واڑون کی عوام کا ڈاکٹر کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج

تاریخ    15 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


عاصف بٹ
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کے دورافتارہ علاقہ واڑون کی مقامی آبادی نے علاقہ میں ڈاکٹروں کی غیرموجودگی کو لیکر احتجاج کیا اور ڈاکٹر کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ آٹھ ہزار سے زائد کی آبادی کو خدا کے رحم و کرم پرچھوڑا گیا ہے جبکہ علاقہ میں قایم ایلوپیتھک ڈسپنسری میں کوئی بھی ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتا جسکے سبب مقامی لوگوں کو علاج کیلئے اننت ناگ کے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔مقامی نوجوان معراج الدین نے بتایا کہ اگرچہ امسال ایک ڈاکٹر کو تعینات کیا گیا تھا لیکن وہ گزشتہ سات ماہ کے دوران محض تین چار مرتبہ ہی ڈیوٹی دینے آیاہے جبکہ ٹیکہ کاری مہم جاری ہے اور خواتین دو ہفتوں سے ٹیکہ لگانے کیلئے آرہی ہیں۔اگرچہ انھوں نے کئی مرتبہ مقامی انتظامیہ کی نوٹس میں معاملہ لایا جسکے بعد جب آج ڈاکٹر نے بدھ کو ڈیوٹی پر حاضری دی تو مقامی لوگوں نے جب ان سے وجہ جاننے کی کوشش کی تو وہ دھمکی دینے لگے جسکے بعد پولیس کو اسکی اطلاع دی گئی۔ انھوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے سخت کاروائی کی مانگ کی ہے اور کسی دوسرے ڈاکٹر کی علاقہ میں تعیناتی کی مانگ کی ہے۔امام جامع مسجد انشن نے سوال کیا کہ کیا اس علاقہ میں انسان نہیں رہتے جس طرح یہاں تعینات ڈاکٹر چھٹیاں گزرانے کی غرض سے یہاں کا رخ کرتے ہیں اور دوسرے روز واپس چلے جاتے ہیں، اگر انھیں علاقہ میں نوکری نہیں کرنی تو وہ استعفیٰ دیں یا کسی دوسری جگہ اپنی تبادلہ کرائیں تاکہ یہاں کسی دوسرے ڈاکٹر کو لایا جاسکے۔انھوں نے کہا کہ  اگرچہ مقامی ملازمین کی ٹیکہ کاری کی گئی لیکن ابھی تک اسے آن لائین نہیں کیا گیا جسکے سبب انھیں تنخواہ واگزار ہی نہیں کی جارہی ہے۔انھوں نے انتظامیہ سے سخت کاروائی کی مانگ کی اور مستقل ڈاکٹر کو علاقہ میں تعینات رکھنے کا مطالبہ کیا تاکہ عوام کو بروقت علاج میسر ہوسکے۔

تازہ ترین