پروفیسر نصرت اندرابیؔ

کہاں سے لائوں کہ تجھ سا کہیں

تاریخ    16 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


سہیل سالم
ابھی وادی کے نامور استاد پروفیسر مخمور حسین بدخشی کے داغ مفارت سے ہماری آنکھیں پر نم ہی تھیں کہ ایک اور دل دہلانے والی  خبرموصول ہوئی کہ کشمیر کی ایک باغ و بہار شخصیت پروفیسر نصرت اندرابی اس جہاں فانی سے پرواز کر گئی۔(ا نا لللہ ونا الیہ راجعون)۔پروفیسر نصرت اندرابی کا شمار ان ماہر ین سماجیات میں سے ہوتا ہے جنہوں نے کشمیر میںتعلیم نسواں کو پروان چڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔کشمیر کے علمی و ادبی پرستاروںمیں ایک نام پروفیسر نصرت اندرابی کا بھی ہے۔آپ کا اصلی نام نصرت گنائی  ہیں۔آپ کے والد خواجہ سیف الدین گنائی جو کہ سابقہ ڈی ،ائے جی پولیس  تھے۔ ۱۹۳۸ء  میں اننت ناگ کے ایک اہم تاریخی علاقے مٹن میں تولد ہوئی۔اپنے ہی علاقے میں میڑک کا امتحان پاس کر کے ۱۹۵۴ میں ومینس کالج (ایم ،روڈ) میں داخلہ لیا ۔  ومینس کالج سے بی اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد کشمیر یونیورسٹی سے اردو میں ایم ایک کیا ۔۱۹۷۰ کے ا ٓپس پاس ہی ان کے اہل خانہ نے مٹن سے ہجرت کر کے مگر مل باغ سرینگر میں سکونت اختیار کی۔ اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں نصرت اندرابی ’’گئے موسموں کے ساتھی ‘‘ میںرقمطراز ہیں:’’اگست کی ایک گرم دوپہر تھی ۔ میں نے بی ۔اے پاس کیا تھا  اور میں انگریزی ایم ۔اے میں داخلہ لینے یوینورسٹی آئی تھی ۔راستے میں ہی ارادہ کیا کہ پہلے اردو میں داخلہ لوں گی ۔اگر دل نہ لگا تو انگریزی میں چلی جائوں گی ۔یونیورسٹی کی سنٹر بلڈنگ ،جہاں آج انگریزی دیپاٹمنٹ کی پہلی منزل میں دائیں طرف اردو اور فارسی کا شعبہ تھا ۔پروفیسر محی الدین زور کا انتفال ہوچکا تھا اور پروفیسر عبدالقادری سروری  نے اردو اور فارسی شعبہ کی  صدارت  ان ہی دنوں سنبھالی تھی ۔چند طلباء  اور طالبات اِدھر ادھر گھومتے نظر آئے ۔شعبہ اردو کے باہر چندطلباء کھڑے تھے ۔ان میں ایک نہایت خوبرو اور خوش لباس بھی تھا،سفید براق بوشٹر اور پتلون  پہنے ،پائوں میں چمچاتا ہوا جوتا ،ہاتھ ایں چند کتابیں۔یہ تھے امین اندرابی صاحب۔میں اس سے پہلے ان سے کبھی نہیں ملی تھی ۔ وہ ایم ،اے فائینل  کا امتحان دے کر فارغ ہوچکے تھے اور شعبے میںپی ایچ ڈی  کے داخلے کے سلسلے میں آتے رہتے تھے ۔چونکہ شعبے میں طلباء  اور طالبات کی تعداد مشکل سے آٹھ یا نو تھی اس لئے ہم سب آپس میں گھل مل  گئے  اور زندگی بھر کے لئے ایک دوسرے کے دوست بن گئے۔امین صاحب ،فاروق نازکی  اور میری دوستی چند دنوں میں اتنی گہر ی ہوگئی کہ لگتا تھا ایک دوسرے کو صدیوں سے جانتے ہیں‘‘(بحوالہ مطیب رفتہ۔ص۔۱۹۱۔پروفیسر تسکینہ فاضل)
آپ کی شادی ۱۹۷۶ ء کو  پروفیسر محمد امین اندرابی کے ساتھ اس وقت ہوئی جب پروفیسر محمد امین اندرابی سلامیہ کالج آف سائنس اینڈ کامرس حول سرینگرکے شعبہ اردو میں لکچرر تھے۔شادی کے بعد بھی آپ نے اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھتے ہوئے مرحوم پروفسیر آل احمد سرور کی نگرانی میں ’’حالی ،اکبر اور اقبال کی پیامی شعری کا تقابلی مطالعہ‘‘۱۹۸۵ میں ڈاکٹریٹ کا مقالہ تحریر کیا۔۱۹۸۶ میں محکمہ اعلی تعلیم  میں اردو لکچرر کا پیشہ اختیار کر کے مختلف عہدوںپر فائزہ رہ کر گورنمنٹ کالج فار وومن مولانا آزاد روڈ سرینگر سے پرنسپل کی حیثیت سے سبکدوش ہوئی۔ پروفیسر نصرت اندرابی جس بزم کی چشم  وچراغ تھیں اور جن علمی ہستوں کے زیرنگرانی میں ان کی تربیت ہوئی اور جو کچھ انھیں علمی سفرمیں ملا اس کا بھر پور استعمال کر کے انھوں نے نئے چراغ روشن کیے ۔پروفسیر نصرت اندرابی کے علمی قد کے بارے میں پروفسیر آل احمد سرور اپنی خود نوشت  کے ’’ اعتراف ‘‘ میں لکھتے ہیں:شاید ایلیٹ  نے کہیں کہا  ہے کہ  ہر نئی کوشش ایک مختلف قسم کی ناکامی ہوتی ہے،مجھے یہ سطرین لکھتے وقت  اس کااحساس ہے۔یہ خود نوست حاضے پس وپیش کے بعدلکھی گئی ہے۔مجھے اس کا خیال تو بارہا آیا لیکن باقاعدہ  اور مسلسل  اپنے حالات لکھنے پر اپنے آپ کو آمادہ نہ کر سکا ۔کوئی چھ سات سال ہوئے میری ایک شاگر ’’نصرت اندرابی‘‘نے مجھ کہا کہ آپ خود تو لکھیں گے نہیں ،اس لئے میں روزانہ کچھ وقت نکال لوں گی تاکہ آپ مجھے لکھوادیاکریں۔یہ سلسلہ کوئی  دس پندرہ  دن ہی جاری رہ سکا کیو ں کہ مجھے بول کر لکھوانے کی عادت نہیں ہے اور جب کبھی لکھوانے کا اتفاق ہو ا ہے تو تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔‘‘(خواب باقی ہے۔ص۔۵۔آل احمد سرور)اس اقتباس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آل احمد سرور کو اپنی خود نوشت  لکھنے کے لئے پروفیسر نصرت آندرابی نے آمادہ کیا تھا اور سرور صاحب نے اپنے شاگر کے مشورے کی لاج رکھ کر استاد اور شاگرد کے رشتے کو ایک عظیم مقام عطا کیا۔  آپ نے جو کچھ بھی علم و ادب کے میدان میں موصول کیا تھا وہ صرف آپ کی قابلیت اور ذہانت کاعکس تھا۔پروفسیر نصرت اندرابی کا لب و لہجہ،مزاج ، شگفتگی،بے باکانہ انداز گفتگو، ضد ،انکساری ،نرمی ،محبت ،اختلافی نقطہ نظر، انصاف پسندی ، گہرائی ،صاف گوئی کے علاوہ خوستائی ،دھوکہ بازی  ،فرقہ پروری اور ستم ظریفی سے دور وہ نئی اور پرانی تہذیب و ثقافت کا ایسا بہشت تھا جن کی آغوش میں وادی کے رنگ برنگ پھول کھلتے نظر آتے تھے۔کشمیر کی بیٹیوں کی فلاح وبہودی کے لئے،ان کی تعلیم کے لئے اور ان کے حقوق کی طرفداری کے لئے ہمیشہ محترک رہتی تھی ۔ 
پروفیسر نصرت اندرابی ہمدرد سب کی تھی،اپنے شاگروں کو مشکل سے مشکل وقت میں ان کا سایہ بن کے رہتی تھی۔ان کے شاگردوں کا حلقہ بہت وسیع تھا۔پروفسیر نصرت اندرابی خاصی پڑھی لکھی عورت تھی ۔انہوں نے دنیا کے مختلف زبانوں میں شائع ہونے والا ادب کے علاوہ  سماجیات معاشیت،تاریخ،سیاست ،عمرانیات اور مذہبیات کا تو انہوں نے مطالعہ کیا تھا جس کی وجہ سے ان کی سوچ میں خاضی وسعت  اورگہرائی پیدا ہوگئی تھی۔اسی لئے انھیں انڈین ریڈ کراس سو سا ئٹی ،وقف بورڑ اور  جموں اینڈ کشمیروومن کمشن میں اعلی عہدوں پر کام کرنے کاموقع بھی ملا ۔ ان کا دل تعصب ،حسد اور بغض سے بالکل پاک تھا ۔ان کے قول و فعل سے ہی ان کی شخصیت سماج میں نمو دار ہوئی ہے۔اپنی تہذیب و ثقافت ،زبان و ادب اورانسانی قدروں کو جلا  بخشنے والی وادی کشمیر کی یہ مایہ ناز بیٹی ۳ اکتوبر ۲۰۲۱ کو فجر کی نماز میں دل کا دورہ پڑنے سے اپنے اصلی سفر پر روانہ ہوگئی۔
( رعناواری سرینگر۔8899034792 )
 

تازہ ترین