تازہ ترین

اسوۂ حسنہ۔ تکمیل، عالمگیریت اور ابدیت

شانِ رسول

تاریخ    19 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر عریف جامعی
تخلیق آدم علیہ السلام کے وقت ملائکہ نے اللہ رب العزت سے استفسار کیا کہ "آپ ایک ایسی مخلوق کیوں تخلیق فرمارہے ہیں جو زمین میں قتل و غارت کا باعث بنے گی؟" اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ "میں جانتا ہوں، (جو) تم نہیں جانتے!" علماء کرام کا ماننا ہے کہ ملائکہ جن "چیزوں کا نام" بتانے سے قاصر رہے اور جن کا علم پاکر آدم  ؑ نے ملائکہ کے سامنے پیش کیا ان میں (مطلق علم کے ساتھ ساتھ) ذریت آدم ؑ میں سے ان گلہائے سرسبد کی فہرست بھی شامل تھی جو مختلف ادوار میں انسانیت کے لئے نہ صرف فکر و نظر کے لحاظ سے بلکہ اخلاق و عمل کے لحاظ سے بھی قابل اتباع نمونہ بننے والے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس فہرست میں آدم ؑ سے لیکر رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم تک آنے والے تمام انبیاء کرامؑ بدرجہ اتم موجود تھے۔ تاہم انبیاءعلیہ السلام کے ساتھ ساتھ پیدا ہونے والے صدیقین، شہداء اور صالحین (زہاد، اتقیاء، اولیاء اور صلحاء) کے نام نامی بھی اسی فہرست کا حصہ تھے۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدیقین، شہداء اور صالحین میں خواتین بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں ہم دیکھتے ہیں کہ مریم علیہ السلام کو قرآن میں "صدیقہ" کہا گیا ہے۔
البتہ خدا کی ان برگزیدہ ہستیوں میں صرف انبیاء کرام علیہ السلام ہی معصوم رہے ہیں اور انہی کے فکر و عمل کو انسانیت کے لئے نمونہ قرار دیا گیا ہے۔ یہاں پر اس بات کو ملحوظ خاطر رکھنا بہت ضروری ہے کہ انبیاء  ؑکی فکر کا منبع اللہ تبارک کی ذات والا صفات ہوتی ہے اور اس فکر کے ساتھ ترتیب پانے والے ان کے عمل کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت حاصل رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیائی فکر کی بنیادیں ہمیشہ ایک رہی ہیں، یہاں تک کہ اس فکر کی ذات رسالتمآب ؑ کے ذریعے تکمیل کی گئی۔ اس کے برعکس مختلف مفکرین اور فلاسفہ کی فکر ایک دوسرے کے ساتھ متصادم رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں فلسفے کے استاذ اول (ارسطو) اپنے استاد، افلاطون کے بارے میں یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ "افلاطون مجھے محبوب ہے؛ لیکن حقیقت افلاطون سے محبوب تر ہے!" یہاں پر ہماری مراد فلاسفہ کے فکر کی تنقیص کرنا نہیں ہے۔ ہماری غرض و غایت صرف یہ بیان کرنا ہے کہ فلاسفہ کا فکر مختلف ارتقائی منزلوں کو طے کرتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔ چونکہ یہ ایک انسانی کاوش تھی، اس لئے اس میں نقص اور غلطی کے امکانات ہمیشہ موجود رہے۔ ایک طرح سے یہی غلطیاں اس فکر کا حسن بھی تھیں کیونکہ انہی کو دور کرتے ہوئے یا انہی کے متبادل تلاش کرتے ہوئے ہر دور کے فلاسفہ نے اس فکر کو آگے بڑھایا یا اس کو ایک نیا رخ عطا کیا۔
بہرحال اللہ تعالیٰ کی راست نگرانی میں ترتیب پانے والی انبیائی فکر و عمل کی روایت کس طرح انسانیت کے لئے نمونہ عمل بنتی رہی ہے، اس کے قرآن میں جا بجا حوالے مہیا ہیں۔ مثال کے طور پر یوسف علیہ السلام نے اپنے "علم" اور "حفظ امانت" کی صلاحیت کو پیش کرتے ہوئے مصر جیسی ترقی یافتہ سلطنت (ریاست) کو قحط جیسی بلا سے نبرد آزما ہونے کے لئے استعمال کرنے کا ان الفاظ میں مشورہ دیا: "(یوسفؑ نے) کہا: آپ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کردیجئے، میں حفاظت کرنے والا اور باخبر ہوں۔" (یوسف: 55) ظاہر ہے ایک پیغمبر (یوسف ؑ) نے خود اپنے خدا داد "علم" اور اس کو برتنے (عملانے) کی صلاحیت (حفاظت یا امانت) کو خدمت خلق کے لئے ایک نمونے کے طور پر پیش کیا۔ اسی طرح موسی علیہ السلام کی "قوت" اور "امانت" کو بھانپ کر دو بہنوں (جن میں سے ایک آنجناب کی زوجہ بنیں) نے اپنے والد کے سامنے اس طرح پیش کیا: "ان دونوں (بہنوں) میں سے ایک نے کہا کہ اباجی! آپ انہیں (موسی کو) مزدوری پر رکھ لیجیے کیونکہ جنہیں آپ اجرت پر رکھیں ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو۔" (القصص: 26) واضح ہوا کہ انبیاء علیہ السلام "قوت" اور "امانت" کو اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کے مطابق صرف کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ انبیاء علیہ السلام اپنے زیر سایہ پروان چڑھنے والے لوگوں کے "تجربے" اور "تدبیر" سے بھی لوگوں کو مستفید ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ابن کثیر کے بیان کے مطابق بنی اسرائیل کو موسیٰ علیہ السلام کے بعد شمویل نبی نے اس طرح مخاطب کیا: "اور انہیں ان کے نبی نے فرمایا کہ اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا دیا ہے؛ تو کہنے لگے: بھلا اس کی ہم پر حکومت کیسے ہوسکتی ہے؟ اس سے تو بہت زیادہ حقدار بادشاہت کے ہم ہیں؛ اس کو تو مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی۔ نبی نے فرمایا: سنو! اللہ نے اسی کو تم پر برگزیدہ کیا ہے اور اسے علمی اور جسمانی برتری بھی عطا کی ہے؛ بات یہ ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنا ملک دے، اللہ کشادگی والا اور علم والا ہے۔" (البقرہ: 247) چونکہ طالوت ایک غیر نبی تھے، اس لئے ان کے "علم" سے مراد ان کی حکومت چلانے کی صلاحیت ہے اور "جسم" سے مراد میدان حرب و ضرب میں مطلوبہ جسمانی قوت ہے۔
ابو الانبیاء، ابراہیم علیہ السلام کے طریقہ عمل کو قرآن نے "اسوہ حسنہ" (بہترین نمونہ) ہی قرار دیا ہے۔ تاہم اپنے مشرک والد کے تئیں ان کے رویے کو ایک استثنا کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کا بیان ہے: "(مسلمانو!) تمہارے لئے ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں۔۔۔۔۔(الا یہ)۔۔۔۔کہ میں (ابراہیم) تمہارے لئے استغفار ضرور کروں گا۔۔۔۔۔" (الممتحنہ: 4) اس کے باوجود کہ ابراہیمؑ نے آگے چل کر اپنے والد کے لئے دعا کرنا ترک کر دیا تھا (التوبہ: 114)، آپ کے اس عمل کو "اسوہ حسنہ" سے الگ کر دیا گیا! یہی وجہ ہے کہ "فتح القدیر" (ابن ہمام، 1388-1457) کے مطابق "اپنے والد کے لئے دعائے استغفار کے بغیر ابراہیم (ع) کے تمام اقوال اور افعال میں مسلمانوں کے لئے قابل اتباع نمونہ یعنی اسوہ حسنہ ہے۔"
اس طرح واضح ہوتا ہے کہ انسانیت کو قرآن کی سند سے ملنے والا پیغمبرانہ اخلاق، جس کی تکمیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے ہوئی، ہی واحد قابل اتباع نمونہ یعنی اسوہ حسنہ ہے۔ کیونکہ قرآن نے ہی انسانیت کے ان محسنین (پیغمبران کرام، علیہ السلام کے اخلاق کو محفوظ کیا۔ ورنہ اس سے قبل خدا کے ان برگزیدہ بندوں کا کردار مجموعی طور پر نظر انداز کردیا تھا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں پیدا ہونے والے عالموں، جن میں فلاسفہ، مورخین وغیرہ شامل ہیں، نے چھوٹی بڑی شخصیات کو اپنا موضوع بنایا تھا، لیکن اگر ان کے تذکروں اور ان کی نگارشات میں کسی چیز کے لئے جگہ نہیں تھی تو وہ انبیاء علیہ السلام کی مبارک زندگیاں ہی تھیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ بنی اسرائیل نے بھی اپنی تواریخ میں کئی ایک پیغمبروں ؑکو اتہامات کا شکار کرکے ان کی پاکیزہ زندگیوں کو داغدار کیا۔ لیکن اللہ تعالٰی نے بڑے اہتمام کے ساتھ انہی متبرک ہستیوں کی حیات کو موضوع بناکر محفوظ کیا۔
یہاں پر یہ بات واضح کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے بلا کسی تفریق کے ہر اس شخص کے کردار کو، اجمالا" یا تفصیلا"، جگہ دی ہے جو اسلام کے بنیادی اقدار کا قائل رہا ہے۔ اس ضمن میں ایرانی فرمانروا، سائرس اعظم (600-529 ق۔م۔) کا نام قابل ذکر ہے جو مولانا ابوالکلام آزاد کی تحقیق کے مطابق دراصل قرآن کا ذوالقرنین رہا ہے۔ قرآن کا ذوالقرنین جس طرح خدا کے عدل اور آخرت کا قائل نظر آتا ہے، اسے کسی بھی صورت میں اسکندر مقدونی (الیکزنڈر دی گریٹ، 336-323 ق۔م۔) پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ اول الذکر کی فتوحات بامقصد رہی ہیں جبکہ آخر الذکر کا مقصد صرف ملک گیری رہا ہے۔ عدل و انصاف کے قیام کی خاطر ہی سائرس نے بنی اسرائیل کو بابل کی رسوا کن غلامی سے آزاد کرکے فلسطین بھیج دیا۔ قرآن میں لقمان کے ذکر کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے کیونکہ ان کے ذریعے بھی اللہ تعالٰی کی وحدانیت کی تبلیغ ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری)
(رابطہ: 9858471965ای۔میلgmail.com: alhusain5161)
 

تازہ ترین