تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    10 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


اکثر ہوئی ہیں ہم پہ عنایات منفرد 
حالانکہ میرے یار کی ہے  بات منفرد 
ملتی ہیں مسکرانے پہ سوغات منفرد 
پوچھے جو چشمِ تر نے سوالات منفرد 
مجروح ہوگیا ہے پرندہ خیال کا 
مضمون نے لگائی بھی تو گھات منفرد 
تحلیل ہوگئی شبِ فرقت میں روشنی 
احساس نے دیا ہے مرا ساتھ منفرد 
طوفاں میں رقص تھا کبھی طوفان رقص میں 
برسی ہے آنکھ آنکھ سے برسات منفرد 
جلتے رہے چراغ دعاؤں کے دوش پر 
درپیش تھے ہواؤں کو حالات منفرد 
ہر خار نے سوال کیا تھا سوال سا 
خوشبو نے بھی دئے تھے جوابات منفرد 
 
اشرف عادل ؔؔ
کشمیر یونیورسٹی ،حضرت بل سرینگر 
موبائل نمبر؛7780806455
 
 
 
ٹھیک ہے جودِل کی دھڑکن ایک دن رُک جائیگی 
زندگی اِس درد و غم سے تو خلاصی پائے گی 
ہم نے مانا دردِ فُرقت ہے بہت تکلیف دہ 
یاد اُن کی تو دِل ناشاد کو بہلائے گی
جب نہ اپنے پاس ہوکچھ بھی دکھانے کے لئے 
اپنی اِس حالت پہ غیرت اپنی تو شرمائے گی
اے خُدا ہم کو وہ باطن کی بصیرت کر عطا
پھر نظر اپنی کسی سے بھی نہ دھوکہ کھائے گی 
آج جن قوموں کوغاصب ہیں بنا لیتے غُلام
غیرت ان قوموں کوان سے جنگ تولڑوائے گی
کچھ تو کہتی ہی جہاں میں ہیں دِلوں کی دھڑکنیں
کون ہے جس کی سمجھ میں ان کی بولی آئے گی
عشق کی دیوانگی میں دِل ملیں گے اے بشیرؔ
اور دُنیا دیکھتی کی دیکھتی رہ جائے گی
 
بشیر احمد بشیرؔ (ابنِ نشاطؔ) کشتواڑی
کشتواڑ، موبائل نمبر؛7006606571
 
 
کانٹوں میں ہیں رہتے پھُول
کیاکیارنج ہیں سہتے پھُول
جو کُچھ اُن پر گُزری ہے 
کبھی نہیں وہ کہتے پھُول 
کانٹے دھنستے ہیں اِن کو
جن کے ساتھ ہیں رہتے پھُول
جانتے ہیں یہ غم میرا
دُورہیں مجھ سے رہتے پھُول
اِنہیں کسی کاخوف نہیں
دلدل میں بھی رہتے پھُول
آپ سے ہم نہیں مِل پائے 
مُجھ سے نہیں یہ کہتے پھُول
اِنہیں گُلستاں ہے پیارا
صحرامیںکب رہتے پھُول
جب بھی بِکھرتے ہیں یہ ہتاشؔ
میراحال ہیں کہتے پھُول
 
پیارے ہتاشؔ
دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں
موبائل نمبر؛8493853607
 
 
عمر تیری کٹی ہے نفرت میں
دل نہیں لگ رہا ہے اُلفت میں 
 
دین و دنیا کی بھی حفاظت ہو 
کم نہیں یہ جہاد غربت میں
 
بعض اوقات درگزر کرنا
یہ اضافہ کرے ہے عزت میں
 
رات اپنی نہ دن ہوا اپنا
اب رکھا کیا ہے ایسی شہرت میں
 
جیت جاتے یہ دل کی بازی ہم
بس ذرا سی کمی تھی ہمت میں
 
جبیں نازاںؔ
رمیش پارک لکشمی نگر، نئی دلی
jabeennazan2015@gmail.com
 
میں تمہارے ظلم سے غافل نہیں
اور تُو بھی سنگدل قاتل نہیں
 
تجھ سے کیا شکوہ کروں اے بے وفا
غالباً میں ہی ترے قابل نہیں
 
مفلسی میری عذابِ زندگی
آرزو وہ کون جو گھائیل نہیں
 
خوب ہنس لو دیکھ کر بربادیاں
اس تباہی کا کوئی ساحل نہیں
 
بھول کر بھی خواب میں آنا نہ تم
اس جگہ ماتم ہے اب محفل نہیں
 
تھک گیا ہوں اب سفر کیسے کٹے
اور نظروں میں کوئی منزل نہیں
 
مدثرؔ راتھر
کولنگام ہندوارہ
موبائل نمبر؛ 9797864093
 
 
چلو اب بت کو خدا بنا کے دیکھتے ہیں
یوں اس قصے کو اُلجھا کے دیکھتے ہیں
پھولوں سے تو خوب زخم کھائے ہیں
اب کانٹوں سے دل لگا کے دیکھتے ہیں
یوں تو تابِ لمس بھی نہیں مجھ میں مگر
جوانی، جوانی سے ٹکرا کے دیکھتے ہیں
یوں بھی کچھ نظر نہیں آتا ہم کو
چلو اب وجد میں آ کے دیکھتے ہیں
رہنے والے تو خاک ہو گئے کب کے
اب اس گھر کو ہی جلا کے دیکھتے ہیں
سنا ہے مٹ جاتے ہیں محبت کرنے والے
سو ہم بھی خود کو مٹا کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اک پل صدیوں کا ہوتا ہے
سو ہجر کا دورانیہ بڑھا کے دیکھتے ہیں
جن امیدوں پہ ہم جی رہے تھے اب تک
اُن امیدوں کا دیا بُجھا کے دیکھتے ہیں
کیا پھر یہ سانسوں کا سلسلہ تھم جائے گا
شہریار ! شک ہے تو اک بار آزما کے دیکھتے ہیں
 
میر شہریار
سریگفوارہ اننت ناگ
طالب علم،یونیورسٹی آف دہلی
 
 
پھرتے ہیں مارے مارے یوں وحشت کے راغ میں
ہم کو پلا دے ساقیا کچھ غم ایاغ میں
 
تیرا بدن ہے گویا ستاروں کی کہکشاں
یا ہیرے ہیں جڑے ہوئے شب کے چراغ میں
 
نازک بدن کو تیرے ستائیں گی تتلیاں
تنہا پھرا کرو نہ یوں خوابوں کے باغ میں
 
یہ لوگ میری  آنکھوں سے تجھ کو چُراتے ہیں
اس بار ہم بنائیں گے نقشہ دماغ میں
 
کانٹوں کے ساتھ ساتھ شگوفے بھی جل گئے
ایسی لگی ہے آگ محبت کے باغ میں
 
جو لطف غم کی آگ میں جلنے کا ہے میاں
وہ لطف جی کہاں ہے غموں سے فراغ میں
 
داغِ جگر نے ہے مجھے شاعر بنا دیا
واللہ کچھ تو بات ہے زخموں کے داغ میں 
 
عاشق راہیؔ
 اکنگام، اننت ناگ
موبائل نمبر6005630105
 
 
رند بھی پارسا ہوگئے 
جب سے تم آشنا ہوگئے
 
جوں ہی بادل برسنے لگے
پھول سارے تباہ ہوگئے
 
بے گناہ چڑھ گئے دار پر
جب سے منصف گواہ ہوگئے
 
پھر وہ پتے جُڑے ہی کہاں
شاخ سے جو جدا ہوگئے
 
ابھی محفل سجی ہی نہیں
لوگ کیسے وداع ہوگئے
 
مجھ کو حیرت ہے روحیؔ یہاں
ناخدا بھی خدا ہوگئے
 
روحی ؔجان
نوگام، سرینگر
 
 
قصورِ یارسے یاری نہیںجاتی
ہائے دل کی یہ بیماری نہیںجاتی
 
چھوڑدیتےہیں لب فریادِ وصل پر
آنکھوں کی آہ و زاری نہیںجاتی
 
خودی بھی دیتی طعنۂ کم عقلی
یوںمحبت میںانتظاری نہیںجاتی
 
ہوتےہیں جسم و روح خاک کبھی
یہ اپنوںکی دل آزاری نہیںجاتی
 
ہونایونہی ہوتاہے فنا گرشم سے
شبنم کی وہ بےقراری نہیںجاتی
 
کیا مڑوںپیچھے اُن کےجانےپہ
 ایسےہمت تو ہاری نہیںجاتی
 
فاحد احمد انتہاؔ
واگہامہ بجبہارہ،کشمیر
موبائل نمبر؛7006628064

تازہ ترین