڈول کے مطابق غائب رہے گی تاہم غیر اعلانیہ کٹوتی اس کے علاوہ ہے اور دیہی علاقوں میں غیر اعلانیہ کٹوتی کا یہ عالم ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ بجلی کب آتی ہے اور کب جاتی ہے ۔اب جہاں تک میٹر یافتہ علاقوں کا تعلق ہے تو وہاں بھی بجلی کٹوتی کے حوالے سے ماضی کے تمام ریکارڈ مات کردئے گئے ہیں۔زیر ترتیب کٹوتی شیڈول کے مطابق میٹر یافتہ علاقوں میںروزانہ5گھنٹے بجلی گل رہے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ ہفتے میں 35گھنٹے بجلی نہیں رہے گی ۔یہاں بھی غیر اعلانیہ کٹوتی کا کوئی ذکر نہیں کیاگیا ہے حالانکہ شہر سرینگر سمیت تمام میٹر یافتہ علاقوں میں غیر اعلانیہ کٹوتی شیڈول پر سختی سے عملدر آمد ہورہا ہے ۔گزشتہ برس بھی نومبرمیں ہی محکمہ بجلی نے کٹوتی شیڈول مشتہر کرکے غیر میٹر یافتہ علاقوں میں ہفتے میں 57 اور میٹر یافتہ علاقوںمیں 17گھنٹوں کی کٹوتی کا اعلان کیاگیاتھاتاہم امسال میٹر یافتہ علاقوں میںجہاں کٹوتی شیڈول دوگنا کیاگیا ہے وہیں غیر میٹر یافتہ علاقوں میں بھی اس میں اضافہ کرکے اس بات کو یقینی بنانے کی کو شش کی گئی ہے کہ آنے والے دنوں میں وادی میں اندھیرا قائم رہنا چاہئے کیونکہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو اتنا ظالمانہ کٹوتی شیڈول جاری نہیں کیاجاتا۔اخباری اطلاعات کے مطابق زیر تریب کٹوتی شیڈول میں صبح،شام اور رات کے اوقات کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔جہاں تک عقل و فہم کا تقاضا ہے تو یہ ایسے اوقات ہیں جب صارفین کو بجلی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔شام کے وقت بجلی کا استعمال تو ویسے بھی عام ہے لیکن جب سردی کا موسم ہو تو صبح اور شام کے اوقات پر بجلی کی ضرورت اور زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کی جاتی ہے۔اب اگر اس شیڈول پر بھی عملدرآمد ہوتا تو بجلی کبھی کبھار درشن دیتی لیکن اس کے برعکس غیر اعلانیہ طور اس سے دوگنی کٹوتی کی جاتی ہے اور یوں عملی طور لوگوں کو اندھیروں میں دھکیل دیاجاتا ہے ۔محکمہ بجلی کے نزدیک کٹوتی میں مزید اضافے کا فیصلہ وادی میں بجلی کی طلب اور سپلائی میں بڑھتی خلیج کو پاٹنے کیلئے لیا گیا ہے۔محکمہ بجلی کے حکام کا استدلال ہے کہ وادی میں بجلی کی کھپت اور سپلائی میں کافی تفاوت ہے اور یہ خلیج پاٹنے کیلئے کٹوتی ناگزیر بن چکی ہے ۔غور طلب ہے کہ خلیج پاٹنے کیلئے کٹوتی شیڈول میں غیر میٹر یافتہ صارفین کو نشانہ بنایاجارہا ہے جہاں پہلے سے ہی کٹوتی شیڈول پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوتا ہے۔ وادی میں8لاکھ کے قریب بجلی صارفین میں سے 80فیصد کے قریب صارفین ایسے ہیں جو میٹریافتہ زمرے میں نہیں آرہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ سپلائی اور ڈیمانڈ کے درمیان موجود خلیج کو پُر کرنے کیلئے انہی80 فیصد صارفین کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا۔ صارفین ،جو میٹر یا ایگریمنٹ کے تحت باضابطہ فیس اداکررہے ہیں ،ان کا حق بنتا ہے کہ انہیں بوقت ضرورت وافر مقدار میں بجلی فراہم کی جائے اور سرما سے زیادہ صارفین کو بجلی کی سب سے زیادہ ضرورت کب پڑ سکتی ہے۔مانا کہ بجلی کی چوری بھی ہوتی ہے تاہم بجلی بحران کیلئے خود محکمہ بجلی بھی کم ذمہ دار نہیںہے۔جہاں تک بجلی کے ترسیلی نظام کا تعلق ہے تو یہ حقیقت بھی کسی سے چھپی نہیں ہے کہ ریاست کو صرف ناقص ترسیلی شعبہ کی وجہ سے سالانہ کروڑ وںروپے کے خسارے سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔سروے کے مطابق بجلی کی ترسیل کے دوران بوسیدہ اور ناقص ترسیلی نظام کی وجہ سے اس وقت بھی55فیصد سے زیادہ بجلی ضائع ہوجاتی ہے۔ایسے میں بجلی خسارے اور بجلی بحران کیلئے اکیلے صارفین کو ذمہ دار ٹھہرانا جائز نہیں ہے۔ صارفین پر الزام لگانے کی بجائے محکمہ بجلی کے حکام کو چاہئے کہ وہ اپنے محکمہ کامکمل پوسٹ مارٹم کریں۔اس ضمن میں جہاں محکمہ میں موجود افرادی قوت کو جوابدہ بنانا ناگزیر بن چکا ہے وہیں محکمہ کی مشینری اور ترسیلی نظام کو اپ گریڈ کرنا ضروری ہے۔جب بجلی شعبہ کی زبوں حالی کیلئے خود محکمہ ذمہ دار ہے تو محض بجلی چوری کا بہانہ بنا کر صارفین کو بجلی سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ محکمہ بجلی کے حکام کو اپنے گریبان میں جھانک کر پہلے اپنی خامیوں کو سدھارنا چاہئے،اس کے بعد ہی صارفین کو مورد الزام ٹھہرایا جاسکتا ہے۔اگرحکومت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برت کر ہر سال بجلی کی کمی کا رونا روکر وادی کے سرما کو اندھیروں کے سپرد کرتی رہی تو تعمیر وترقی کے نقوش اُبھرنے کی اُمیدرکھنا عبث ہے اور چراغ تلے اندھیرا کے مصداق شمالی ہندوستان کی بیشتر ریاستوں کو روشن کرنے والے جموں و کشمیر کے عوام کی قسمت میں اندھیروں کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

تازہ ترین