تازہ ترین

جموں کشمیرمیں بیروزگاری اورمہنگائی میں اضافہ

حکومت کے ’ترقی‘دعوئوں کی نفی کرتا ہے: تاریگامی

تاریخ    16 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


 سرینگر //سی پی آئی(ایم)کے رہنما یوسف تاریگامی نے جمعہ کو کہا کہ جموں و کشمیر میں سب سے زیادہ بے روزگاری کی شرح 21.6 فیصد اور افراط زر کی شرح 7.39 فیصد انتہائی پریشان کن ہے اوریہ بی جے پی حکومت کے ’ترقی‘کے بلند و بانگ دعوں کی نفی کرتے ہیں۔ خطے میں 2019 کے بعد وزارت شماریات اور پروگرام اور سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی(سی ایم آئی ای) کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں بیروزگاری کی شرح 21.6 فیصد ہے جو ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوںمیں سب سے زیادہ ہے۔ اسی طرح ، سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی (سی ایم آئی ای)کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 7.39 فیصد کی افراط زر کی شرح نے خطے کو ہندوستان میں رہنے کے لیے مہنگا ترین مقام بنا دیا ہے۔  اپنے ایک بیان میں تاریگامی نے کہا جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی سطح کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جون 2020 میں سروسز سلیکشن بورڈ (SSB) کی طرف سے مشتہر کی گئیں 8575 درجہ چہارم کی پوسٹوں کے لیے ، ہزاروں اعلی تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں نے درخواستیں دیں۔ یہ اعداد و شمار بی جے پی حکومت کے ان دعوں کو بے نقاب کرتے ہیں کہ اگست 2019 میں دفعہ 370 کے تحت سابق ریاست کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر نے بڑی ’ترقی‘دیکھی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ترقی ، روزگار اور دیگر عوامل کی بنا پر من گھڑت کہانیاں بناتی  ہے۔

تازہ ترین