تازہ ترین

موہن بھاگوت کی لوگوں کو اس امر پر سوچنے کی تاکید

اب کیسے کشمیر کلی طور ہندوستان میں مدغم ہو جائے: سوز

تاریخ    22 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


 سر ینگر // سابق مرکزی وزیرپروفیسر سیف الدین سوز نے کہا ہے کہ’’ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے حال ہی میں ناگپور میں کشمیر پر ایک مدلل بیان دیا تھا جس میں اُنہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ آئین کی دفعہ 370 اور 35A کو کالعدم کرنے کے بعد ابھی بہت کچھ کرنا ہے تاکہ کشمیر ہندوستان میں دوسری ریاستوں کی طرح مدغم ہو جائے ۔ ایک بیان کے مطابق پروفیسر سوز نے کہاکہ موہن بھاگوت نے اپنے لوگوں کو اس امر پر سوچنے کیلئے تاکید کی ہے،اسی کے ساتھ اُس نے یہ بھی کہا ہے کہ کشمیر (یعنی ریاست جموںوکشمیر) کے لوگ بنیادی طور پر ہندوستان سے الگ ہو کر آزادی چاہتے ہیں، اسی لئے وہ مکمل ادغام کیلئے رائے مانگتا ہے تاہم بھاگوت جی کو کشمیر کے لوگوں کو کچھ نہیں کہنا ہے کیونکہ اُس کی سوچ کے مطابق کشمیر کے لوگ قانونی باتیں (ٹیکنیکل سوالات) کرتے ہیں۔اس پس منظر میں کشمیر کے لوگوں کو دھیان میں رکھنا ہو گا کہ آر ایس ایس اگلے دنوں میں مکمل ادغام کیلئے اپنے لوگوں کے سامنے کیا تجویز رکھتی ہے۔سوز نے کہاکہ بھاگوت جی کے اس بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آر ایس ایس ہی حکومت ہند کو بتائے گی کہ اب کشمیر میں کیا کچھ کرنا باقی ہے۔سابق مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ چونکہ شری بھاگوت کو تاریخی واقعات کو صحیح طور بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے، اسی لئے اُس نے اُن لوگوں کو کشمیر واپس آنے کیلئے کہا ہے جو بقول اُس کے شیخ محمد عبداللہ نے ریاست سے نکالے تھے۔ بھاگوت جی کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ شیخ محمد عبداللہ کا 8 ستمبر 1982 میں انتقال ہو گیا تھا ۔
 

تازہ ترین