تازہ ترین

وادی میں شبانہ درجہ حرارت میں گراوٹ

آنے والے دنوں میں سردی میں اضافہ کاامکان

تاریخ    22 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر //کشمیر وادی میں شبانہ درجہ حرارت میں آئے دن گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے اور جمعرات کو سرینگر میں رات کا کم سے کم درجہ حرارت 7.2ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔اس دوران محکمہ موسمیات نے کہا کہ جوں جوں دن گزرتے رہیں گے ،درجہ حرارت میں گراوٹ آتی رہے گی۔ محکمہ نے آج رات سے وادی کے موسم میں تبدیلی آنے کا امکان ظاہر کیا ہے ۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج شام سے کشمیر میں مغربی ہوائیں داخل ہوں گی جس کا اثر یہاں پڑے گا ۔محکمہ کے مطابق پیر پنچال کے آر پار بالائی علاقوں میں برف باری اور میدانی علاقوں میں بارشیں ہونے کا امکان ہے ۔محکمہ نے اس تعلق سے 20اکتوبر 2021کوکشمیر ،جموں اورلداخ ڈویژنوں کے صوبائی کمشنروں کے نام ایک موسمیاتی ایڈوائزری ارسال کردی ۔انہوںنے جاری کردہ ایڈوائزری میں تینوں صوبائی کمشنروںکوخبردارکیا ہے کہ مغربی ہوائوں کی غیرمعمولی نقل وحرکت کے باعث جموں وکشمیراورلداخ میں 22اکتوبرکی شام سے 24اکتوبر تک موسم خراب رہے گا جبکہ23اکتوبر کوموسمی صورتحال کچھ زیادہ ابتررہنے کاامکان ہے ۔محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹرکی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہاگیاہے کہ 22،اکتوبر سے24،اکتوبر تک ،خطہ پیرپنچال اورلداخ کے میدانی علاقوں میں ہلکی لیکن بالائی علاقوں واونچے مقامات پردرمیانہ تا بھاری برف باری اورصوبہ جموں کے میدانی علاقوں میں آندھی نماہوائیں چلنے کیساتھ ساتھ گرج چمک کیساتھ موسلاداربارشیں ہونے کاامکان ہے۔اس برف باری سے بالائی علاقوں کو جانے والی سڑکیں بھی کچھ وقت کیلئے متاثر ہو سکتی ہیں ۔برف باری سے قبل ہی جمعرات کو وادی میں موسم ٹھنڈا ہونے لگا ہے اور رات کے کم سے کم درجہ حرارت میں گراواٹ دیکھنے کو ملی ہے ۔بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو سرینگر میں رات کا کم سے کم درجہ حرارت 7.2ڈگری ۔ قاضی گنڈ میں 6.4ڈگری ، پہلگام میں 2.6ڈگری ، اور سیاحتی مقام گلمرگ میں 3.0ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ سرحدی ضلع کپوارہ میں بھی درجہ حرارت میں گراواٹ دیکھنے کو ملی ہے اور وہاں درجہ حرارت 4.6ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں درجہ حرارت میں گراواٹ آئی ہے وہیں جمعرات کو پہلی بار اس موسمی میں صبح کے وقت ہلکی دھند بھی چھائی رہی ،بیشتر سڑکوں پر جمعرات کی صبح گاڑیوں کو ایک بار پھر ہیڈ لائٹ یا فاگ لینس کے سہارے چلتے ہوئے دیکھا گیا۔دھند کا اثر گاڑیوں کی رفتار پر بھی پڑا اور اکثر گاڑیوں کو کچھوے کی رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ دھند ابھی کم تھی ۔
 

تازہ ترین