تازہ ترین

اَدھوراخواب

افسانچہ

تاریخ    17 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


خالد بشیر تلگامی(کشمیر)
کھانا کھاتے ہوئے ندیم کی نگاہیں مسلسل ان کیبنوں کی جانب تھیں جن کے داخلے پردبیز اور رنگین پردے لگے ہوئے تھے۔اس کے دوست نے بتایا تھا کہ یہ فیملی کیبن ہیں۔ ان میں لوگ اپنی بیوی یا محبوبہ کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے پیتے ہیں۔ ندیم کی تشنگی بڑھنے لگی تھی۔ اس نے کبھی اس طرح کے ہوٹل میں قدم نہیں رکھا تھا اور نہ ایسے کیبنوں کے بارے میں جانتا تھا۔
اچانک ایک کیبن کا پردہ تھوڑا سا سرکا اور نوجوان لڑکے نے سر نکال کر بیرے کو آواز دی۔ندیم کی نگاہ اس نوجوان پر پڑی تو وہ چونک پڑا ۔’’ارے ، یہ تو وہی لڑکا ہے جو ابھی دو گھنٹے قبل بس میں میرے ساتھ تھا۔پردہ ہٹنے سے نوجوان کے ساتھ بیٹھی لڑکی کی صورت بھی نظر آگئی۔ اس جوڑے کو دیکھ کر ندیم کے دل میں ایک ٹیس سی اُٹھی۔
ندیم یہاں شہر میں اپنی شادی کے سلسلے میں خریداری کرنے آیا تھا۔شادی میں محض ہفتہ دن رہ گئے تھے اور ابھی تک بہت سی چیزیں نہیں مل پائی تھیں۔ خریداری سے قبل اس نے اپنے دوست احمد کو فون کرکے مطلوبہ جگہ بلا لیا تھا۔ چونکہ وہ یہیں رہتا تھا اُس لئے اسے یہاں کے بازاروں کا اچھا خاصا تجربہ تھا۔ندیم کی سسرال یہیں شہر میں تھی۔ اگر وہ چاہتا تووہاں سے کسی فرد کو بلا لیتالیکن اس نے یہ مناسب نہیں سمجھا۔
 احمد کے ساتھ اس نے دو گھنٹے تک خریداری کی۔دن کا ایک بج گیا۔ بھوک لگنے لگی تو دونوں اس ہوٹل میں آگئے۔
کھانا کھاتے ہوئے ندیم خیالوں میں گُم ہوگیا ۔
آج ہی تو ناشتہ وغیرہ سے فارغ ہوکر جب نو بجے کے قریب وہ گھر سے نکلنے لگا تو ماں نے پوچھ لیا۔’’اتنی تیاری کے ساتھ کہاں جارہے ہو بیٹا؟‘‘
’’ شہر جارہا ہوں امّی؟‘‘
’’کیوں۔۔۔۔سسرال ؟‘‘امّی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
’’نہیں امّی ،!‘‘ اس نے جھینپ کر کہا۔’’ابھی کچھ چیزوں کی خریداری باقی ہے، اس لیے۔۔۔۔‘‘
’’مگر بیٹا ، اگلے ہفتے تمہاری شادی ہے۔۔۔۔ اور پتا ہے نا کہ جب بھی ہمارے خاندان میں کسی کی شادی ہوتی ہے تو ہم اُسے دس دن پہلے سے ہی گھر سے نہیں نکلنے دیتے ۔۔۔۔اگر خدانخوستہ ۔۔۔۔۔جب سے تمہارے ابّو ہمیں چھوڑ کر اس دنیا سے چلے گئے ،میرا دل بہت کمزور ہوگیا ہے۔۔۔میں ہر دن بس یہی خواب دیکھتی ہوں کہ کب تمہاری شادی ہوجائے تاکہ میرے کندھوں کا بوجھ ہلکا ہوجائے۔۔۔۔تمہاری شادی میرے لیے کیا معنی رکھتی ہے یہ میں ہی جانتی ہوں۔۔۔۔تمہاری شادی کراکے اگر میں مر بھی جاؤں تو کوئی غم نہیں۔۔۔۔ورنہ مرنے کے بعد میری روح بے چین رہے گی۔‘‘
’’امّی،آپ ایسا کچھ مت سوچیں ۔۔۔۔مجھے کچھ چیزیں شہر سے لانی ہیں۔۔۔۔ان شا ء اللہ میں ایک دو بجے تک لوٹ آؤں گا ۔۔۔۔آپ ٹینشن مت لیجئے۔‘‘
’’ٹینشن کیسے نہ لوں؟۔۔۔۔جن کی شادی ہوتی ہے وہ کہیں باہر جاتے ہیں کیا۔۔۔۔؟ کل صنوبر کے ابّا کا فون آیا تھا ۔۔۔۔وہ تاکید کررہے تھے کہ تمہیں کہیں باہر نہ جانے دوں۔۔۔۔۔اگر کوئی ضرورت ہو تو ان سے کہہ دوں، وہ سری نگر سے بھجوادیں گے۔۔۔۔‘‘
صنوبر ! 
صنوبر کا نام ذہن میں آتے ہی خیالات کی رو اس کی طرف بہہ گئی۔ ہائے صنوبر ! کیا حسن دیا ہے اللہ نے اُسے ۔اس کی جسمانی ساخت میں کسی چیز کی کمی نہیں۔ ایک رشتے دار کی شادی کی تقریب میں اُسے دیکھا تھااورپہلی نظر میں اس پر فریفتہ ہوگیا تھا۔گھر آکر امّی سے اپنی تمنّا کا اظہارکیا۔ امّی نے پتا لگا کر صنوبر کے گھر والوں سے رشتے کی بات کی ۔ صنوبر کے والدین نے فوراً ہی حامی بھر لی اور کچھ دنوں کے بعد شادی کی تاریخ بھی طے ہوگئی۔ 
باپ کے انتقال کے بعد ندیم گھر میں اکیلا مر دتھا اس لیے اپنی شادی کا سارا سامان اسے خود خریدنا پڑرہاتھا۔ سارا انتظام اسے کرنا پڑ رہا تھا۔اس کی شادی کو لے کر اس کی ماں اور چھوٹی بہن بہت خوش تھیں۔ 
 ندیم شب عروسی میں، اپنی ہونے والی بیگم کودینے کے لیے آج ایک خوبصورت اور بیش قیمت تحفہ خریدنا چاہتا تھا۔ اس لیے اسے شہر آنا تھا۔اب ماں کو یہ بات کیسے بتاتا۔
ندیم کے گاؤں سے ایک بس شہر کے لئے جاتی تھی۔ جب وہ بس میں سوار ہوا تو ساری سیٹیں بھر گئی تھیں۔ بڑی مشکل سے اُسے پچھلی سیٹ پر ایک جگہ ملی۔شہر تک پہنچتے پہنچتے راستے میں اور بھی لوگ چڑھ گئے ۔ بس میں کافی بھیڑ ہوگئی تھی۔ راستے میں جام کی وجہ سے بس شہر کے مضافات میں قائم قصبے کے اسٹاپ پردس بجے پہنچی۔ وہاں اس کی بغل کی ایک سیٹ جیسے ہی خالی ہوئی تو ایک نوجوان اس پر آکربیٹھ گیا۔ اس نوجوان کی حرکتیں عجیب وغریب تھیں۔ شکل سے تو وہ اچھا خاصالگ رہاتھالیکن حرکتیں اوباشوں جیسی۔ بیٹھنے کے کچھ ہی ساعت کے بعد ڈرائیور کو آواز لگائی ۔’’او ڈرائیور ساب!۔۔۔کچھ گانا وانا لگاؤ۔‘‘
آس پاس کی سیٹوں کے لوگ اس کو دیکھنے لگے۔ جب ڈرائیور نے گانا لگایا تو ایک بزرگ شخص نے اٹھ کر ڈرائیور سے کہا۔’’بھائی، یہ گانا سانا بندکرو۔۔۔۔شور سے کان پھٹ رہے ہیں۔‘‘
بزرگ کی اس فرمائش پروہ نوجوان انہیں دھیمی آواز میںگالیاں دینے لگا۔آس پاس کے لوگ اسے تیکھی نظروں سے دیکھنے لگے۔ اس لیے اس نے خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھی۔
جب بس میں کچھ سکون ہوا تو وہ نوجوان ندیم سے مخاطب ہوکر بولا۔’’ بھائی ٹائم کیا ہوا؟‘‘
ندیم نے اپنی گھڑی میں وقت دیکھ کر بتایا۔’’ دس!‘‘
’’او مائی گاڑ۔۔۔۔دس بج گئے۔۔۔۔جام کی وجہ سے کتنا نقصان ہوتا ہے!‘‘ اس نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے کہا۔
’’بھائی سب خیریت تو ہے نا ۔۔۔۔آپ کو کہاں جانا ہے؟‘‘ ندیم نے سوال کیا۔
’’ ہاں سب خیریت ہے۔۔۔۔مجھے جنت میں جانا ہے۔‘‘
اس کا جواب سن کر ندیم دنگ رہ گیا۔ اس نے دل ہی دل میں کہا۔لوگ تو مرکر جنت میں جاتے ہیں۔۔۔۔دیکھو، یہ پاگل کیا کہہ رہا ہے۔ ندیم نے پھر اس سے کچھ پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔
دن کے تقریباً گیارہ بجے جب بس شہر پہنچی تو اس کا دوست بس اڈے پر اس کا انتظار کررہا تھا۔ شاپنگ کے بعد دونوںجب ایک ہوٹل پہنچے تو ندیم کی نگاہیں ہوٹل کے بورڈ پر جم گئیں۔ لکھا تھاـ : ہوٹل جنّت۔
’’ارے کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔۔اندر چلو۔‘‘ احمد نے ٹہوکادیا۔
ہوٹل میں دونوںایک خالی ٹیبل پرجم گئے اور احمد نے بیرے کوآواز دی۔
ندیم کو اس طرح کے ہوٹل میں کھانا کھانے کا اتفاق پہلی بار ہوا تھا۔ ہوٹل میں ایک طرف چند لڑکے اور لڑکیاں مل کر اپنے ایک دوست کو کھانا کھلارہے تھے۔ دوسری طرف ہوٹل میں چھوٹے چھوٹے کیبن بنائے گئے تھے جن پردبیز پردے آویزاں تھے، جن کے سبب کیبن کے اندرکاکچھ نظر نہیں آرہا تھا۔کیبنوں کے باہر چھوٹے چھوٹے بورڈ لگے ہوئے تھے، جن پر لکھا تھا: فی گھنٹہ ہزار روپئے۔
ندیم کو یہ سب باتیں بے چین کررہی تھیں۔اتنے میں بیرا کھانا لے کر آگیا۔
’’یار احمد !۔۔۔۔کیا معاملہ ہے ؟ندیم نے کیبنوں کی طرف آنکھ سے اشارہ کرکے پوچھا۔
’’ارے ، ان میں وہ کپل (جوڑے) آتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ کوئی اپنا انہیں نہ دیکھ سکے۔‘‘احمد نے بتایا۔
’’یہ ہوٹل ہے یا عیاشی کا اڑہ؟‘‘ندیم خشک لہجے میں بولا۔
’’چھوڑو۔۔یہ رو ز کامعاملہ ہے۔۔۔۔ان سب میں اپنادماغ مت کھپاؤ۔۔۔۔تم کھانا کھاؤ۔۔۔۔ اور جلد سے جل گھر جاؤ۔۔۔۔تمہاری امّی انتظار کر رہی ہوں گی۔‘‘
اور یہ وہی موقع تھا جب اچانک ایک کیبن کا پردہ تھوڑا سا سرکا اور نوجوان لڑکے نے سر نکال کر بیرے کو آواز دی۔پردہ کے ہٹنے سے نوجوان کے ساتھ بیٹھی لڑکی کی صورت بھی نظر آگئی۔
اچانک احمد نے اسے جھنجھوڑا ۔’’ارے تم کہاں کھو گئے ۔۔۔۔کتنی دیر سے تم کو دیکھ رہا ہوں ۔۔۔۔بالکل گم صم ہو۔۔۔۔کیا بات ہے؟‘‘
ندیم نے چونک کر احمد کی جانب عجیب سی نظروں سے دیکھاپھر کیبن والی لڑکی کی جانب۔
 اور اس کی زبان سے ایک ٹھنڈی اور لمبی سانس کے ساتھ چند الفاظ نکلے۔’’ آہ!۔۔۔۔میری ماں کا خواب ادھورا رہ جائے گا صنوبر!‘‘
���
پٹن، کشمیر
موبائل نمبر؛09797711122

تازہ ترین