تازہ ترین

آلوئوں کی کاشت کیلئے مشہور سونہ مرگ کے کاشت کاروں کاشکوہ | محکمہ زراعت سائنسی جانکاری فراہم کرتاتومزید بہترپیداوارحاصل کی جاتی

تاریخ    11 اکتوبر 2021 (00 : 12 AM)   


غلام نبی رینہ
کنگن//سفیدآلوکی پیداوار کیلئے مشہورسربل سونہ مرگ کے لوگوں نے شکوہ کیا ہے کہ محکمہ زراعت کی عدم توجہی کی بناپر پر وہ اس علاقہ میں سبزیوں کی بہتر اورزیادہ پیداوار دینے والی اقسام اُگانہیں سکتے کیوں کہ انہیں اس کیلئے درکار جانکاری محکمہ فراہم نہیں کررہا ہے۔وسطی ضلع گاندربل کاآخری علاقہ جسے سربل کہاجاتا ہے،کے مکین مختلف اقسام کی سبزیاں اُگاکراپنا پیٹ پالتے ہیں ،تاہم یہاں پیدا ہونے والے آلوجوسفیداورلال رنگ کے ہوتے ہیں،اپنے ذائقے کیلئے مشہور ہیں،جنہیں کئی برس قبل جموں کے تاجر دیوالی کے موقعہ پریہاں سے لیکر فروخت کرتے تھے۔اس کے علاوہ یہاں مٹر، چنادال، شلغم،مولی، ساگ،اورگہیوں کی فصل کی بھی کاشت ہوتی ہے۔سربل کے ایک رہائشی عبدالرحمن لون نے بتایا کہ سربل کے لوگ مئی کے مہینے میں یہاں آکر کھیتی باڈی کاکام شروع کرتے ہیں ۔یہ علاقہ جنگل کے دامن میں واقع ہے جس کی وجہ سے یہاں پر سبزیوں کی کاشت کیلئے موافق ماحول وموسم ہے۔عبدالرحمن لو ن نے مزیدکہاکہ محکمہ زراعت یہاں کے کاشت کاروں کو کوئی سائنسی جانکاری فراہم نہیں کرتے جسے وہ سبزیوں کی زیادہ پیداوار حاصل کرتے۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے زیادہ تر لوگ بیروزگار ہیں اور ان کا انحصار کھیتی باڈی پر ہی ہے ۔لون نے کہا کہ اگر محکمہ زراعت یہاں کے لوگوںکو سبزیاں اُگانے کیلئے سائنسی جانکاری فراہم کرتاتووہ مزید بہتر سبزیاں پیدا کرتے اور منڈیوں میں ان کو فروخت کرکے زیادہ آمدن حاصل کرتے۔ موسم بہار شروع ہونے کے ساتھ تحصیل گنڈ  اور کنگن کے مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگ سربل سونہ مرگ کا رُخ کرتے ہیں اور یہاں وہ قریباً چھ ماہ تک قیام کرکے نومبر کے آخر میں برفباری سے قبل گنڈ اور کنگن کا رُخ واپس کرتے ہیں ۔اس چھوٹے سے گائوں کی آبادی فی الحال اتنی زیادہ نہیں لیکن مستقبل میں یہاں کی آبادی میں اضافہ ہوسکتا ہے کیوں کہ اس گائوں کے بیچوں و بیچ بنائی جارہی ایشیا کی سب سے لمبی ٹنل جسے زوجیلا ٹنل کہا جاتا ہے ،پر شدو مد سے کام جاری ہے۔ سیاحتی مقام سونہ مرگ کی طرح یہاں بھی لوگ چھ ماہ تک قیام کرکے واپس دوسرے علاقوں کا رُخ کرتے ہیں ۔سونہ مرگ کے لوگوں نے بھی بتایا کہ سونہ مرگ میں بھی لوگ مٹر اور آلو کی سبزیاں تیار کرکے ان کو منڈیوں میں فروخت کرکے اپنا روز گار حاصل کرتے تھے لیکن محکمہ زراعت نے جب لوگوں کو یہاں سبزیاں کاشت کرنے سے متعلق سائنسی جانکاری نہیں دی، تو یہاں کے لوگوں نے یہ دونوں سبزیاں تیار کرنا چھوڑ دیا اور آج یہاں لوگ مکئی کی فصل تیار کرتے ہیں۔
 

تازہ ترین