تازہ ترین

فکری دور میں لٹریچر کی اہمیت اور افادیت

بچیوں کے لئے خاص تحفہ '’’ہادیہ ‘‘ای میگزین

تاریخ    16 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


سہیل بشیر کار بارہمولہ
حال ہی میں ہندوستان کی مشہور یونیورسٹی جے این یو کے نصاب میں اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی اس حوالے سے '’’انڈیا ٹو مارو‘‘ کے ایڈیٹر سعید خلیق نے ایک مضمون لکھا ہے ۔لکھتے ہیں:"جواہر لال نہرو یونیورسٹی،وہ واحد یونیورسٹی ہے، جس نے اپنے تعلیمی کورس میں اسلام کے نام کو دہشت گردی سے باضابطہ جوڑ دیا ہے۔ یونیورسٹی میں ڈیزائن کیے گئے دہشت گردی کے خلاف تعلیمی کورس کے ذریعے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کا کام کیا ہے ، جسے یونیورسٹی کی اکیڈمک اور ایگزیکٹو کونسل نے منظور کیا ہے۔"آجکل جہاں ہر طرف اسلامی فوبیا پایا جاتا ہے اس نصاب کے بہت ہی خطرناک اثرات پڑ سکتے ہیں جس سے ہندوستان کے سیکولر کلچر کو خطرہ ہے ۔لکھتے ہیں:" یہ کورس فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نقطۂ نظر سے بہت خطرناک ہے۔ کیوں کہ اس کے ذریعے ہندوستان میں اسلاموفوبیا کو تقویت ملے گی۔" گوشہ مطالعہ میں رضوانہ بیگم نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی مشہور کتاب "اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات" کا جامع اور پر مغز تبصرہ کیا ہے ۔زارا زبیر نے دو خواتین کی جدوجہد کی کہانی بیان کی ہے ان دو خواتین میں نغمہ محمد ملک ہیں، جو’آئی ایف ایس‘ بنیں اور اب پولینڈ کی سفیر ہیںاور بینائی سے محروم بریل کی کہانی ہے، جس نے ہمت نہیں ہاری۔ ثمرین یوسف نے عورتوں کا تحفظ کے تحت چونکا دینے والے اعداد و شمار پیش کیے ہیں ۔موصوفہ لکھتی ہے "بھارت میں خواتین کےخلاف عصمت دری چوتھا عام جرم ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں عصمت دری کے 32033 مقدمات درج ہوئے ہیں ، جن میں اوسطاً 88 کیس روزانہ درج کیے گئے۔وہ مشورہ دیتی ہیں: ’’مظلوم بچیاں بدل رہی ہیں، مجرموں کے منحوس چہرے بدل رہے ہیں، لیکن حادثات سب سے ساتھ یکساں ہیں۔ اسی لیے اپنے گھر، محلے، گاؤں اور شہر کی عورتوں کی عزت کے ساتھ حفاظت کیجیے۔ ان کی ایک باغیچے کے خوبصورت پھول کی طرح نگہبانی کیجیے اور انھیں اس سیاہ دنیا کے حادثات سے بچائیے، کیوں کہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے‘‘۔خواتین کی معاشرتی الجھنیں اور رہنمائی کے تحت کیسے بنے ساس بہو میں تال میل؟کا جواب ویڈیو میں نزہت رضوی دیتی ہے۔میگزین میں نزہت ندیم صاحبہ نے سماجی رابطے کی سائٹ’’ ٹوئٹر کیا ہے؟‘‘ پر اچھی جانکاری دی ہے۔والدین کے حوالے سے اگرچہ بہت سی ذمہ داریاں ہمارے دین میں بتائی گئ ہیں لیکن عملاً ہم نے والدین کو مشین سمجھا ہے جاویدہ بیگم ورنگلی لکھتی ہیں :"وہ والدہ محترمہ، جس کو زندگی میں ضروریات پوری کرنے کی مشین سے زیادہ اہمیت نہ دی گئی ہو، اس مشین کو دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعداس قدر اہمیت کیوں دی جا رہی ہے؟ یہ ایک سوال ہے، جو مسلسل سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔ غور و فکر کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی کہ یہ ماں باپ کے چلے جانے کے بعد بھی اس کی ذات سے فائدہ اٹھانا ہے۔
مرحوم کی سر پرستی کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا، مگر اس سے سعادت مند اولاد کاماں باپ سے بے انتہا محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس سے دنیا والوں کی نظروں میں اولاد کی عزّت بڑھ جاتی ہے۔ آج اکثر انسان کی جدو جہد دنیا میں عزت و نام پانے کے لیے ہی ہوتی ہے۔میڈیا اور سوشل میڈیا کی وجہ سے اخلاقی برائیاں بڑھ گئی ہیں۔ادھر والدین اپنی بچیوں کو پڑھانا چاہتے ہیں۔ 
 ہمارے معاشرے میں اکثر مخلوط نظام تعلیم ہے، ایسے میں ایک چیز پائی گئی ہے وہ ہے نوعمرلڑکیوں میں عشق کا مرض... اس مضمون کی دوسری قسط میں ڈاکٹر نازنین سعادت رہنمائی کرتی ہوئی لکھتی ہیں :"بعض والدین کو بہت اعتماد ہوتا ہے کہ ان کی بیٹی کوئی غلط کام نہیں کرسکتی۔ یہ اعتماد ضرور ہونا چاہیے،لیکن اس اعتماد کی وجہ سے کھلی چھوٹ دے دینا بھی نہایت غلط بات ہے۔ شیطان بڑے سے بڑے پارسا کے ساتھ بھی لگا ہوا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ اختلاط مردوزن سے متعلق اسلامی احکام سب کے لیے ہیں۔ تربیت یافتہ پارساؤں کے لیے بھی ان احکام کی پابندی ضروری ہے۔"عرشیہ شکیل شخصیت کے بناؤ و بگاڑ پر صحبت کے اثرات کے تحت لکھتی ہیں: " 
 اچھی غذا،اچھی صحت کی ضامن ہے،اسی طرح اچھے دوست اور اچھی کتابیں، اچھی شخصیت کی ضامن ہو تی ہیں ۔اچھے دوست کی مثال اس عطر فروش کی سی ہے، جس کے پاس بیٹھنے سے خوشبو آتی ہے۔ بُرےدوست کی مثال اس لوہار کی طرح ہے، جس کے پاس بیٹھنے سے کپڑے کالے ہوتے ہیں۔" زہرہ فاطمہ تعلیم و روز گار کے تحت فائیورFiverrگھر بیٹھے کمانے کا ذریعہ کا تعارف کراتی ہوئی لکھتی ہیں:" اس ویب سائٹ کے ذریعے آپ ایک دن میں جتنا چاہیں کام کرسکتے ہیں۔ یہاں کام کرنے کی کوئی حد نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ، اگر آپ بہت سارے کاموں میں ماہر ہیں ، تو آپ ان تمام کاموں کو یہاں انجام دے کر اچھی کمائی کرسکتے ہیں۔’’ سیاسی منظر نامہ کے تحت شیخ فرحین نے اقوام متحدہ کے جنرل اجلاس اور آسام کی موجودہ صورتحال پر اچھی جانکاری فراہم کی ہے،عالم اسلام کے قرآنی محقق ڈاکٹر محی الدین غازی نے قرآنی آیات اور عورت کا رتبہ پر تحقیقی مضمون لکھ کر بہت سی غلط فہمیوں کو دور کیا ہے، اس شمارے میں مذکورہ مضمون کی پہلی قسط ہے، لکھتے ہیں: "جب یہ تصور ذہنوں میں بیٹھ جاتا ہے کہ مرد عورت سے افضل وبرتر ہے، تو اس کے نتیجے میں غیر صحت مند رویے جنم لیتے ہیں۔ مرد کے اندر برتری کا احساس اس کے اندر رعونت پیدا کردیتا ہے، پھر وہ عورت کے ساتھ اہانت آمیز سلوک روا رکھتا ہے اور ایک معزز وقابل احترام فریق کی حیثیت سے اس کے ساتھ برتاؤ اور تعامل نہیں کرتا ہے۔ دوسری طرف عورت کے اندر کم تر ہونے کا احساس اس سے تعمیر وعمل کا جذبہ سلب کرلیتا ہےاور وہ اپنی زندگی کے مقصد ونصب العین کے سلسلے میں بھی اپنے آپ کو نا اہل محسوس کرتی ہے۔
مرد کی طرف سے عورت پر ہونے والا ظلم اور سماج کی طرف سے اس کی خاموش تائید اور جواز دہی اس کے اندر منفی جذبات پیدا کرتی ہے۔ بسا اوقات اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ سماجی رواجوں کے ساتھ مذہب سے بھی بدگمان ہوجائے، کیوں کہ یہ رواج مذہبی حوالے لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ حالاں کہ اسلام اس طرح کی تفریق اور اس سے پیدا ہونے والے ظلم کے مظاہر سے بری اور پاک ہے۔ مرد و عورت کے مقام کے سلسلے میں اسلام کے صحیح تصور کو جاننے کا معتبر ترین ذریعہ قرآن مجید ہے۔ زیر نظر مضمون میں قرآن مجید کی بعض آیتوں کی روشنی میں اسلام کے تصور کو بیان کیا جائے گا اور اس سلسلے میں مفسرین سے تفہیم وتشریح کی جوغلطیاں ہوئی ہیں ان کو بھی زیر بحث لایا جائے گا۔
قرآن مجید میں کہیں بھی مرد کو عورت سے افضل یا عورت کو مرد سے کم تر قرار نہیں دیا گیا ہے۔ لیکن غیر اسلامی فلسفوں اور رواجوں سے متاثر ہوکر مرد کے افضل اور عورت کے کم تر ہونے کا تصور مسلم ذہنوں اور سماجوں میں بھی در آیا۔ چناں چہ قرآن مجید کی بعض آیتوں کی تفسیر کرتے ہوئے کچھ مفسرین نے اس تصور کو قرآن کی آیتوں سے جوڑ کر پیش کیا اور یہ تاثر دیا کہ قرآن مجید بھی اس کی تائید کرتا ہے اور اسے جواز کی بنیادیں فراہم کرتا ہے۔" رسالہ میں ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی سے بھی استفادہ کیا گیا ہے. مولانا رضی الاسلام ندوی صاحب فقہ میں بہترین رہنمائی کر رہے ہیں۔ان کے جوابات سے کوئی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔سماج کے اکثر مکتبہ فکر ان سے رابطہ کرتے رہتے ہیں. 'ہادیہ کے قارئین کے لیے وہ مسلسل لکھتے ہیں۔اس بار بھی خواتین کے حوالے سے دو اہم مسائل کا مفصل جواب دیا گیا ہے، اس کے علاوہ بولتی تصویریں ، شاعری و ادب کے حوالے سے بھی مضامین ہے. مزیدبراں بہت سے مضامین کا آڈیو اور ویڈیو بھی بنایا گیا ہے۔اگر کسی کو مضامین پڑھنے کا موقع نہ ملے تو وہ چلتے چلتے یا کام کرتے کرتے بھی مضامین سن سکتا ہے۔یہ میگزین 'بچیوں کا عالمی دن ' پر بہترین تحفہ ہے۔
میگزین کا رابطہ Haadiya.in
مبصر کا واٹس اپ 9906653927 

تازہ ترین