تازہ ترین

جنگجوئوں کے ممکنہ ٹھکانوںپر بھاری شلنگ

بھاٹا دھوریاں میں 5ویں روز بھی فائرنگ ، خاتون سمیت 8شہری گرفتار، 4اہل خانہ شامل

تاریخ    19 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


سمت بھارگو+جاوید اقبال
راجوری+مینڈھر// مینڈھر پونچھ کے بھاٹا دھوریاں نار جنگلاتی علاقے میں جنگجوئوں اورفوج کے درمیان مسلح تصادم پیر کو پانچویں دن میں داخل ہوا ۔ علاقے میں شدید فائرنگ اور شلنگ کا سلسلہ پیر کو بھی جاری رہا۔اس دوران سیکورٹی فورسز نے ایک ہی گھر کے 4اہل خانہ سمیت 8افراد کو حراست میں لیا ہے جن مین ماں او اسکے تین بیٹے شامل ہیں۔ادھر ڈھیرا کی گلی راجوری میں مسلح تصادم کے بعد تلاشی آپریشن 8ویں روز بھی جاری رہا۔پیر کو مینڈھر کے بھاٹا دھوریاں ناڈجنگل کیساتھ ساتھ سنگیویٹ،ناڈ،بھاٹا دھوریاں اور کانگڑا گلوسہ کے 4پنچایتی حلقوں کے متعدد زندگی دیہات کا بدستور محاصرہ جاری رکھا گیا اور پچھلے 5روز سے ناڈ جنگل میں تلاشیاں جاری ہیں اور یہاں موجود جنگجوئوں کیساتھ جھڑپیں بھی ہورہی ہیں۔اتوار کو دن میں قریب 4گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا جبکہ درمیانی شب بھی طرفیں کے درمیان رک رک کر فائرنگ ہوتی رہی۔پیر کی صبح قریب 6بجے ایک بار پھر طرفین کے درمیان فائرنگ کا زوردار تبادلہ ہوا جو 8بجے تک دو گھنٹے تک جاری رہا۔ اسکے بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔فوجی ہیلی کاپٹر نے جنگلاتی علاقے میں دو تین بار فضائی سروے بھی کی۔دن کے ڈیڑھ بجے سیکورٹی فورسز نے گھنے جنگلات میں جنگجوئوں کے ممکنہ ٹھانوں پر زوردار شلنگ کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا۔ذرائع نے بتایا جنگجوئوں کے ممکنہ کمین گاہوں کو تباہ کرنے کیلئے راکٹ لانچروں کا استعمال کیا جارہا ہے اور مارٹر شلنگ بھی ہورہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے پیر کو سنگیوٹ اور بھاٹا دھوریاں کے مزید 3افراد کوحراست میں لیا اس طرح گرفتار ہونے والوں کی تعداد 8ہوگئی ہے، جن میں ایک خاتون بھی ہے۔ گرفتار شدگان میںزرینہ بیگم زوجہ فاروق احمد، اسکے بیٹے محمد شفاعت،محمد مشتاق اورمحمدعرفان شامل ہیں۔انکا والد فاروق احمد سعودی عرب میں کام کرتا ہے۔اسکے علاوہ گرفتار شد گان میں محمد خورشیدولد غلام محمد،محمد ماروف ولد باغ حسین،صابر حسین ولد دوست محمد اور عبدالحمید ولد محمد شیر خان بھی شامل ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جمعرات کو بھاٹا دھوریاں میں مسلح جھڑپ ہوئی تھی جس میں فوج کے 4اہلکار ہلاک ہوئے تھے جن میں ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر شامل ہے۔پولیس کا خیال ہے کہ گھنے جنگلات میں چٹانوں کی آڑ لیکر غالباً جنگجو چھپے بیٹھے ہیں جن کے خلاف شلنگ کی جارہی ہے کیونکہ مقامی بستیوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جنگلاتی علاقے میں بھاری دھماکے سنے گئے ہیں۔عہدیداروں نے کہا کہ پیرکی دوپہر انکانٹر کے مقام پربھاری گولہ باری ہوئی۔فوج اور پولیس دونوں نے ابھی تک کسی بھی عسکریت پسند کے ہلاکت سے متعلق کوئی معلومات شیئر نہیں کی ہے۔ادھر راجوری کے ڈھیرا کی گلی علاقے میں چمراڑ جنگل میں بھاری ہتھیاروں سے لیس جنگجوئوں نے فوج کی ایک تلاشی پارٹی پر گھات لگا کر حملہ کیا جس میںفوج کے 5 اہلکار مارے گئے تھے۔، جن میں ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر شامل ہے۔ڈھیرا کی گلی میں پچھلے 8روز سے تلاشی آپریشن جاری ہے لیکن اسکے بعد جنگجوئوں اور فوج کے درمیان کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا۔