پیغمبر ﷺ دنیا کےلیے نمونہ عمل

شاہِ خوباں

تاریخ    19 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


بشیر اطہر
ماہ ربیع الاول کو مقدس ومحترم مہینہ مانا جاتا ہے کیونکہ اس مہینے میں آفتاب نبوت سرور کائنات حضرت محمد صولی اللہ علیہ وسلم توولد ہوئے۔آپ کی ولادت باسعادت میں اگرچہ تھوڑا سا اختلاف ہے مگر سبھی مکتبہ فکر اس بات پر متفق ہیں کہ آپ کا ولادت باسعادت ربیع الاول کے مہینے میں ہی ہے۔آپؐ کا نور اقدس پہلے سے ہی موجود تھا ،آپؐ کا ظہوراس وقت ہوا جب دنیا میں فتنہ انگیزی،چاپلوسی،بدخواہی،ایک دوسرے کی نفرت،جہالت اور بدعنوانی زوروں پر تھی، لوگ قتل وغارت کو غیرت مندوں کا کام سمجھتے تھے۔بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا عار نہیں سمجھاجاتا تھااور شریف لوگوں کا جینا حرام ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ کی قدرت برجستہ آئی اور پیغمبر اکرمؐ کی صورت میں ایک منجی کو بھیجا تاکہ انسانیت بچ سکے ،اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ "اے رسول میں نے آپ کو عالمین کےلئےرحمت بنا کر بھیجا"یعنی آپ عالمین کےلیے رحمت ہیں نہ کہ یہ فرمایا کہ مسلمانوں، یا دنیا کےلیے رحمت بنا کر بھیجا،یعنی اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی عالمین پیدا کئے ہیں ،ان میں سبھی موجودات ونباتات کےلیے ہمارے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم باعث رحمت ہیں ۔دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے کہ "آپ کو اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز کیا" آپؐ کے خلق عظیم کی بدولت ہی اسلام کا پرچم ہر طرف بلند ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو چمکتے ہوئے نور،روشن دلیل اور کھلی ہوئی راہ شریعت اور ہدایت دینے والی کتاب قرآن مجید کے ساتھ بھیجا، یا یہ بھی کہا جائے کہ آپ کی جتنی بھی خلقتیں ہیں، عظیم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخلاق میں عظیم تھے، گفتار وکردار میں عظیم، ظاہر و باطن میں عظیم، غرض ہاہوت،لاہوت،ملکوت، جبروت، صلبوں،شکموں،بچپن، لڑکپن، جوانی،نبوت،رسالت،دنیااور رحلت سب جگہ عظیم تھے۔ آپؐ کے اخلاق،سچائی،امانتداری اور عدل وانصاف کے قائل اپنے کیا غیر بھی تھے۔ آپ کےپسندیدہ اخلاق اور باعظمت شخصیت کے اپنے کیا غیر بھی دلدادہ تھے۔آپ نے دنیا میں امن و آشتی اور چین وسکون کو اس طرح رائج کیا کہ کسی کا مجال نہیں تھا کہ آپ کے خلاف صف آرا ہوجائے۔ اگر کوئی تھا بھی تو اس کو اللہ تعالیٰ نے ذلیل و خوار کردیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ ؐکو اس وقت رسول بنا کر بھیجا، جب رسولوں کا سلسلہ رُکا ہوا تھا اور لوگ دین سے دوری اختیار کرچکے تھے، لوگ فتنوں میں ہاتھ پیر مار رہے تھے اور ہرسو حیرانی وپریشانی تھی، نفسانی خواہشات اور مادہ پرستی نے انہیں بٹھکا دیا تھا مگر آپؐ کے تشریف لانے سے مینارہ نور بلند ہوگئے، جہالت کا خاتمہ ہوگیا ،بیٹیاں زندہ درگور ہونے سے بچ گئیں، نفسانی خواہشات اور مادہ پرستی کا قلع قمع ہو گیا، غریب، یتیم اور بیوائیں عزت کی زندگی جینے لگے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی آواز بن کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ آپؐ کائنات کے جس ذرے پر بھی نظر دوڑاتے تھے وہ سونا بن جاتا تھا، جس شخص سے بھی ملاقات کرتے تھے وہ مومن اور متقی بن جاتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مباہلہ میں نصرانیوں کو اپنے علم اور کردار سے شکست دی اور وہ آپ ؐکو دیکھ کر انگشت بدندان رہ گئے۔ آپ نور کی برسات لیکر آئے اور ظلمت کا خاتمہ کیا ظلمت بمعنی ایک دوسرے کی نفرت، بتوں کی پوجا، جہالت وغیرہ ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کےبڑے بڑے سلیبی راہبوں کو اپنے اخلاق و آداب سے بارگاہ یزدی میں سجدہ ریز کروایااوربھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ راست پر لایا ، دنیا کو سکھایا کہ اچھے اخلاق سے کیسے بدسے بدترین لوگوں کو بھی رام کیا جارہا ہے۔خود فاکہ کشی کرتے تھے مگر فقیروں کو کھلاتے تھے۔آپ نے اپنی سبھی دھن دولت کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کردیا اور خود ایک سیدھی سادھی زندگی بسر کی۔بیشک نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی اخلاق حسنہ سے بھری پڑی ہے، جسے آج ہمیں ان نازک ترین حالات میں اپنانے کی ضرورت ہے۔مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو اسلامی سانچے اور اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار بنائیں اور اچھے عادات واطوار اور اعلی کردار سے اپنے آپ کو سنواریں،قتل وغارت گری، گالی گلوچ،حسد،کینہ پروری،تعصب وغیرہ سے پرہیز کریں اور خود کو اسلام و بانئی اسلام حضرت محمد ﷺ کے اچھے پیروکار ثابت کریں تاکہ دنیا فخر سے کہے کہ یہ اسلام کا پیرو کار ہےاور پیغمبر اسلام  ؐکےاسوہ حسنہ پر مرمٹنے والا ہے۔
خان پورہ کھاگ،رابطہ۔7006259067
 

تازہ ترین