مزید خبریں

تاریخ    16 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


سرنکوٹ کے متعدد دیہات میں پانی کی قلت 

محکمہ جل شکتی لاپرواہی کا شکار،نظام بحال کرنے کی مانگ 

بختیار کاظمی
سرنکوٹ// اسمبلی حلقہ سرنکوٹ کی کئی پنچایتوں میں اس وقت پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پید ہو گئی ہے ۔مقامی لوگوں ن ے محکمہ جل شکتی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ کئی ایک دیہات میں اس وقت جہاں واٹر سپلائی سکیمیں بند پڑی ہوئی ہیں وہائیں محکمہ کے ملازمین بھی ان کی بحالی کیلئے سنجیدہ نہیں ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ محکمہ کی لاپرواہی کی وجہ سے اب لوگوں کو کئی کلو میٹر کی پیدل مسافت طے کر کے پینے کیلئے صاف پانی لانا پڑرہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ کی لاپرواہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرنکوٹ قصبہ کی کئی وارڈوں میں پانی سپلائی گزشتہ کئی دنوں سے بند پڑی ہوئی ہے لیکن محکمہ اس کی بحالی کیلئے عملی سطح پر کوئی کام نہیں کررہا ہے ۔سرنکوٹ قصبہ کے علاوہ اسمبلی حلقہ کے شیندرہ ،ہاڑی ،سانگلہ ،بیر سیلاں ،دھندک ،لٹھونگ ،سنئی ودیگر کئی دیہات میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پائی جارہی ہے جبکہ اس سلسلہ میں محکمہ آب رسانی کے اعلیٰ آفیسران و ملازمین کیساتھ رجوع کرنے کے بعد بھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے ۔غور طلب ہے کہ سرنکوٹ اسمبلی حلقہ میں قدرتی طورپر پانی کی قلت نہیں ہے لیکن محکمہ کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے پانی کو گھروں تک سپلائی کرنے کیلئے نظام کو مکمل فعال نہیں بنایا جاسکا ۔مقامی لوگوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ سرنکوٹ میں پانی کی بحالی کیلئے کوئی بندوبست کیا جائے جبکہ غیر سنجیدہ ملازمین و آفیسران کو جلدازجلد تبدیل کیا جائے ۔
 
 
 

سانپ کے ڈسنے سے نوجوان کی موت 

پرویز خان 
منجا کوٹ // منجا کوٹ تحصیل میں سانب کے ڈسنے کی وجہ سے ایک 25سالہ نوجوان کی موت واقعہ ہو گئی ۔اہل خانہ نے بتایا کہ نوجوان کو سانپ کے ڈسنے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے مزید علاج معالجہ کیلئے گور نمنٹ میڈیکل کالج جموں منتقل کیا گیا تاہم دوران علاج اس کی موت واقعہ ہو گئی ۔نوجوان کی شناخت 25سالہ محمد مشتاق ولد محمد صدیق سکنہ راجدھانی منجا کوٹ کے طورپر ہوئی ہے ۔
 
 

فرقہ پرستی کیخلاف آواز بلند کریں گے :شاہد سلیم 

تھنہ منڈی // پیرپنچال اور چناب ویلی متحدہ محاذ کے سرپرست میر شاہد سلیم نے فرقہ پرستی کیخلاف آواز بلند کرنے کو عزم کرتے ہوئے کہاکہ خطہ پیر پنچال اور جناب ویلی کی ایک منفرد پہچان اور منفرد شناخت ہے۔تھنہ منڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ موصوف نے کہاکہ جو لوگ محلوں میں بیٹھ کر فرقہ وارانہ بنیادوں پر فیصلے کرتے ہیں ہم ان کے خلاف حق کی آواز کو بلند کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر جموں والے جموں کے مفادات کی بات کر سکتے ہیں تو ہمیں بھی خطہ پیرپنچال اور چناب ویلی کے مفادات کی بات کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ گریٹر پیرپنچال اور چناب ویلی کی اپنی خواہشات اپنی شناخت اور اپنی ضروریات ہیںجبکہ جموں میں بیٹھے لیڈران کو پیر پنچال اور چناب وادی کے لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔انہوں نے کہا کہ بلا تمیز رنگ و نسل مذہب و ملت سارے لوگ غیر سیاسی فرنٹ پیر پنچال اور جناب ویلی متحدہ محاذ کے ساتھ ہیں۔ مقررین نے مزید کہا کہ جموں کے چند سیاسی لیڈران 25 فیصد آبادی کیلئے پریشان ہیں جبکہ انھیں پیرپنچال اور چناب ویلی کی کوئی اہمیت نظر نہیں آتی۔ پریس کانفرنس میں ڈی ڈی سی ممبر عبدالقیوم میر، غلام نبی کملاک،عبدالرشید خان پنچوں اور سرپنچوں کے علاوہ علاقہ کے کئی معززین بھی موجود تھے ۔
 
 

ماسٹر فضل احمد شیخ کے والد کا انتقال 

سیاسی و سماجی شخصیات نے دکھ کا اظہار کیا 

عظمیٰ یاسمین
 تھنہ منڈی // نامور استاد ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر فضل احمد شیخ کے والد الحاج خادم حسین شیخ سکنہ مجہور شاہدرہ شریف کا مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا ہے۔ ان کی عمر تقریباً 90 سال بتائی جاتی ہے۔ان کی نماز جنازہ جمعہ کو شام پانچ بجے بس اسٹینڈ شاہدرہ میں ادا کی گئی جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔مرحوم انتہائی نیک سیرت ہونے کیساتھ ساتھ دینی خدمات میں مصروف رہتے تھے جبکہ علاقہ میں ان کافی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کی وفات پر علاقہ کی کئی سرکردہ شخصیات نے شیخ برادری سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی جنت نشینی کیلئے دعا کی ہے۔وفات کے سلسلہ میں اہل خانہ کیساتھ کئی سیاسی ،سماجی و مذہبی شخصیات نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کیلئے دعائے مغفرت کی ہے ۔
 
 

گریڈ دوم و سوم اساتذہ کو ستمبر ماہ کی تنخواہ نہ ملی 

آر ای ٹی فورم نے ناراضگی کا اظہار کیا 

پونچھ//ضلع پونچھ کے آر ای ٹی فورم کے صدر حمید نباز نے پونچھ کے این پی ایس گریڈ 2 اور گریڈ 3 کے اساتذہ کی ستمبر کی تنخواہیں واگزار نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں ڈویژن کے کچھ حصوں میں اساتذہ کو ماہ ستمبر کی تنخواہ واگزار کی گئی ہیںلیکن پونچھ میںنہیں دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح اساتذہ میں تفاوت کا احساس پیدا کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا اس حقیقت کے باوجود کہ یہ اساتذہ کوویڈ جیسے مشکل وقت میں معاشرے کیلئے اضافی کام سے کر رہے ہیںان کو تنخواہ سے محروم رکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا دوسری بار ان اساتذہ کے ساتھ ایسا ہوا ہے۔ ان میں سے بیشتر نے بینکوں سے قرض لیا ہے لیکن ماہانہ قسطوں کے ساتھ ان کو واپس کرنے سے قاصر ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ کچھ اساتذہ کوبینکوں سے نوٹس وصول ہوئے ہیں ۔فورم اراکین نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ پونچھ میں اساتذہ کی تنخواہ کو جلدازجلد وگزار کیا جائے تاکہ ان کی پریشانی کم ہو سکے ۔
 
 

پونچھ سے تعلق رکھنے والے ڈائریکٹر شیراز سکندر

ٹپس میوزک کمپنی کے پروجیکٹ پر کام کریں گے

حسین محتشم
پونچھ// پونچھ ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک اور نوجوان فلم ڈائریکٹر شیراز سکندر نے مستقل جدوجہد کر کے اپنی ایک الگ پہچان بنا نہ صرف اپنا اور اپنے خاندان کا بلکہ ضلع پونچھ اوراپنی جموں کشمیر کا نام روشن کیا ہے۔ شیراز سکندر کی بہترین کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ٹپس میوزک کمپنی نے انھیں ایک غیر معمولی پروجیکٹ دیا ہے،جو ان کے ساتھ ساتھ ضلع پونچھ اور جموں و کشمیر کے لوگوںکیلئے ایک اعزاز کا مقام رکھتا ہے۔غور طلب ہے کہ سرحدی ضلع پونچھ کی سرزمین سرسبز و شاداب ہے یہاں کے لوگوں نے اکثر اس بات کوثابت کیا ہے۔کوئی بھی شعبہ ہو یہاں کے ہنر مندوں نے اس شعبہ میں بہتر کارکردگی دکھا کر پوری دنیا میں اپنا منفردمقام حاصل کیا ہے۔ اس پروجیکٹ میں مشہور گلوکارہ زرتاشا اپنی آواز دی ہے اور موسیقی مشہور موسیقار کابل بخاری نے دی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ممبئی کی مشہور کمپنی کے اس گانے کی شوٹنگ جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ میں کی گئی ہے۔ پونچھ کے مقامی شہریوں نے اس بات پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بڑی بات ہے کہ شیراز سکندر کی اولین ترجیح قومی اور بین الاقوامی سطح پر پونچھ کا نام روشن کرنا ہے۔ شیراز سکندر نے کہا کہ وہ بہت زیادہ خوشی محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں ٹپس میوزک انڈسٹریز جیسی معتبر کمپنی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔
 
 
 

منڈی کے مختلف مقامات پر محافلِ میلاد کا اہتمام

عشرت حسین بٹ
منڈی//ماہِ ربیع الاول کے شروع ہوتے ہی پوری دنیا کی طرح ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے مختلف مقامات پررسول پاک ﷺکی ولادتِ باسعادت کے سلسلہ میں محافل کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اس برس بھی تحصیل کے متعدد علاقوں میں کورونا وائرس کی تمام احتیاطی تدابیر کو اپناتے ہوئے ان پروگراموں کو منعقد کیا جا رہا ہے۔ منڈی تحصیل میں انجمن رضاے مصطفیٰ مرکزی جامعہ مسجد میں ہر روز نماز ظہر کے بعد محافلِ میلاد نبی کا اہتمام کیا جاتا ہے جو گزشتہ پانچ ایام سے جاری ہے جس میں نعت خواں حضرات رسولؐ کی بارگاہ میں حمد ونعت کی صورت میں اپنا نظرانہِ عقیدت پیش کرتے ہیں بعد ازاں علماء کرام فلسفہِ ولادت باسعادت رسول ﷺپر روشنی ڈالتے ہیں۔ اس سلسلہ میں جمعہ کو بھی ایک پرْ وقار محفل کا اہتمام کیا گیا تھا جس سے خطاب کرتے ہویے مولانا سید فاظل حسین نے کہا کہ رسول ﷺکی ذات تمام عالموں میں رہنے والی مخلوقات کیلئے باعث رحمت ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے قرآن مجید میں مسلمانوں کے آخری پیغمبرؐکیلئے فرما یا ہے کہ ان کی ذات دنیا میں رہنے والی ہر طرح کی مخلوق کیلئے رحمت ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کی ولادتِ باسعادت اللہ کی طرف سے بنی نوع انسان کیلئے بہت بڑا تحفہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو چاہے کہ وہ رسول ؐکے بتائے ہوئے راستے پر عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی کو گزاریں تاکہ ان کی دنیا و آخرت دونوں آباد ہوجائیں ۔مرکزی جامع مسجد منڈی کے صدر سید مسرت حسین بخاری نے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال کی طرح امسال بھی میلاد نبیؐ کے حوالے سے یکم ربیع لاول تا بارہ ربیع الاول مرکزی جامعہ مسجد منڈی میں محافل کا پروگرام کیا جائے گا۔
 
 

منڈی ۔پونچھ سڑک کی حالت ابتر

گزشتہ دو برس سے تعمیری کام مکمل نہ ہو سکا

عشرت حسین بٹ
منڈی/تحصیل منڈی کو ضلع صدر مقام پونچھ سے ملانے والی سٹرک کی حالت ابتر ہے جس کی وجہ سے اس سڑک پر سفر کرنے والے لوگوں کو کافی زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور گزشتہ دو برس سے سڑک کا تعمیری کام مکمل بھی نہیں ہوسکا ہے ۔مکینوں نے تعمیر اتی ایجنسی و متعلقہ حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ سڑک انتہائی خستہ ہو گئی ہے لیکن متعلقہ حکام اس پرو جیکٹ کو مکمل کر کے مسافروں و ٹرانسپورٹروں کے مسائل کو کم کرنے میں پوری طرح سے ناکام ہو گئے ہیں ۔ اگر چہ سرکار کی جانب سے منڈی تا چنڈک 12 کلو میٹر سڑک کی کشادگی کی گئی ہے مگر کشادگی کے بعد سڑک پر سرکار کی جانب سے کوئی بھی تعمیری کام گزشتہ دو برس سے نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے سڑک میں جگہ جگہ کھڈے پڑے ہوئے ہیں۔ اس سڑک پر روزانہ ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں سفر کرتی ہیں مگر سڑک کی خستہ حالت کی وجہ سے گاڑی مالکان اور گاڑیوں میں سفر کرنے والے مسافروں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ اس سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کی عمر بھی نصف سے کم ہو چکی ہے کیونکہ لگاتار اس سڑک پر سفر کر کے گاڑیوں کو بھی شدید نقصان ہو رہا ہے۔ سڑک کی خستہ حالی کے حوالے سے شبیر احمد نامی ایک شخص نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ گزشتہ دو برس سے اس سڑک کی حالت خستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو برس قبل سرکار کی جانب سے منڈی تا چنڈک سڑک کی کشادگی کا کام شروع کیا گیا تھا اور سڑک کی کشادگی بھی مکمل کی گئی مگر ابھی تک اس سڑک کی مرمت نہیں کی گئی ۔ان کا کہنا تھا کہ نہ ہی سڑک پر تارکول بچھایا گیا ہے اور نہ ہی سڑک پر حفاظتی دیواریں بنائی گئی ہیں ۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ سڑک کو جلدازجلد مکمل کیا جائے تاکہ عوامی مشکلات کم ہو سکیں ۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

تازہ ترین