طالبان بھی بدل سکتے ہیں لیکن پاکستان نہیں

’ جموں وکشمیرمیں’ ٹارگٹ کلنگ‘ خوف پھیلانے کی کوشش‘

تاریخ    16 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


سرینگر//آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے جمعہ کے روز کہاکہ ہم طالبان کی تاریخ جانتے ہیں،تاہم طالبان بھی بدل سکتے ہیں لیکن پاکستان نہیں۔انہوںنے کشمیرمیں ٹارگٹ کلنگ کوخوف پھیلانے کی ایک کوشش قرار دیتے ہوئے خبردارکیاکہ سرحدوں پر فوجی تیاری کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔جے کے این ایس کے مطابق ناگپورمیں ریشم باغ گراؤنڈ میں سالانہ وجیادشمی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ سرحدوں پر فوجی تیاری کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بٹ کوائنBitcoin اور او ٹی ٹیOTT پلیٹ فارم پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے کہا کہ وہ ان چیزوں کو منظم کرنے کیلئے کوششیں کرے۔آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ جنگجو خوف پھیلانے کیلئے جموں و کشمیر میں ٹارگٹ تشدد کا سہارا لے رہے ہیں۔وجے دشمی کے موقع پر موہن بھاگوت نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ سال ہماری آزادی کا 75واں سال ہے۔ ہم 15 اگست 1947 کو آزاد ہوئے۔ ملک کو آگے بڑھانے کیلئے اس کا فارمولا اپنے ہاتھ میں لیا۔انہوںنے کہاکہ ہمیں یہ آزادی راتوں رات نہیں ملی۔ آزاد بھارت کی تصویر کیا ہونی چاہیے، بھارت کی روایت کے مطابق ملک کے تمام علاقوں سے تمام ذاتوں سے نکلنے والے ہیروز نے قربانیاں دیں۔آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ آزادی کے بعد ہمیں بٹوارے کا درد ملا۔ تقسیم کا غم ختم نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہماری نسلوں کو تاریخ کے بارے میں جاننا چاہیے، تاکہ آنے والی نسل کو بتایا جاسکے کہ قربانی دینے والوں نے ملک کیلئے  سب کچھ قربان کیا ہے۔موہن بھاگوت نے کہا کہ ہم طالبان کی تاریخ جانتے ہیں۔ چین اور پاکستان آج بھی اس کی حمایت کرتا ہے۔ انہوںنے تاہم کہاکہ طالبان بدل سکتا ہے لیکن پاکستان نہیں۔موہن بھاگوت نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ کیا بھارت کو لیکر چین کے ارادے بدل گئے ہیں؟۔انہوںنے اس بات پرزوردیاکہ ہماری سرحدی سیکورٹی کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔بھاگوت نے کہا کہ معاشرتی شعور اب بھی ذات پر مبنی جذبات سے دوچار ہے اور آر ایس ایس اس سے نمٹنے کیلئے کام کر رہی ہے۔
 

تازہ ترین