تازہ ترین

نظمیں

تاریخ    10 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


قطعات

دل بہلتا ہی نہیں گلزار میں
اب نہیں جینے کی چاہ بیمار میں 
کُھل گیا ہے زہر سانسوں میںیہاں
ضرب دیتا ہے وہ ہر جھنکار میں
 
 
نہ ہو دل میں اضطراب کوئی
ممکن نہیں تب تک انقلاب کوئی
بے خوف باطل سے سوال کرو
اس سے بہتر نہیں جواب کوئی
 
مسکراتا ہے وہ گُل کانٹوں کے بیچ
اجنبی جیسے کوئی اپنوں کے بیچ
میری باتوں میں نہیں دم  اس لئے
زندگی گزری ہے دیوانوں کی بیچ
 
سعید احمد سعید
احمد نگر سرینگر
موبائل نمبر؛9906355293
 
 
 
 

نظم

یہ دنیا نصیبوں کا تُم کھیل سمجھو
قفس کے پرندو حسیں جیل سمجھو
تلاطم کا موجوں کا ہے سیل سمجھو
تلازُم کو توڑے گی اک دن یہ دنیا
سکوں کی طلب ہے نہ آرام کی ہے
مجھے فکر بس اپنے انجام کی ہے
مصیبت کی دنیا ، یہ آلام کی ہے
تلازُم کو توڑے گی اک دن یہ دنیا
نہ عصمت کی پروا، بدن کی ہے پیاسی
شرم کی بھنک بھی نہیں ان میں باقی
ہر اک سمت پھیلی ہوئی ہے اُداسی
تلازُم کو توڑے گی اک دن یہ دنیا
جہاں پیر دم توڑنے کو لگی ہے
وہاں نو مگر جوڑنے کو لگی ہے
فضا مغربی اوڑھنے کو لگی ہے
تلازُم کو توڑے گی اک دن یہ دنیا
یہ دھرتی کا باسی کہاں کا مکیں ہے
نہ فانوسِ پیکر نہ مسکن گزیں ہے
یہ اربابِ اقدار کچھ بھی نہیں ہے
تلازُم کو توڑے گی اک دن یہ دنیا
یہ شمس و قمر جھرمٹوں کے ستارے
یکایک زمیں بوس ہوں گے بیچارے
سمندر ڈبو دے گا سارے سہارے
تلازُم کو توڑے کی اک دن یہ دنیا
 
یاورؔ حبیب ڈار
بڈکوٹ ہندوارہ،موبائل؛6005929160
 
 

کچھ مشہور بہت ہیں؟

عقیدت و نیاز کے دستور بہت ہیں
اس کے فریضۂ اہم کے منشور بہت ہیں
کرتے ہیں جشن سلف کا دورانِ زیست میں 
اب بھی زمیں پہ ایسے کچھ منصور بہت ہیں
قدرِ سلف ایمان اور شعار ہے اپنا
کرتے فرائض کا نباہ ہم ضرور بہت ہیں
واجب نہیں ہے معبدوں کی خاک چھان لیں
کچھ صورتیں زمیں پہ بھی پُرنور بہت ہیں
انواعِ شوق ہوتے ہیں قدرت کی ودیعت
کچھ جانتے ہیں سخن کی بحور بہت ہیں
ہے شاعری بھی اس طرح اک ذوقِ خدا داد 
گزرے بھی اس کے دور کچھ ضرور بہت ہیں
مانا کہ طبع زاد سب شعراء نہیں لیکن
مستعار سخن کے سبب کچھ مشہور بہت ہیں
جائے فرش کے یہ مکیں لیتے ہیں خوابِ عرش
لیکن مقامِ دسترس سے دور بہت ہیں
طالع میں سب کے ہے کہاں معراجِ شاعری
کچھ با نصیب اس سے گو بانور بہت ہیں
معروف جن کا عصر میں حسنِ کلام تھا
اے وائے ستم ہم سے اب وہ دور بہت ہیں
آئی عنان جب سے ہے بونوں کے ہاتھ میں
کیا کاملانِ علم تب سے چُور بہت ہیں
شہرِ سخن شناس میں تجارِ سخن کے
قصّے کمالِ غضب کے اب حضور بہت ہیں
آئے جو اس کے حلقۂ تلمیذ میں ولہؔ
احباب وہ ادب کے اب ناسور بہت ہیں
یہ دورِ بدگمان ہے اُردو کُشی کا دور
کم ظرف، کم خیال اب مشہور بہت ہیں
میںفطرتاً ہی ازل سے شیدائے زباں ہوں
فتویٰ ہے اس پہ آپ ہی ناسور بہت ہیں
دیکھا ہے مَیں نے سخن کے اُن کاملوں کا دور
کرتے ہیں جن پہ سخن گو غرور بہت ہیں
وہ فرد یاں پہ معتقد تھے داغؔ و میرؔ کے
آتے ہیں یاد اب بھی وہ ضرور بہت ہیں
ترتیبِ شعر کے بھی ہیں کچھ ضابطے عُشّاقؔ
ان ضابطورں سے دوست مگر دور بہت ہیں
 
عُشّاق ؔکِشتواڑی
صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ
موبائل نمبر؛ 9697524469
 
 

تازہ ترین