تازہ ترین

پانپور میں خونریز معرکہ آرائی، کمانڈر سمیت2 جنگجو جاں بحق | سرینگر اور پلوامہ میں 2غیر مقامی شہری ہلاک

لیفٹیننٹ گورنر کی مذمت، راجوری میں جے سی او اور فوجی اہلکار کی لاشیں برآمد، 6روزہ آپریشن میں فوجی ہلاکتوں کی تعداد 9تک پہنچ گئی،کاکہ پورہ میں تھانے پر گرینیڈ حملہ

تاریخ    17 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   
(عکاسی: مبشرخان)

بلال فرقانی +سید اعجاز+سمت بھارگو
سرینگر+پلوامہ+راجوری //سرینگر اور پلوامہ میں سنیچر کی شام اسلحہ برداروں نے 2غیر مقامی مزدوروں کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا ۔چند روز قبل اسی طرح کی کارروائیوں میں معروف ادویات فروش مکھن لعل بندرو ، 2غیر مسلم ٹیچر اور سومو سٹینڈ صدر کو ہلاک کیا گیا۔ادھر سنیچر کی صبح پانپور میں خونریز تصادم آرائی میں ایک کمانڈر سمیت دو جنگجو جاں بحق ہوئے اور کاکہ پورہ پلوامہ میں گرینیڈ دھماکہ ہوا۔ ادھر مینڈھر پونچھ میں6روز سے جاری آپریشن کے دوران فوج نے اپنے لاپتہ آفیسر اورایک اہلکار کی لاشیں دو روز بعد بر آمد کیں۔اس طرح ابتک راجوری پونچھ کے درمیانی جنگلاتی علاقے میں2آفیسر 9فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

سرینگر

عید گاہ کے قریب مشتبہ اسلحہ برداروں نے ایک غیر مسلم غیر مقامی بہاری مزدور پر نزدیک سے گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا اور اسپتال لیجاتے ہوئے دم توڑ بیٹھا۔پولیس کے مطابق عید گاہ علاقے میں 31سالہ اروند کمار سہا ساکن بہار نامی گو ل گپے فروخت کرنے والے نوجوان پر اسلحہ برداروں نے نزدیک سے گولیاں ماریں جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا اور صدر اسپتال لیجاتے ہوئے دم توڑ بیٹھا۔ یہ واقعہ شام قریب 6بجکر 20منٹ پر پیش آیا۔اس المناک واقعہ کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیا اور تلاشی کارروائی کا آغاز کیا۔چند روز قبل لال بازار علاقے میں بھی ایک بہاری گول گپے فروخت کرنے والے شہری کو ہلاک کیا گیا تھا۔جبکہ عید گاہ علاقے میں ہی گورنمنٹ ہائر سکنڈری سکول میں تعینات خاتون پرنسپل سیپندر کور اور ٹیچر دیپک چند کو دن دھاڑے سکول احاطے میں قتل کیا گیا اور اسی روز حاجن میں سومو سٹینڈ صدر کو ہلاک کیا گیا اور بٹہ مالو میں ایک پی ڈی ڈی ملازم کی بھی ہلاکت ہوئی۔

پلوامہ

 عید گاہ کی طرح لتر پلوامہ میں بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا۔ یہاں قریب7بجے اسلحہ برداروں نے صغیر احمد ساکن اتر پردیش کو اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا جب وہ کام کرنے کی جگہ کے باہر کھڑا تھا۔ وہ شدید طور پر زخمی ہوا اور بعد میں اسپتال لیجاتے ہوئے دم توڑ بیٹھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ نوجوان ایک ترکھان تھا اور لتر میں ہی ایک بینڈ سا کارخانے پر کام کرتا تھا۔ادھر کاکہ پورہ پلوامہ میں تقریباً اسی وقت مشتبہ جنگجوئوں نے سیکورٹی فورسز پر گرینیڈ پھینکا جو زوردار دھماکہ سے پھٹ گیا تاہم کوئی زخمی نہیں ہوا۔

شہری ہلاکتیں

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے عیدگاہ اور لتر پلوامہ میں 2غیر مقامی شہریوں کی ہلاکت کو بیہمانہ قرار دیا ہاے۔ انہوں نے کہا کہ روزگار کمانے کی خاطر آئے غریب مزدوروں کو قتل کرنے کے واقعات انتہائی غمناک ہیں جن کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ منوج سنہا نے کہا کہ ان واقعات میں ملوث سازشی عناصر کو عنقریب قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ انہوں ںے کہا کہ ’’ ہم نے ملی ٹنٹوں کو ختم کرنے کیلئے اقدامات میں سرعت لائی ہیں، انہیں بیگناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا حساب دینا ہوگا، میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ یک زبان ہوکر دہشت کیخلاف سینہ سپر ہوجائیں۔‘‘ سی پی اائی ایم لیڈر محمد یوسف تاریگامی، نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی ، پیپلز کانفرنس اور کانگریس پارٹی کے علاوہ اپنی پارٹی نے الگ الگ بیانات میں غیر مقامی شہریوں کی ہلاکتوں کی کڑے الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مہذب سماج میں ایسے واقعات کو کوئی جواز نہیں ہے اور اس طرح کے واقعات کشمیری عوام کو بدنام کرنے اور کشمیریت کو داغ دار بنانے کی ایک کڑی ہے۔

پانپور انکوانٹر

درنگہ بل پانپور میں فور سز اور جنگجوئوں کے درمیان مسلح تصادم آرائی میں لشکر کاانتہائی مطلوب ترین کمانڈر ساتھی سمیت جاں بحق ہوا ۔ تصادم آرائی میں ایک رہائشی مکان تباہ ہوا ۔پولیس نے بتایا جمعہ کی شب دیر گئے انہیں پانپورکے درنگہ بل علاقے میں لشکر کمانڈر کے ان کے ساتھی کے ہمراہ موجودگی کے حوالے سے مصدقہ اطلاع موصول ہوئی ، جس کے بعد اونتی پورہ پولیس،50آر آر اورسی آر پی ایف نے بستی کو محاصرے میںلے لیااور مشتبہ مکان کو گھرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا ۔پولیس نے بتایا کہ جب تلاشی پارٹی مشتبہ مکان کے قریب پہنچی تو یہاں موجود جنگجوئوں نے تلاشی پارٹی پر فائرنگ کی ۔انہوں نے بتایا مکان میں پناہ لینے والے جنگجوئوں کو خود سپردگی کا موقعہ بھی دیا گیا تاہم انہوں نے پیش کش کو ٹھکرا کر فائرنگ کی ،جس کے ساتھ ہی  طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا۔لیکن بعد میں آپریشن ملتوی کیا گیا۔ 3منزلہ مکان میں محصور جنگجوئوںکے خلاف آپریشن سنیچرکی صبح سویرے دوبارہ شروع کیا گیا جو بعد دو پہر تک جا ری رہا ۔جس میں دو جنگجو جاں بحق ہوئے۔جن کی شناخت تلہ باغ پانپور کے عمر مشتاق کھانڈے اور متھن چھانہ پورہ سرینگر کے شاہد خورشید کے بطور کی گئی۔معلوم ہوا ہے کہ مسلح تصادم  کے دوران ایک بیوہ کا مکان مکمل طور پر تباہ ہوا۔

راجوری پونچھ

مینڈھر میں بھاٹا دھوڑیاں کے گھنے جنگلاتی علاقے میں فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان 6روز سے جاری تصادم میں ، فوجی جوانوں کی ہلاکتیں 9 تک پہنچ گئیں، جن میں دو جونیئر کمیشنڈ آفیسر شامل ہیں ۔سنیچر کو تین روز قبل لاپتہ ہوئے ایک افسر سمیت دو فوجی اہلکاروں کی لاشین بر آمد کی گئیں۔عہدیداروں نے بتایا کہ بھاٹا دھوڑیاں علاقے میں تصادم ہفتہ کو تیسرے دن میں داخل ہوا اور دن بھر وقفے وقفے سے بھاری فائرنگ ہوتی رہی۔جنگل میںتلاشی آپریشن کے دوران ، جہاں14اکتوبر کی سہ پہر انکانٹرہوا تھا ، فوج کی ٹیموں نے دو اہلکاروں کی لاشیں برآمد کیں جو کہ مبینہ طور پر جمعرات کی شام سے علاقے میں تصادم کے بعد لاپتہ تھے۔دونوں کی لاشیں ہفتہ کی شام نکا لی گئیں اور انکا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔حکام نے کہا کہ اس کے ساتھ ، بھاٹا دھوڑیاں جنگلاتی علاقے میں شروع ہونے والے اس مقابلے میں فوج کے کل چار اہلکار اب تک مارے گئے ہیں۔فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی فوج کے صوبیدار اجے سنگھ اور نائیک ہریندر سنگھ بھارتی فوج کی جانب سے جموں و کشمیر پولیس کے ساتھ مل کر ضلع پونچھ کے نار خاص جنگل کے گھنے جنگل والے علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران مارے گئے۔صوبیدار اجے سنگھ اور نائیک ہریندر سنگھ سیکورٹی فورسز کی جانب سے جنگلاتی علاقے میں چھپے جنگجوئوں کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے شروع کیے گئے آپریشن کا حصہ تھے۔ فوج نے بیان میں کہا کہ 14 اکتوبر 2021 کو ملی ٹینٹوں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد صوبیدار اجے سنگھ اور نائیک ہریندر سنگھ کے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا۔ فوجیوں کے ساتھ دوبارہ رابطہ قائم کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں جاری رہیں۔ " فوج نے مزید کہا کہ اس سے قبل جمعرات کو فوج کے دو فوجی اس جنگل میں فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے جو بعد میں دم توڑ گئے اور ان کی شناخت رائفل مین یوگمبر سنگھ اور رائفل مین وکرم سنگھ نیگی کے نام سے ہوئی۔انکانٹر کے مقام پر ہفتہ کو دن بھر بھاری گولہ باری جاری رہی اور فوج نے جنگل کی گھاٹی کے مشتبہ علاقے کو نشانہ بنانے کے لیے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جہاں عسکریت پسند چھپے ہوئے تھے۔ عہدیداروں نے مزید کہا کہ بھاٹا دھوریان ، نار جنگلاتی علاقہ ، سنجیوٹ سمیت دیہات سخت محاصرے میں ہیں لیکن ابھی تک کسی عسکریت پسند کی ہلاکت کی فوری اطلاع نہیں ہے۔دریں اثنا ، راجوری اور پونچھ کی حدود پر چمر اور ڈھیراکی گلی جنگل کے علاقے میں جاری عسکریت پسندی کا آپریشن ہفتہ کو مسلسل چھٹے دن داخل ہوا ۔اس انکانٹر میں ، ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر سمیت پانچ فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ادھرجموں راجوری پونچھ قومی شاہراہ کو بند کردیا گیا ہے۔ٹریفک کوسنگل لین روڈ سے مینڈھر کے ذریعے موڑ دیا گیا ہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ تصادم شاہراہ سے مشکل سے چند سو میٹر کے فاصلے پر جاری ہے اور شہری آبادی کے لیے کسی قسم کے جانی خطرے سے بچنے کے لیے بھمبر گلی سے جڑاں والی گلی کے درمیان شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت بند ہے۔