فقہی موشگافیاں اور وقت کا تقاضا

تلخ وشریں

تاریخ    16 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


ہلال احمد تانترے
فقہ ایک رحمت ہے اور متقدمین علماء کی خدمات اس حوالے سے قابلِ قدر ہیں۔ عوام قرآن و سنت کی باریک بینیوں سے عمومی طور پر بے خبر ہوتی ہے۔ اس لیے علماء وقت وقت پر اپنی ذہانت و فتانت کا استعمال کرتے ہوئے عوام کی رہنمائی کرتے ہیں۔ باریک سے باریک تر مسئلے کو بھی آسانی کے ساتھ حل کردیتے ہیں ۔ خود اس بات پر جھانک لیتے ہیں کہ عوام کو کون سی دشواریاں پیش آرہی ہیں اور آسان حل کیا ہو سکتا ہے ۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس سخت آزما میدان میں بعض ایسے افراد آٹپکے جن کا مقصد خود کو فقہی ثابت کرنا تھا ۔ وہ صرف مسئلہ بیان کرنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس مسئلے کے حوالے سے ایسے ایسےدلائل بھی دیتے رہتے ہیں کہ جن سے سب سے زیادہ نقصان دین ِ اسلام کو ہی پہنچتا ہے۔ عوام قرآن و سنت سے ڈرنے لگتی ہےاور وہ اپنے آپ کو اس قابل سمجھ ہی نہ پاتے کہ خود قرآن و سنت کا مطالعہ کریں ۔ باہر کی دنیا میں جس طرح جید علماء فروعات کو سلجھانے میں ایک دوسرے سے بر سرِ پیکار تھے، اُس سے عوام کے اندر ایک قسم کا ڈراور خوف پیدا ہو گیا ۔ فروعات نے اصولوں کی جگہ اور اصولوں نے فروعات کی جگہ لے لی۔ فروعات کے اندر اختلافات پیدا ہونے کی وجہ سے قسم قسم کے مکتبوں، مسلکوں و انجمنوں نے جنم لے لیا، جن کا مقصد اس چیز کے سوا اور کچھ نہیں تھا کہ خودکے مسلک کو صحیح منوائیں۔ اس سلسلے میں ایک اور زَخ دین کو اس طرح سے پہنچا کہ اب نفرتوں و عداوتوں کا بازار گرم ہونے لگا۔ جس کے چلتے کسی کو بھی مرتد ومشرک اور کافر و منکر قرار دیا جانے لگا۔ 
قرآن و سنت کا اگر غایت درجے سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام ایک وسیع و عریض دین ہے ۔ بس اتنا کہنے پر ہی اکتفا کیا جا سکتا ہے کہ قرآن نے پکے منافقین، جن کی مفافقت میں کوئی قیل و قال نہیں تھا کو ’مسلمان ‘کہہ کر خطاب کیا ہے۔اُس کے بر خلاف یہاں کسی نے اگر کسی فروعی مسئلے کو لے کر ایک الگ رائے قائم کی تو اس پر مشرک و منکر کا فتویٰ صادر کیا جاتا ہے۔ یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔ اِن فروعی معاملات نے ہمیں دین کی اصل سے بے خبر کر دیا۔ اب ہر کوئی اپنے اپنے مکتبہ فکر کی خاص کتاب پڑھنے لگا۔ اس کشمکش میں شاذ ہی کوئی اللہ کا بندہ ایسا دکھائی دیتا ہے جو کہ قرآن و سنت کی طرف دعوت دیتا ہو ۔
ابھی حال ہی میں احقر نے ایک خطیب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ کوئی بھی گناہ چھوٹا یا بڑا نہیںہوتا۔ اور اس چیز کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے ایک بزرگ کی کرامت کو پیش کر دی کہ بزرگ موصوف کو الہام ہوا کہ سب گناہ سب ایک جیسے ہیں ، یہ ہم ہیں جو گناہوں کو چھوٹا اور بڑا کے زمرے میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ خطیب صاحب نے جوں ہی یہ بات کہہ ڈالی تو عوام کے اندر ایک قسم کا اضطراب پیدا ہوا، جو کہ میں نے بذاتِ محسوس کیا۔ اب خطیب صاحب سے کوئی کہتا کہ گناہوں کی چھوٹے اور بڑے میں تقسیم قرآن و حدیث سے ثابت ہے ، بلکہ نیک اعمال کے انجام دینے سے چھوٹے گناہوں کی تقصیر ہوجاتی ہے، تو عوام کے اندر ایک امید سی جاگ جاتی۔ ساتھ ساتھ یہ بھی کہنے کی ضرورت تھی کہ جب کسی بات کو لے کر دلیل پیش کی جاتی ہے تو سب سے پہلے قرآن سے استفادہ حاصل کیا جاتا، اُس کے بعد حدیث، اُس کے بعد آثار صحابہؓ، اُس کے بعد اجماع ۔ اس طرح سے عوا م کے اندر بات مستند طریقے سے راسخ ہوجاتی ہے ۔
اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اگرفروعات میں انسان ذرا سی آزادی بھی برتے تو کوئی پروا نہیں۔ اِسے دین کی جامعت اور وسعت سمجھتے ہوئے خود کو خواہ مخواہ کی تکالیف سے بچایا جا سکتا ہے۔اسی بات کو لے کر ایک حدیث کی رُو سے اپنی بات ختم کرتا ہوں اس امید کے ساتھ کہ ہمارے جن مفتیانِ کرام ، علماء و خطباء کو اپنے سماج میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ اس قسم کی وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کریں۔ ہمارے سماج میں اتنے سارے مسائل پڑے ہیں، ذرااُن پر بات کی جائے۔لوگوں کی زندگیوں کو قرآن کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے۔ رہن سہن، سماجی و معاشی معاملات، اٹھنے بیٹھے کے آداب، سماجی برائیوں کی روک تھا، بے روزگاری، نشہ آوری، آوارہ گردی، بے حیائی، حرام کی کمائی، تساہل پسندی، وغیرہ ایسے کتنے موضوعات ہیںجن پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ علماء و خطباء کو قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ مسجد کے ممبر سے جب کوئی بات کہی جاتی ہے وہ اپنے اندر ایک تاثیر رکھتی ہے۔ 
نماز دینِ اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔اِس کی رکنیت کو لے کر مسلمانوں کے اندر کوئی اختلاف نہیں۔ لیکن اسی نماز کو لے کر ہم نے کئی سارے فرقوں کو سخت القابات سے نوازا ہے۔ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ انصار میں ایک صاحب مسجد قبا میں نماز پڑھاتے تھے اور اُن کا طریقہ یہ تھا کہ ہر رکعت میں پہلے قل ھو اللہ(سورہ اخلاص) پڑھتے ، پھر کوئی سورت تلاوت کرتے۔ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ا ور اُن سے کہا کہ یہ تم (خلافِ معمول عمل )کیا کرتے ہو ؟ قل ھواللہ کے بعد اسے کافی نہ سمجھ کر کوئی اور سورت بھی اُس کے ساتھ کیوں ملالیتے ہو؟ یہ ٹھیک نہیںہے۔ یا تو صرف اِسی کو پڑھو یا اسے چھوڑ کر کوئی اور سورت پڑھو۔ انہوں نے کہا میں اِسے نہیںچھوڑ سکتا، تم چاہو تو میںتمہیںنماز پڑھائوں ورنہ امامت چھوڑ دوں۔ لیکن لوگ اُن کی جگہ کسی اور کو امام بنانا بھی پسند نہیںکرتے تھے۔ آخر کار معاملہ حضورؐ کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ ؐنے ان سے پوچھا کہ تمہارے ساتھی جو کچھ چاہتے ہیں اُسے قبول کرنے میں تم کو کیا امر مانع ہے؟ تمہیںہر رکعت میں یہ سورت پڑھنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ انہوں نے عرض کیا مجھے اس سورت سے بہت محبت ہے ( کیوں کہ اس میں اللہ کی صفات بیان کی گئیں ہیں، اسی لیے ہررکعت میں اس سورت کا ورد کرتا ہوں )۔ آپؐ نے نہ صرف اجازت فرمائی بلکہ یہ کہتے ہوئے خوشخبری بھی سنا دی کہ اس سورت سے تمہاری محبت نے تمہیںجنت میں داخل کر دیا (بحوالہ تفہیم القرآن)۔ 
رابطہ۔9622939998
 

تازہ ترین