تازہ ترین

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

سبق آموز

تاریخ    21 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


خان محمد یاسر
ہندوپاک کی مشہور ونامور شخصیت سر سید احمد خان برطانوی ہند کے ماہر تعلیم مصنف اور اصلاح پسند ان کی یوم پیدائش ۷۱ اکتوبر ۷۱۸۱ مکمل نام سید احمد بن متقی خان المعروف سر سید ان کی والدہ کا نام عزیز النساء بیگم تھا۔عزیزالنساء بیگم اپنے والدین کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔اگرچہ زیادہ صرف قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھی ہوئی تھیںمگر تھیں بہت ذہین روشن دماغ دانش مند سلیقہ شعار رحمدل بااخلاق اور نیک۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت بھی نہایت عمدگی سے کی وہ ہمیشہ اس مقصد کو مد نظر رکھ کر ان کی تر بیت کرتیں کہ یہ بچے بڑے ہوکرنیک اور اچھے انسان بنیں۔اچھے انسان بنے سے ماں کے علاوہ قوم کو بھی اس تربیت سے ایک سبق ملتا ہے کہ نیت صاف ہو تو منزلیں آسان ہوتی ہے۔اور ایک بات خاص طور سے یاد رکھئیے کہ جو آج بویا جارہا ہے وہ کل کاٹا جائے گا۔ ماں کی گود ہی بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے جس میں وہ زندگی کے بہترین اسباق کو یاد رکھتا ہے اور دہراتا رہتا ہے۔
بقول سرسیدکہ مجھے اچھے سے یاد ہے ،میری فارسی کی ابتدائی تعلیم میں نے اپنی والدہ سے حاصل کی۔انہوں نے مجھے گلستان اورفارسی کی اکثردوسری ابتدائی کتابیں پڑھائیں۔ جب میں سبق سنانے بیٹھتا یا اْن سے نیا سبق لیتا تو وہ سوت کی گوندھی ہوئی تین لڑیاں ایک لکڑی میں بندھی ہوئی میری تنبیہ کے لیے اپنے پاس رکھ لیتیں۔اگر چہ کہ وہ خفا کئی بار ہوتیں مگر ان لڑیوں سے کبھی مارا نہیں کرتیں۔ 
ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہم کس قدر ہوگئے کہ بچوں کو پڑھانے کے لیے دوسروں کے دربدر بھٹک رہے ہیں جبکہ بچہ اپنی ماں کی گود کو حسرت ویاس سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔میں تو ایک بات ضرور کہوں گا آج بھی سر سید احمد خان جیسے افراد اقوام کو مل سکتے ہیں بشرط ِکہ ماں کو تربیت کا سلیقہ آجائے۔آج کل کی مائیں والد کو شکایتیں لگا دیتی ہے اور والد جو کہ باہر سے تھکا ہارآتا ہے، زمانے بھر کا ٹینشن اس کے سر پر ہوتا ہے، وہ شکایت سنتے ہی بچے پر برس پڑتا ہے۔ یہاں سے قوم میں نفرت عدم تحفظ اور ذہنی بیماریوں کا حملہ شروع ہوتا ہے۔
ربیت کا ایک اور واقعہ سن لیجئے۔سرسید احمد خان اپنے بچپن کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہّْ’’جس زمانے میں میری عمر گیارہ یا بارہ سال برس کی تھی  میں نے ایک نوکر کو جو بہت بڈھا اور پرانا تھا‘ کسی بات پر تھپڑ مارا۔جس وقت میری والدہ کو خبر ہوئی اور تھوڑی دیر بعد میں گھر آیا تو میری والدہ نے ناراض ہوکر کہا: اس کو نکال دو۔ جہاں اس کا دل چاہے چلے جائے‘یہ گھر میں رہنے کے قابل نہیں رہا۔‘‘ چنانچہ ایک ماما میرا ہاتھ پکڑ کر گھر سے باہر لے گئی اور باہر سڑک پر چھوڑدیا۔اسی وقت ایک دوسری ماما میری خالہ کے گھر سے جو قریب تھا نکلی اور مجھ کو میری خالہ کے گھر لے گئی۔ میری خالہ نے کہا : ’’دیکھو تمہاری والدہ تم سے کس قدر ناراض ہیں اور اس سبب سے جو بھی تم کو گھر مین رکھے گا اس سے بھی خفا ہوں گی ‘ مگر تم کو میں چھپائے رکھتی ہوں۔‘‘ اور مجھے کوٹھے پر کے ایک مکان میں چھپا دیا۔ تین دن میں اس کوٹھے پر چھپا رہا۔ میری خالہ میرے سامنے نوکروں اور بہنوں سے کہتی تھیں،’’ دیکھنا آپا جی کو خبر نہ ہو کہ یہاں چھپے ہوئے ہیں۔‘‘ تین دن کے بعد میری خالہ میری والدہ کے پاس قصور معاف کرانے لے گئیں۔ انہوں نے کہااگر اس نوکر سے قصور معاف کرائے تو مین معاف کردوں گی۔ نوکر کوڈیوڑھی میں بلایا گیا۔ میں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے تب تقصیر معاف ہوئی۔‘‘یہ واقعہ ان تمام مائوں کے لیے ہیں جو ایسی باتوں کوچھوٹی بات مان کر نظر انداز کر دیتیں ہیں۔تر بیت کے لیے چھوٹی چھوٹی باتوں پرہی نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔عزیز النساء بیگم کے بچے جوان ہوگئے تب بھی انھوں نے ہمیشہ ان کے اخلاق کردار و عادات پر نظر رکھی۔اگر ان کے طرز عمل میں کوئی کامی دیکھتیں تو اس لی اصلاح کی کوشش کرتیں وقتا فوقتا ان کو اچھی اچھی نصیحتیں کرتی رہتیں۔
سر سید کا اپنے ایک دوست ست بہت میل جول تھا اور دونوں ایک دوسرے کے ہاں اکثر آیا جایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ وہ دوست ناراض ہو گئے اور سرسید کے ہاں آنا جانا چھوڑدیا۔ سر سید کچھ عرصہ تک ان کے گھر آتے جاتے رہے لیکن پھر انھوں نے بھی آناجاناچھوڑدیا۔ان کی والدہ کو خبر ہوئی تو انھوں نے اس کا سبب پوچھا۔سرسید نے واقعہ عرض کیا تو انہوں نے کہا:
’’نہایت افسوس ہے کہ جس بات کو تم اچھا نہیں سمجھتے ‘وہی بات تم بھی کرتے ہو۔جب دوستی ہے تو اسے پورا کرنا چاہیے ‘ یہ تمہارا فرض ہے اواس دوستی کا پورا برتائو کرنا اس کا فرض ہے۔ تم دوسرے شخص کے فرض ادا کرنے کے ذمہ دار کیوں ہوتے ہو؟تم کو بدستور اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔اس سے تم کو کیا کہ دوسرا بھی اپنا فرض ادا کرتا ہے یا نہیں۔‘‘
اْف! ابھی بھی وقت ہے اگر آپ اس مضمون کو پڑھ رہے ہو اور سرسید احمد خان کی والدہ کی باتوں کو نظر انداز کر رہے ہو تو آپ کا ہی نقصان۔
تربیت کا ایک دوسرا واقعہ پیش کرتا ہوجس میں اللہ کے عدل وانصاف اور دوسروں کے ساتھ درگزر کاسبق موجود ہے۔ سر سید احمد لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک ایسا شخص جس پر کبھی سرسید نے بہت احسان کیا تھا‘اس نے محسن کشی کرتے ہوئے نیکی کا بدلہ بدی سے دیا۔اتفاق سے وہ تمام ثبوت سر سید کے ہاتھ آگئے جو اس ک عدالت سے سخت سے سکت سزا دلاسکتے تھے چنانچہ انھوں نے اس سے انتقام لینے کا راداہ کرلیا۔ ان کی والدہ کو معلوم ہوا تو انھوں نے ان کو بلا کر کہا۔’’ بیٹے اگر تم اس کو معاف کردو تو اس سے اچھا کوئی کام نہیں۔اگر تم اس کی اس بد اعمالی کی سزاحاکم سے دلواناچاہتے ہوتو بڑی نادانی کی بات ہے۔آخر تم اس کی ہر نیکی بدی کا بدلہ دینے والے احکم الحاکمین کی گرفت سے چھڑا کردنیا کے ضعیف حاکموں کے پنجے میں کیوں دینا چاہتے ہو!‘‘
سر سید کہتے ہیں کہ والدہ کی اس نصیحت نے میرے دل پر بڑا گہرا اثر کیااور میں نے اس شخص سے انتقام لینے کا خیال چھوڑ دیا۔ اسکے بعد بھی کسی شخص سے بدلہ لینے کا خیال میرے دل میں پیدا نہیں ہوا،اگرچہ اس نے میرے ساتھ کیسی ہی برائی کیوں نی کی ہو۔
تاریخ کے اوراق اس طرح کی تربیتی واقعات سے بھرے پڑے ہیں مگر اس کی ورق گردانی کی ہمیں ہی فرصت نہیںمیرے اس مضمون میں آپ کو طنز نظر آئے گا مگر یہ طنز نہیں تڑپ ہے۔ہماری قوم آج پیاسی ہو چکی ہے ،اس کی پیاس ایک تعلیم یافتہ ماں ہی اپنی تعلیم کی روشنی میں تربیت کرکے بجھا سکتی ہے ،جس طرح ہمارے اسلاف کی مائوں نے تربیت کی۔اسی لیے تو میں نے اس شعر کو اپنایا ہے کہ
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
بچوں کی تربیت میں ماں اور باپ دونوں بہت بڑا حصہ ہوتا ہے اس لیے والد کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کی فکر کریںاور ملت کے مقدر کا ستارا بنیں۔اگر بچوں کی تربیت پر وقت صرف نہیں کروں گے تو وہ وقت دور نہیں کہ بچے ہمیں ائولڈ ایج ہائوس روانہ کردے۔
سر سید احمد خان ،علامہ اقبال ،مولانا ابولکلام آزاد ،بابافرید شکرگنج ، مولانا شوکت علی اور مولانا محمد علی جوہر،شہید اشفاق اللہ خان ، اے پی جے عبدالکلام ودیگر یہ نام تو میری یادداشت کے مطابقت سے لکھا ہوں اور بھی بہت سے رہنما اور ہمارے قائد گزرے ہیں جو مائوں کی تربیت کا نتیجہ تھے۔آخر میں بس اتنا کہ نا سمجھوں گے تو مٹ جائوں گے اے ہندوستاں والوں۔
موبائل نمبر9881296564:
 

تازہ ترین