چناب ویلی ۔ بنیادی سہولیات کا فقدان

حال و احوال

تاریخ    22 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


بابر نفیس
کسی بھی علاقہ کی ترقی کے لئے وہاں تمام تر بنیادی سہولیات کا ہونا لازم ہے۔لیکن اگر ہم چناب ویلی کے حوالے سے بات کریں تو اس ڈیجیٹل دور میں بھی یہاں لوگ بنیادی سہولیات محروم ہیں۔ جہاں ایک طرف کروانا وائرس(کویڈ۔19) کے دور نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ،وہیں دوسری جانب جناب ویلی کے ضلع ڈوڈہ اور کشتواڑ کے پہاڑی علاقہ بجلی، پانی اور سڑک جیسی بنیادی سہولیات سے محروم رہےہیں۔ آج کے دور میں انسان کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور نایابی سے انسان کا گذر بسر کرنا لامحال ہے جبکہ بنیادی ضروریات زندگی کے فقدان سےکسی بھی انسان کے لئے جینے کا احساس ادھورا ہوجاتا ہے۔ظاہر ہے کہ ہوا کے بعد پانی انسانی زندگی کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ،اگر ہم یہاںمحض پانی کے حوالے سے ہی بات کریں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ زندگی کا ایک اہم سرمایہ ہے۔یہ انسان کی بنیادی سہولیات میں سے اولین سرمایہ ہے۔جہاں ایک طرف کرونا وائرس کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے وہیں دوسری جانب چناب ویلی کے اکثر پہاڑی علاقوں میں پانی جیسی اہم بنیادی سہولت کابدستور فقدان ہے۔
اس سلسلے میں مقامی لوگوں نے بات کرتے ہوئے یہی معلوم ہوتا ہے کہ چناب ویلی کے لوگ آج بھی قدیم زمانے کی طرح پانی لانے کے لئے خچروں اور گھوڑوں کا استعمال کرتے ہیں۔ جہاں پانی کا موجود ہونا انسانی زندگی کی بقا کے لئےکا از حد ضروری ہے، وہیں پانی کی کمی لوگوں کے لیے موت کا سبب بھی بنتی جارہی ہے۔چناب ویلی کے پہاڑی علاقوں میں ہر سال برف گرنے کے دوران جب لوگوں کے لئےپینے کےپانی کی شدید قلت پیدا ہوجاتی ہے تو وہ اس کی تلاش میں در در بھٹک کراپنی جان تک گنوا بیٹھتے ہیں۔گزشتہ کچھ برسوں میں چناب ویلی کے سینکڑوں لوگ پانی کی حصولیابی کی تلاش میں اپنی عزیز جانیں کھو بیٹھے ہیں۔ وہی اگر دوسری جانب سڑکوں کے حوالے سے بات کریں گےتو یہ کہنا مناسب ہوگا کہ جناب ویلی کے سینکڑوں علاقے آج بھی سڑک جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔قدیم زمانے کی طرح لوگ آج بھی پیپر پر سامان لاد کر سینکڑوں کلو میٹر کا سفر کرتے رہتے ہیں۔
آج بھی قدیم زمانے کی طرح جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو اسے چارپائی پر اٹھا کر ہسپتال پہنچایا جاتا ہے۔ بنیادی سہولیات کے فقدان کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے چناب ویلی علاقہ سے تعلق رکھنے والے مختلف سیاسی و سماجی کارکنوں سے بات کرنے کی کوشش کی۔اس سلسلے میں جب ہم نے صحافی اشتیاق دیو سے بات کی تو انہوں نے کہاکہ چناب ویلی کے پہاڑی علاقوں کو اکثر نظر انداز کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت اس علاقہ میں بجلی، پانی اور سڑک کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی جیسی بنیادی ضرورتوں کی بھی مانگ  ہونی چاہیے۔انہوں نے افسوس کرتے ہوئے کہا کہ چناب ویلی کے پہاڑی علاقوں سے سرکار کو جس قدر فائدہ ہوتا ہے، اُس کو شمار کرنا آسان نہیں۔جناب دیونے کہا کہ اکثر چناب ویلی کے اکثر پہاڑوں پر جنگلات کی خوبصورتی کا منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ان جنگلات کابھرپور فائدہ بھی ہماری سرکار اٹھاتی ہے۔لیکن اس کے باوجود یہاں کے باشندگان کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جاتی ہیں۔
اس سلسلے میں مقامی سماجی کارکن سوامی راج کاکہنا ہےکہ علاقہ کی ترقی کے لئے سرکار جس طرح کے کام انجام دے رہی ہے، وہ قابل تحسین تو قرار دیا جاسکتا ہے۔لیکن اس میںجس تیز رفتاری کی ضرورت تھی وہ کہیں پر نہیں دکھائی دیتی ہے۔اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ ترقی کے کاموں میں مزید پیش رفت لانے کے اقدام کریں تا کہ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح پہاڑی علاقوں میں بھی لوگوں کو بجلی، صاف پانی،بہتر سڑک، اسکول ، کالج، روزگار اور ہسپتال جیسی بنیادی سہولیات کو فوری طور پر دستیاب کیا جاسکے۔ جس سے کہ آنے والے کچھ برسوں میں ہی پہاڑی علاقوں اور میدانی علاقوں میں کوئی فرق نہ رہے۔طلبہ کو اپنے ہی علاقے میں اسکول سے لیکر یونیورسٹی تک میسر ہونا جدید دور کا اہم تقاضا ہے،اس پر بھی حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔تاکہ ان پہاڑی علاقوں کے بچوں کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے جموں، سرینگر اور دہلی جانے کی ضرورت نہ ہواورمریضوں کو بہتر طبی سہولیات کے لیے بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔
پہاڑی علاقو ں میں بنیادی سہولیات کے فقدان پر جب ہم نے ضلع ترقیاتی کونسلر معراج ملک سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے پہاڑی علاقوں کو عرصہ دراز سے نظرانداز کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاریں بدلتی گئیں، وقت بدلتا گیا، انتظامیہ بدلتے رہے لیکن پہاڑی علاقوں کی حالت ابھی تک نہیں بدلی،انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے آج تک کسی نے درست انداز سے نہیں سوچااور نہ ہی ایسا کرنے کی کوشش کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو کبھی خیال نہیں آیا کہ وہ ان پہاڑی علاقوں کا دورہ کرنے کی زحمت کریں اور پانی، بجلی اور سڑک جیسی بنیادی سہولیات کا بذات خودجائزہ لیں یا معائنہ کریں۔جناب معراج ملک نے اپنے غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہاڑی علاقہ کے لوگوں کو صرف ووٹ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، اس کے بعد انہیں یہاں کے لوگوں سےکوئی غرض و غایت نہیں رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ  میری ضلع ترقیاتی کمشنرسے اپیل ہے کہ وہ فوری طور پر پہاڑی علاقوں کا دورہ کریں یا ایک کمیٹی تشکیل دیں، جس سے ان پہاڑی علاقوں کے ہر مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پہاڑی علاقہ کے لوگوں کو جس قدر مشکلات آ رہی ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے بتایا کی اس ڈیجیٹل دور میں بھی لوگ قدیم زمانے کی زندگی جی رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جناب ویلی کی 70 فیصد آبادی آج بھی بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔کویڈ۔19 کے مشکل دورمیں یہاں کے لوگوں نے کیسے زندگی بسر کی ہوگی، اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا ہے۔
اس سلسلے میں جب ہم نے مزید سماجی کارکن نشاط قاضی سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے بتایاچناب ویلی کے پہاڑی علاقوں میں ا سکولوں کی حالت کو بہتر بنانے کے بارے میں جس طرح کی باتیں جارہی تھی ،وہ سبھی باتیں سراب ثابت ہوئیں بلکہ وہ باتیں ان پہاڑی علاقوں کے لوگوں کے لئے ایک خواب ہی ثابت ہوئیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چناب ویلی کے پہاڑی علاقوں میں محدود پیمانے پربنیادی سہولیات جس طرح مہیا کی جارہی ہیں، وہ بالکل ناانصافی کا ایک ایک عیاں دلیل دکھائی دیتی ہے۔ نشاط قاضی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلع انتظامیہ جس انداز سے لوگوں کی مشکلات حل کر رہی ہے وہ ایک ناقابل قبول رویہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر انتظامیہ تک پہنچائیں جاچکی شکایتوں کا بھی آج تک ازالہ نہیں کیا جا رہا ہے۔ایسے میں اس علاقہ کے لوگوں کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آخر وہ اپنی پریشانی کس کو بتائیں؟ کون ہے جو ان کی تکلیف کو سمجھے اور انہیںدرکار بنیادی ضرورتوںکو پورا کرے؟۔
رابطہ۔ ڈوڈہ، جموں
 

تازہ ترین