تازہ ترین

حضرت محمد ﷺ۔سارے جہاں کے لئے پیغامِ رحمت

شمع فروزاں

تاریخ    19 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


سید نظیر احمد نظی
ربیع الاول کا مقدس مہینہ سرو رِکائنات ،فخرِ موجودات ،خاتم النبین ،محبوبِ ربّ العالمین کی ولادت باسعادت ایمان افروز بشارت لے کر آیا ہے۔۱۲؍ ربیع الاول ایک ایسے دن کی یاد تازہ کرتی ہے جس نے فکر و عمل اور اعتقادات کی دنیا میں انقلاب ِعظیم برپا کردیا ۔اس دن نورانی ساعتوں میں حضرت ِ حق کی راہیں کھل گئیں۔دنیا کی بے چین و بے تاب ذرّوں نے وحدانیت کے نغمے گائے اور اُجڑے ہوئے چمن میں تروتازہ پھول کھل گئے،آفتاب ِ نبوت نے سر زمین عرب سے طلوع ہوکر سارے جہاں کو روشن کردیا ۔
قرآن پاک میں خداوند ِ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :ہم نے آپ کو دونوں جہانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا ۔چنانچہ حضور پُرنور ؐ کی حیات ِ طیبہ کے کسی بھی پہلو پر نظر ڈالیں اس میں خیر ہی خیر اور رحمت ہی رحمت نظر آئے گی ۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و شفقت کسی خاص طبقے کے لئے مخصوص نہ تھی بلکہ آپ کی ابر رحمت کے چھینٹوں نے انسانیت کی بے آب و گیا کھیتی کو اسطرح سر سبز اور شاداب کردیا کہ اس کی طراوت سے آج بھی آنکھوں کو ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔کسی زبان و قلم کی طاقت نہیں کہ وہ حضور انورؐ کی رحمت و شفقت کو معرض ِاظہار میں لانے کا حق ادا کرسکے ۔آپ خداوند تعالیٰ کے آخری نبی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم انقلابی اور نسلِ انسانی کے عظیم ترین نجات دہندہ ہے۔روزِ اول سے آج تک بے شمار انقلاب نے جنم لیا ،ان میں کوئی فکری ،سیاسی ،کوئی اقتصادی اور ثقافتی تھا لیکن جو انقلاب حضرت محمد ؐ نے کرۂ ارض پر برپا فرمایا، وہ سراسر ہمہ گیر تھا ۔انسانی زندگی کاکوئی پہلو اس بھرپور انقلاب سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔آپ انسانیت کے محسن تھے کہ اپنے الفاظ اعمال گفتار و کردار سے تاریخ انسانی کا دھارا بدل ڈالا ۔حضرت محمد ؐ کا انقلاب دنیا کا واحد انقلاب ہے، جس نے نہ صرف زندگی کے تمام شعبوں کے لئے انقلابی فکر پیش کی بلکہ انقلاب لانے والی شخصیت نے اس فکر کو پہلے اپنے ذاتی عمل کا حصہ بنالیا اور اپنی حیات ِ طیبہ میں اس ہمہ گیر انقلاب کے ذریعے ایک ایسا نظم و مثالی اصلاحی معاشرہ قائم کیا ،جس میںہر ایک کو بھائیوں کی مانند حقوق حاصل تھے ۔حضرت محمد ؐ ایک عام آدمی کی طرح زندگی بسر کرتے رہے ،آپ نے فقروفاقہ او ر احتیاط اور احتیاج کے سارے اتارو چڑھائو اس طرح برداشت کئے ،جس طرح ان کے کسی غریب صحابی یا ہم عصر نے کئے۔آپ ؐ ایک اُمّی تھے جنہیں بڑے بڑے کتب خانوں کو چھاپنے کا دعویٰ نہیں تھا ۔لیکن اس سے بڑا معجزہ کیا ہوگا کہ تاریخ ِ انسانی پر ان کا سایہ عظیم ترین فاتحوں اور شہنشاہوں سے کروڑوں گنا زیادہ ہے۔اس طرح ان کے افکار کی روشنی انسانی تہذیب کو اس طرح منور کررہی ہے کہ بڑے بڑے حکیموں اور مفکروں کے جلائے ہوئے چراغ ماند پڑجاتے ہیں ۔حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے ایسے نقوش چھوڑے ہیں جو آج بھی بھٹکی ہوئی انسانیت کو منزل کا سراغ دے سکتے ہیں۔
دنیائے عرب تاریکی و کہالت کی گہری کھائی میں اوندھی پڑی تھی ،عرب کی حالت ہر پہلو سے ابتر تھی ،پورے کا پورا معاشرہ ہی اندھیر نگری کا حصہ بنا چکا تھا ،کائنات انسانی کے چہرے پرظلمتوں اور اندھیروں کی تہیںاس طرح جم گئی تھیں کہ معلوم ہوتا تھا کہ فرش زمین پر ہدایت کے نور کی کرنیں کبھی پڑی ہی نہیں تھیں۔خالق و مخلوق کے رشتہ کا ایک ایک تار ٹوٹ گیا تھا ،روحِ انسانیت کی لطافتیں ،جذبات ِ انسانی کی کچافتوں میں دب کر رہ گئیں تھیں،دور دور بھی حق کی روشنی کا نشان نہیں ملتا تھا ۔وہ ایک خد اکو نہیں مانتے تھے ،اس میں اپنے اپنے خاندان اور قبیلوں پر فخر کرتے تھے ،چھوٹ چھوٹے باتوں جھگڑا کرنا ان کا معمول تھا ،اس عالم میں جب انسانیت ایک نیم مردہ حالت میں پڑی آہیں بھر رہی تھی کہ رحمت خداوندی جوش میں آئی ،فرشتوں نے جشن بہاراں منایا ،اس ظلم و تشدد کے تاریک زمانے میں حضرت محمد ؐ کا ظہور ہوا۔آپ ؐ کی ذات ِ مبارک کے توسط سے تمام عالم انسانیت میں ایک عظیم انقلاب رونما ہوا۔آپؐ امن و سلامتی کا پیغام لے کر آئے۔بے جان انسانیت میں پھر سے جان پڑی ۔رحمت العالمین نے چالیس سال کی عمر بحکم خداوند ِ تعالیٰ اپنی نبوت کا اعلان کیا او ر لوگوں کو پیغام حق سنایا ۔چنانچہ آپ ؐ نے سب سے پہلے اس خدا کا تصور پیش کیا جو صرف رب المسلیمین نہیں بلکہ رب العالمین ہے۔یعنی کائنات کے ایک ایک ذرّہ کا رب ،سمندر کے ایک ایک قطرہ ،صحرائوں کے ایک ایک ذرّہ اور درختوں کے ایک ایک پتے کا پروردگار ہے۔آپ نے شراب نوشی ،چوری ،جوا ،لڑکیوں کو زندہ ما ر ڈالنا ،جھوٹ ،بت پرستی ،باہمی جنگ و جدل اور دیگر بد اخلاقیوں سے دور رہنے کی تعلیم دی۔حضور ؐ نے فرمایا :خدا ایک ہے جو تمام جہانوں کا پالن ہار ہے،نسل و رنگ اور زبان و فرقے بے معنی ہیں۔امتیاز ،پرہیز گاری اور نیک عمل کے لئے تمام انسان ،انسانی اخوت و وحدت کے بندھن سے بندھے ہوئے ہیں ،کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی برتری نہیں ہے۔سب آدم کی اولاد ہیں ،اس کے ساتھ آپ ؐ نے ضمیر و عقیدہ کے آزادی کے لئے روادارانہ اور انقلاب انگیز اعلان فرمایا : آپؐ نے ارشاد فرمایا : خدا وندہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے تمام پیغمبر برحق ہیں ،خواہ وہ سرزمین عرب میں آئے ہوئے ہوں یا کسی دیگر ملک میں پیدا ہوئے ہوں،ان کے درمیان کوئی امتیاز و تفریق نہیں ہے۔ان تمام انبیا ء کرام اور ان کے پیغام کی صداقت پر ایمان لانا اسلام میں داخل ہونے کی اولین شرط ہے۔
مکہ مکرمہ میں جب لوگوں نے یہ پیغام سُنا تو وہ غصے سے بھڑک اٹھے ۔آپ ؐ پر مظالم اس درجہ حد کردی کہ جس کو سوچ سوچ کر ہی انسانیت کانپ اٹھتی ہے۔چنانچہ اس تعلیم کا یہ نتیجہ ہو اکہ مکہ کے لوگ آپ کے سخت مخالف ہوگئے اور طرح طرح کی تکلیفیں آپؐ کو دینے لگے ،آپ پر پتھر برسائے گئے ،آپ کے پیروکاروں کا جینا مشکل کردیا لیکن اس کے باوجود آپؐ لوگوں کے حق میں ہمیشہ نیک دعا کرتے رہےکہ اللہ ان سب کو نیک ہدایت کی توفیق عطا فرمائے۔آہستہ آہستہ لوگ اسلام قبول کرتے رہے اور مسلمانوں کی تعدا دبڑھتی گئی ،اس لئے مکہ کے لوگ اہلِ اسلام اور اسلام کےماننے والوں کو اور زیادہ ایذائیں پہنچانے لگے ۔ان تکلیفوں سے تنگ آکر آپؐ نے ہجرت کرنے کا فیصلہ کرلیا اور اللہ کے حکم سے آپؐ ایک روز مدینہ منورہ چلے گئے،اس دن سے مسلمانوں کا سن ہجری شروع ہوا ۔مدینہ منورہ کے لوگوں نے خندہ پیشانی سے بانیٔ اسلام کا خیر مقدم کیا ۔مدینہ منورہ میں کافی لوگ اسلام قبول کرچکے تھے ۔مدینہ کے ان مسلمانوں نے اشاعت اسلام کی خاطر بڑی تکلیفیں اور پریشانیاں برداشت کیں مگر اپنے مہاجر بھائیوں کی مکمل حمایت و اعانت کرکے اسلام والوں کے لئے اپنی پوری مہمان نوازی اور جانثاری کا ثبوت دیتے رہے۔مدینہ کے مسلمانوں کی حمایت سے اسلام چاروں طرف پھیلتا چلا گیا۔اس وجہ سے آپؐ نے مدینہ منورہ میں ہی سکونت اختیار کی۔جب فتح مکہ درپیش آیا تو طاقت ہونے کے باوجود بھی آپؐ نے کسی کو بے جا ایذا نہ پہنچائی حتیٰ کہ دشمنوں کو بھی معاف کیا۔
آپ ؐ نے اپنی بہادر فوج کو حکم دے رکھا تھا کہ کسی معذور پر اور کسی ضعیف اور ناتوں پر اپنی تلوار نہیں اٹھائی جائے گی ۔آپؐ کی ہدایت کا یہ اثر ہوا کہ مکہ مکرمہ فتح ہوگیا مگرنہ کسی بے گناہ کو اذیت دی گئی اور نہ خون ِ ناحق کا ایک قطرہ بھی بہایا گیا ۔ایسی پُرامن فوج کی فتح عظیم فلک نے آج تک نہیں دیکھی تھی۔ہزار ہزار سلام اس ہستی ٔ گرامی پر ،جس نےبگڑی ہوئی انسانیت کو ایسے فکری اور عملی انقلاب سے روشناس کرایا ،جس کی مثال مذہبوں اورمِلتوں کی تاریخ میں مفقود ہے۔
رحمت العالمین ؐکی سیرت ِ طیبہ کا مطالعہ کرنے والا شخص کسی بھی جگہ تاریکی کا نشان نہیں پائے گا ۔آپؐ کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی، حتیٰ کہ آپ ؐ کے وفات کے بعد آپؐ کا روضہ مقدس بھی مدینہ منورہ میں قائم ہوا ۔سارے دنیا کے مسلمان اس فضیلت کی بناء پر عرب کے شہر مدینہ منورہ کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کوحضو رِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔آمین
)پنج پیر چوک ،جالندھر شہر۔رابطہ:9596253375,  9914135086  )
 

تازہ ترین