تازہ ترین

سیرتِ رسول ؐ کے چند پہلو

انسانِ کاملؐ

تاریخ    22 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


سجاد حبیب فلاحی ۔پلہالن
’’اے نبی ، کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے ، اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں ، اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں ، تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے ، اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا‘‘ ۔ (التوبہ24)
مذکورہ بالا آیت نے محبت کی ساری اقسام کو جمع کیا اور یہ فرض قرار دیا کہ اللہ اور اللہ کے رسولؐ کی محبت ہر چیز پر غالب ہونی چاہیے انسان اگر دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب اللہ اور ا للہ کے رسولؐ کو رکھے مگر اپنی ذات کی محبت درمیان میں حائل ہو تب بھی ایمان ناقص اور نا مکمل ہوگا۔امام بخاری نے عبداللہ بن ھشام کی ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک دن ہم نبیؐ کے ساتھ تھے اور آپؐ عمر ؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے ،حضرت عمر ؓنے عرض کیا :یا رسول اللہؐ! بے شک آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میرے نفس کے، تو نبیؐ نے فرمایا:ایسا نہیں،قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے،جب تک میں آپ کے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں،حضرت عمرؓ نے عرض کیا،: بے شک اب تو آپ مجھے میرے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں، نبی کریم ؐ نے فرمایا :ہاں، اب تمہارا ایمان مکمل ہو گیا،اے عمر!لہٰذا خلیفہ ثانی سیدنا عمر نے بصدق دل اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اور نبیؐ کی موجودگی میں اپنے ایمان کو مکمل کردیا،مگر 10 صدیاں گزرنے کے بعد دور حاضر میں رہنے والے مسلمان اولاد،جائیداد،والدین،خواہشات اور دیگر اشیاء کی محبت سے نہیں نکلتے تو اپنی نفس کی محبت سے زیادہ کب حب رسولؐ کو ترجیح دینگے،جبکہ نفس کی محبت سب محبتوں سے عزیز ہوتی ہے ،
  حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہوں ۔
یہاں والد اور اولاد کو ذکر فرمایا، کیوں کہ یہ دونوں دوسروں کے مقابلے میں انسان کو زیادہ محبوب ہوتے ہیں ، اور ان دونوں کی وجہ سے انسان اس دنیا میں جیتااور محنت کرتا ہے، اس لئے دوسری اقسامِ محبت کو چھوڑ کر صرف ان پر اکتفا فرمایا۔ لہٰذا یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مومن پر فرض ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو ہرقسم کی محبت ، اور ہر پسندیدہ چیزکی محبت ، حتی کے اپنے نفس کی محبت پر بھی مقدم رکھے۔محبت کی بہت سی اقسام ہیں، جن میں سے چند مشہور درج ذیل ہیں :
۱۔شفقت و رحمت کی محبت ۔اور یہ باپ کی اپنے بیٹے سے محبت ہے ۔۲۔ تعظیم اور بزرگی کی محبت۔ اور یہ بیٹے کی اپنے باپ سے اور شاگرد کی اپنے استاذ سے محبت ہے ۔۳۔ نفس کی محبت۔اور یہ مرد کی اپنی بیوی سے محبت ہے ۔۴۔ خیر خواہی اور انسانیت کی محبت ۔ اوریہ سب انسانوں کی آپس کی محبت ہے۔۵۔ انانیت کی محبت ۔ اوریہ انسان کی اپنی نفس سے محبت ہے اور یہ ان محبتوں میں سب سے زیادہ مضبوط محبت ہے ، اور یہ ایسی محبت ہے جس کو ازل سے نفس کی سرشت میں رکھا گیا ہے، جیسا کہ دوسری محبتیں اس کی سرشت میں رکھی گئی ہیں ۔                                                                                                                                                                                                                                                                                                        آپ ﷺ سے محبت کرنا بے جا اور بے غرض نہیں کیونکہ انسان جن خوبیوں اور کمالات کی بنا پر آپس میں محبت کرتے ہیں اس اعتبار سے بھی آپؐ کی ذات بدرجہ اولیٰ محبت کی حق دار ہیں امام نوی علیہ رحمہ فرماتے:’’کبھی کسی سے محبت اس لذت کی بنا پر ہوتی ہے جسے انسان کسی کی صورت وآوازیا کھانے وغیرہ میں محسوس کرتاہے،کبھی ان اندورنی خوبیو ں کی بناپرہوتی ہے جسے انسان اپنے شعورکے ذریعہ بزرگوں،اہل علم یاہرقسم کے اہل فضل لوگوں میں محسوس کرتا ہے، اورکبھی محبت اپنے اوپرکئے گئے احسان یا اپنی مشکلات کاازالہ کئے جانے کی بنا پرہوجاتی ہےاوریہ تمام اسباب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں موجودہیں کیونکہ آپ ؐ بیک وقت ہرقسم کے ظاہری وباطنی جمال وکمال اورہرقسم کے فضائل وکردار سے متصف ہیں نیزآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراط مستقیم اوردائمی نعمتوں کی طرف تمام مسلمانوں کی رہنمائی کرکے اور جہنم سے انہیں دورکرکے احسان عظیم کیاہے‘‘۔
کائینات کی کامل اور مکمل کتاب نے آپﷺ کے کاملیت کی تصدیق کی کہ نبی برحق ہی ہے جو کہ آئیڈیل اور نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور قرآن نے آپ ؐ کی زندگی کے ہر پہلو کو قابل تقلید قرار دیا خواہ عبادات ہوں یا معاملات ،اخلاقیات ہوں یا ضروریات زندگی سے متعلق دوسری چیزیں، ہر شعبہ میں آپ ؐ کامل ،مکمل اور ھادئ برحق و رہبرِ کامل نظر آتے ہیں ۔آپ ؐ کے اوصاف کاملہ کے سلسلے میں مفتی احمد عبیداللہ صاحب کی تحریر کا ایک اقتباس نظر سے گزرا وہ لکھتے ہیں:’’ رسول رحمت، سید الاولین والآخرین امام الانبیاء و المرسلین احمد مجتبی محمد مصطفی ؐ کی ذات گرامی ایک ایسی کامل و اکمل اور عظیم ترین شخصیت ہے کہ آپؐ کی جامعیت و کاملیت اور عالمگیریت نے کائنات کے ہرذرے، ہرگوشے اور ہر شعبہ حیات کو متاثر کیا، عبادات ہو یا معاملات، اخلاقیات ہو یا معاشرت، عدالت ہو یا سیاست، ریاستی احکامات ہوں یا سفارتی تعلقات، جنگی تدابیر ہوں یا گھریلو مسائل، تمام میں رسول رحمتؐ کی ذات والا صفات کامل و اکمل نمونہ کے طورپر سامنے آتی ہے، رسول رحمتؐ کی سیرت طیبہ حیاتِ انسانی کے تمام گوشوں پر محیط دکھائی دیتی ہے عہد رسالت سے قبل حیات طیبہ میں ایک امانت دار تاجر، بہترین شوہر، اچھا دوست، یتیموں کا در یتیم، بیواؤں اور مساکین کا غمخوار اور امانت و صداقت کے علمبردار نظر آتا ہے تو وہیں بعثت نبوت کے بعد ایک عظیم الشان داعی، غزوات اور سرایا میں ایک زبردست کمانڈر وسپہ سالار، ریاست مدینہ کا مایہ ناز سربراہ،ایک کامیاب جج، ایک کامیاب معلم، ایک کامیاب رہبر، ایک کامیاب سیاسی قائد کی ذات گرامی دکھائی دیتی ہے۔
آپؐ کی اوصافِ کاملہ کا اعتراف ہر خویش و ناخویش، اپنے ہوں یا پرائے، مسلم ہوں غیر مسلم ہر قوم و ملت کے افراد کو ہے بالخصوص مسلمانان واہلِ ایمان کے لیے آپؐ کی محبت عین ایمان ہے، اپنے محبوب سے محبت والفت کا اظہار ہر لمحہ، ہرآن ، ہروقت اور ہر عمل کے ذریعےہونا چاہیے نہ کہ سال میں ایک دن آپ سے محبت کا اظہار کیا جائےاور وہ بھی غیر مناسب طریقوں سے جو کہ سلف صالحین و اصحاب کرام سے ثابت ہی نہ ہو صراصر ناانصافی اور من مانی ہے، آپ کی ذات اس قدر قابل دید وتقلید ہے کہ ایک لمحہ بھی زندگی سے آپ کی ذات کو اوجھل نہ کیا جانا چاہیے بلکہ ہمارے ہر عمل سے آپ کی محبت چھلکتی نظر آنی چاہیے تب جاکے ہم خود کو محب رسول اور عاشق رسول کہہ سکتے ہیں۔ علامہ اقبال ماضی قریب کے ایک سچے اور پکے عاشق رسول تھے جنہوں نے اپنی محبت کا اظہار چوراہوں اور سڑکوں پہ نہیں کیا، ناچ گانے اور کیک کاٹ کے نہیں کیا، جھنڈیوں اور ڈے جے بجانے سے نہیں کیا بلکہ آپ کی ایک ایک بات کو دل سے تسلیم کیا اور آپ کی محبت سے دل کو منور اور روشن کیا۔ توہینِ رسالتؐ کرنے والوں سے نفرت کی آپ ؐ کی تعلیمات اپنانے والوں اور اغیار کے طریقوں سے بیزار رہنے والوں کو سچا محب اور عاشق رسول کہا۔ 
علامہ اقبال نے سنت رسول کی پیروی کو اپنا شیوۂ حیات بنا لیا تھا۔ محمد حسنین سید نے مولانا مودودی کے حوالے سے اپنی کتاب ’’جوہر اقبال‘‘ میں ایک عجیب اور بصیرت افروز واقعہ بیان کیا ہے جس سے علامہ اقبال کے جذبہ شوق و اطاعت رسولؐ کا اندازہ ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’پنجاب کے ایک دولت مند رئیس نے ایک قانونی مشورے کیلئے اقبال اور سر فضل حسین اور ایک دو مشہور قانون دان اصحاب کو اپنے ہاں بلایا، اور اپنی شاندار کوٹھی میں انکے قیام کا انتظام کیا۔ رات کو جس وقت اقبال نے اپنے کمرے میں آرام کرنے کیلئے گئے تو ہر طرف عیش و تنعم کے سامان دیکھ کر، اور اپنے نیچے نہایت نرم اور قیمتی بستر پا کر معاً انکے دل میں یہ خیال آیا کہ جس رسولؐ پاک کی جوتیوں کے صدقے میں آج ہمیں یہ مرتبے حاصل ہوئے ہیں، اس نے بوریے پر سو کر زندگی گذار دی تھی۔ یہ خیال آنا تھا کہ آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی اور ہچکی بندھ گئی۔ اسی بستر پر لیٹنا ان کیلئے ناممکن ہو گیا۔ اٹھے اور برابر کے غسل خانے میں جا کر ایک کرسی پر بیٹھ گئے، اور مسلسل رونا شروع کر دیا۔ جب ذرا دل کو قرار آیا تو اپنے ملازم کو بلوا کر اپنا بستر کھلوایا، اور ایک چارپائی اسی غسل خانے میں بچھوائی۔ جب تک وہاں مقیم رہے ، غسل خانے ہی میں سوئے۔ الغرض علامہ اقبال کی زندگی اور انکی شاعری محبت رسولؐ کے جذبے سے معمور ہے۔ ذات محمدی تک رسائی کو ہی وہ سراپا دین قرار دیتے ہیں۔ اسکے علاوہ سب کچھ انکی نظروں میں بو لہبی اور بے دینی ہے۔
محسنِ انسانیت:آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کوچندلفظوں میں بیان نہیں کیاجاسکتا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اس سے پرہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری انسانیت پراس قدراحسان کئے ہیں کہ ایک مؤرخ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پرکتاب لکھتاہے تواس کانام ہی رکھ دیتاہے’’محسن انسانیت‘‘۔
اس سے بڑااحسان کیاہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں تک کوبھی جہنم کی دائمی آگ سے بچانے کی فکرکرتے اوراس فکرمیں اپناچین وسکون بھی قربان کردیتے تھے،یہاں تک کہ آیت نازل ہوئی:
پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اس رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے۔ (کہف:6) خودآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت پراپنے احسان کی مثال اس طرح پیش کی ہے۔حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا:’’میری اور لوگوں کی مثال اس شخص کی ہے کہ جس نے آگ سلگائی۔ پس اس کے ارد گرد روشنی پھیل گئی۔ تو پروانے اور وہ کیڑے جو آگ میں گرتے ہیں۔ اس میں گرنے لگے۔ وہ آدمی انہیں کھینچ کر باہر نکالنے لگا اور وہ اس پر غالب آکر اس آگ میں گرے جاتے تھے۔ (اسی طرح) میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ سے باہر کھینچتا ہوں اور تم ہو، کہ اس میں داخل ہوئے جاتے ہو‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری)
�������
 

تازہ ترین