کوٹرنکہ ۔شاہپور سڑک پر تار کول بچھانے کا عمل شروع

تاریخ    16 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


محمد بشارت
کوٹرنکہ //سب ڈویژن ہیڈ کوارٹر کوٹرنکہ سے شاہپور جانے والی 14کلو میٹر سڑک پر تار کول بچھانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے ۔تار کول بچھانے کے عمل کا افتتاح بلا ک ڈیو لپمنٹ کونسل چیئر مین کوٹرنکہ جاوید اقبال چوہدری نے دیگر معززین و پنچایتی اراکین کی موجود گی میں کیا جبکہ اس موقعہ پر محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے اعلیٰ آفیسران و ملازمین بھی موجود تھے ۔پنچایت حلقہ موڑھ بی کراگ ،لڑکوتی اور شاہپور کی عوام نے انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ پروجیکٹ مکمل ہونے کے بعد مقامی لوگوں کو سہولیات میسر ہو نگی ۔غور طلب ہے کہ مذکورہ دیہات میں جانے والی رابطہ سڑک پر دس برسوں بعد تار کول بچھانے کا عمل شروع کیا گیا ہے جبکہ ابھی تک مقامی لوگوں کو دوران آمد ورفت شدید مشکلات درپیش رہتی تھی ۔بلاک ڈیو لپمنٹ کونسل چیئر مین نے بتایا کہ عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنا ،بجلی اور سڑکوں کی حالت کو معیاری بنانا ان کا اصل مشن ہے ۔اس موقعہ پر مقامی سرپنچ چوہدری لیاقت علی ،عبدالقیوم بٹ ،چوہدری جمیل ،علی محمد چوہدری ویگران بھی موجود تھے ۔
 
 

تھنہ منڈی کا ’اپر درہ ‘گائوں بنیادی سہولیات سے محروم 

پاپئیں بوسیدہ ،رابطہ سڑک برسوں سے مکمل نہ ہو سکی 

عظمیٰ یاسمین
 تھنہ منڈی // سب ڈویڑن تھنہ منڈی سے تقریباً 10 کلو میٹر کے فاصلے پرآباد’اپر درہ ‘گائوں لگ بھگ ہر طرح کی بنیاد ی سہولیات سے محروم ہو چکا ہے جبکہ اعلیٰ حکام کی لاپرواہی کی وجہ سے لوگ قدیم طرز کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ گائوں کے ایک حصے میں پانی کی رسائی ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی جبکہ کئی برسوں سے بچھائی گئی پاپئیں بھی اب بوسیدہ ہو گئی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ گائوں کر دیگر علاقوں کیساتھ جوڑنے والے منیال گلی ۔درہ 11کلو میٹر سڑک گزشتہ کئی برسوں سے مکمل ہی نہیں ہو پارہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو دیگر علاقوں میں جانے کیلئے پیدل سفر طے کرنا پڑتا ہے ۔غور طلب ہے کہ اپر درہ تھنہ منڈی کا ایک خوبصورت گاؤں ہے جو کئی ہزار نفوس کی آبادی پر مشتمل ہے لیکن حکومتی عدم توجہی کے باعث جدید سہولیات سے محروم ہے جہاں پر لوگ پرانے طرزِ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اگر چہ حالات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے تاہم آج بھی اس پسماندہ گاؤں میں پرانے زمانے کی نادر چیزیں دیکھنے کو ملیں گی۔ لوگوں کا بنیادی ذریعہ معاش زراعت ہے۔ زمین کم زرخیز ہونے کے ساتھ ساتھ جدید سہولیات کے فقدان کی وجہ سے شرح آمدنی میں بھی نمایاں کمی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہاں کے اکثر لوگ محنت مزدوری کے بل بوتے پر زندگی کی گزر بسر کرتے ہیں۔ یہاں آج بھی لوگ ہل چلا کر کھیتی باڑی کرتے ہیں کیونکہ یہ چھوٹا سا گاؤں سطح سمندر سے کافی اونچائی پر واقع ہے ۔گاؤں چونکہ انچائی پر واقع ہے لہذا لوگ ضروریاتِ زندگی کے حصول کیلئے روزانہ کی بنیاد پر دشوار گزار راستوں سے ہو کر اپنی زندگی کی گزر بسر کرتے آئے ہیں لیکن اب حکومت نے یہاں کی مقامی آبادی کو رابطہ سڑک کے ذریعہ دیگر علاقوں کیساتھ جوڑنے کا عمل شروع کیا تھا لیکن گزشتہ کئی عرصہ سے پروجیکٹ کو مکمل ہی نہیں کیا جارہا ہے ۔علاقہ میں صاف پانی کا ایک چشمہ موجود ہے جو عدم توجہی کے باعث زبان خاموش سے اپنی بدحالی کی داستان بیان کر رہا ہے۔ دور دراز سے اس پانی پر لوگ بچے نہلانے کیلئے لاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس پانی سے نہلانے سے چمڑی کی بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں ۔علاقہ میں بجلی کیساتھ ساتھ پانی کی سپلائی بھی خستہ ہے ۔پانی کی بوسیدہ پاپئیں ٹھیک کرنے کیلئے نئی پاپئیں لگانے کے سلسلہ میں کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی ہے لیکن ابھی تک کام شروع نہیں ہوسکا ۔مکینوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ان کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں ۔
 
 

نیلی ۔حیات پورہ سڑک خراب 

انتظامیہ کی لاپرواہی پرلوگ ناراض 

پرویز خان
منجا کوٹ //منجا کو ٹ کے نیلی علاقہ سے حیات پورہ جانے والی رابطہ سڑک کی انتہائی خستہ حالی کی وجہ سے عام لوگوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں ۔مقامی لوگوں نے تعمیر اتی ایجنسی سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ غیر معیاری طریقہ سے بچھائی گئی تار کول کچھ ہی عرصہ میں اکھڑ گئی جس کی وجہ سے رابطہ سڑک دوبارہ سے کھڈوں میں تبدیل ہو گئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سڑک کو تعمیر ہوئے ابھی تک دو برس کا عرصہ بھی نہیں ہوا ہے لیکن اب سڑک آہستہ آہستہ نا قابل استعمال ہو تی جارہی ہے ۔غور طلب ہے کہ مذکورہ رابطہ سڑک کے ذریعہ کئی دیہات کی عوام کو فائدہ پہنچ رہا تھا لیکن نالیوں و حفاظتی باندھ معیاری نہ ہونے کی وجہ سے رابطہ سڑک خراب ہونا شروع ہو گئی ہے ۔مکینوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ محکمہ کو ہدایت جاری کی جائیں تاکہ سڑک کی مرمت کی جاسکے ۔
 

تازہ ترین