تازہ ترین

آہ! اختر رسول۔ ماہر گرافک ڈیزائنر خوش لحن سوز خواں

خراج عقیدت

تاریخ    16 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


محمد افضل بٹ
یوں تو کسی بھی انسان کا موت کے ذائقے کو چکھنا کوئی منفرد یا غیر معمولی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ قانون قدرت ہے اور قرآن مجید کا واضح اعلان بھی کہ ہر ذی حیات کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔دنیا میں جاری موت و حیات کے منظم سلسلے سے ہی کائنات کا نظام متوازن ہے تاہم بعض شخصیتیں اپنے سماج کے کسی نہ کسی گوشے پر ایسے تابدار و شاندار نقوش مرتسم کرتی ہیں کہ ان کے ارتحال سے پیدا ہونے والے خلا کی بھر پائی نہ صرف ناممکن نظر آتی ہے بلکہ ان کی یادیں بھی لوگوں کے ذہنوں پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گھر کر جاتی ہیں جنہیں لاکھ کوششوں کے باوصف بھی مٹایا جا سکتا ہے نہ پل بھر کے لیے فراموش کیا جاسکتا ہے۔
ایک ایسی ہی شخصیت سری نگر کے بابا پورہ حبہ کدل علاقے سے تعلق رکھنے والے اختر رسول تھے جو دس اکتوبر یعنی اتوار کی صبح اچانک راہی امصار افلاک ہو کر اپنے احباب و اقارب کو ہی نہیں بلکہ بیسیوں چاہنے والوں کو کرب و درد کے بھنور میں دھکیل گئے ۔اختر رسول ایک ایسے مایہ ناز گرافک ڈیزائنر تھے جنہوں نے اپنی محنت شاقہ اور تمام تر تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر نہ صرف اپنے فن میں کئی فن پارے معرض زیست میں لائے بلکہ وادی کے اخباروں کے 'لے آؤٹ ڈیزائن کو نیو یارک ٹائمز جیسے بین الاقوامی سطح کے روزناموں کے 'لے آؤٹ ڈیزائن کے طرز پر استوار کیا۔
مرحوم گرافک ڈیزائنر کے ساتھیوں کا ماننا ہے کہ وہ اپنے اس گرافک ڈیزائنگ کے فن میں ید طولیٰ رکھتے تھے، ان کا یہاں کوئی ثانی نہیں تھا اور جب بھی کشمیر یونویرسٹی میں اس نوعیت کی ضرورت آن پڑتی تھی تو آپ ہی مطلوب ترین شخص ہوتے تھے۔ اختر رسول ایک مثالی ماہر گرفک ڈیزئنر ہی نہیں بلکہ ایک انتہائی ملنسار، ہنس مکھ اور منکسرالمزاج شخصیت کے مالک تھے۔’’تخلیقی فنون کا جذبہ میری سرشت میں ہی تھا ،یہی وجہ ہے کہ بچپن سے ہی میں دیواروں پر نقش و نگاری کے رنگ بکھیرتا تھا ،اسباب میسر نہیں تھے کولہوں سے لکیریں کھینچ کر اپنی ذہنی صلاحیتوں کو دیواروں پر سجا سنوار کر اپنے شوق کو پورا کرتا تھا‘‘انہوں نے یہ باتیں جموں و کشمیر کے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے ہفتہ وار ویڈیو پروگرام 'سکون کے دوران ایک ماہ قبل یعنی ماہ ستمبر میں کہی تھیں۔
اپنے فن کے سفر کا اجمالی خاکہ کھینچتے ہوئے ان کا کہنا تھا: 'میں ہمیشہ بہتر سے بہتر تخلیق کی تلاش میں رہتا ہوں اور یہی جذبہ مجھے آگے لے جا رہا ہے۔
میں نے یہاں روزناموں اور دیگر ہفتہ وار یا ماہانہ رسالوں میں اُس وقت لے آؤٹ ڈیزائنگ متعارف کی ،جب یہاں اس کا کوئی خاص وجود ہی نہیں تھا، گریٹر کشمیر، کشمیر عظمیٰ کی لے آؤٹ ڈیزائنگ کی اور روز نامہ اطلاعات میں اپنے تمام تر تجربات و تخیلقی صلاحیتوں کے نچوڑ کو عملی شکل دے دی۔اختر رسول کا کہنا تھا: 'میں نے گریٹر کشمیر سے ہی اپنے کیریر کا آغاز کیا اور سال 2006 سے کشمیر یونیورسٹی کے ای ایم ایم آر سی سے وابستہ ہوں اور وہاں اپنی خدمات حتی الوسع انجام دے رہا ہوں۔
مرحوم اختر رسول مختلف النوع گرافک ڈیزائنز کو صفحہ قرطاس پر بکھیر کر لوگوں کو محو حیرت ہی نہیں کر دیتے تھے بلکہ اپنی خوش الحان آواز میں نوحے پڑھ کر سننے والوں پر بھی سکتہ طاری کر دیتے تھے اور آپ کی آواز میں نوحے سن کر شاید ہی کوئی آنکھ نم ہوئے بغیر رہ گئی ہو۔آپ کی سوز خوانی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں اور انہیں سن کر بخوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ عشق اہلبیت سے کس حد تک سرشار تھے۔
اختر رسول جیسے ماہر فنکار اور خوش الحان سوز خواں پیدا ضرور ہوں گے لیکن ان کی جیسی پہلودار اور شریف النفس شخصیت وجود میں آنے میں شاید مدت مدید درکار ہے۔
اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ  اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوش اخلاقی اور منکسر الامزاجی کے جس جوہر سے مالا مال کیا تھا اس کے نقوش و اثرات لوگوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہو سکتے ہیں۔راقم کو بھی کئی بار آپ سے بالمشافہ شرف تکلم حاصل ہوا اور میں نے آپ کو عدیم الفرصت ہونے کے باوصف مجبوروں اور محتاجوں کی مدد کے لیے وقت صرف کرتے ہوئے دیکھا۔میرے ساتھ پہلی ہی ملاقات میں اس طرح بات کی جیسے مجھ سے بر سہا برس سے مانوس تھے۔ایک عظیم انسان کی عظمت کی یہ ایک واضح علامت ہوتی ہے کہ وہ اپنے غیر مانوس اور رتبے اور عہدے میں کمتر شخص کے ساتھ بھی انتہائی مربیانہ رویے سے پیش آتے ہیں اور یہ صفت مرحوم کی شخصیت کا خاصہ تھی۔
اختر رسول کے اچانک انتقال پر جہاں کشمیر کی دانش گاہ ماتم کدے میں تبدیل ہوئی اور یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام خاص کر آپ کے ساتھیوں نے افسوس و تعزیت کا اظہار بھی کیا بلکہ کئی عہدیداروں اور متعلقہ شعبے کے ساتھیوں نے آپ کے تشیع جنازے میں شرکت بھی کی وہیں صحافتی برادری کو بھی غم اور مایوسی کی چادر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ہم سب مرحوم کی جنت نشینی اور بازماندگان کے صبر جمیل کے لیے بارگاہ ایزدی میں دست بدعا ہیں۔
(مضمون نگار خبر رساں ایجنسی یو این آئی سے وابستہ ہیں)
موبائل نمبر: 8825091912