تازہ ترین

سوچیت گڑھ سرحد پر پریڈشروع

سرحدی سیاحت کے نئے باب کا آغاز

تاریخ    9 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


 2اکتوبر کادن جموں و کشمیر کے لئے ایک تاریخی دن تھا کیونکہ اُس شام کو صوبہ جموں کی سوچیت گڑھ ہندوپاک بین الاقوامی سرحد پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ریٹریٹ تقریب کا افتتاح کیا۔دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر گری راج سنگھ اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔بی ایس ایف کی نئی شروعات جموںوکشمیریو ٹی کی سرحدی سیاحت کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کے علاو سوچیت گڑھ کو عالمی سیاحت کے نقشے میں بھی ڈال دے گی۔چونکہ عرصہ دراز سے سوچیت گڑھ سرحد پر واہگہ سرحد کی طرز پر اس طرح کی تقریب منعقد کرنے کا مطالبہ کیاجارہاتھا تو جب لوگوں کا یہ دیرینہ مطالبہ ہوا تو سوچیت گڑھ اور ملحقہ علاقوں کے لوگ امڈ کر آئے تھے اور انہوںنے مکمل حب الوطنی کے جذبہ کے ساتھ اس تقریب کو دیکھا اور سراہا۔گوکہ فی الوقت یہ تقریب یکطرفہ طور پر منعقد کی جارہی ہے اور اس میں صرف بی ایس ایف کے جوان مارچ پاسٹ پر سلامی لینے کے علاوہ ترنگا لہراتے ہیں اور اپنے کرتب دکھاتے ہیں تاہم آگے ایسی امیدپیدا ہوگئی ہے کہ یہاں بھی واہگہ کی طرز پر دو طرفہ ریٹریٹ تقریب منعقد ہوگی اور اُس تقریب میں بھارت اور پاکستان کے سرحدی سلامتی دستے شریک ہونگے۔ بابائے قوم مہاتماگاندھی اورسابق وزیراعظم لال بہادر شاستری کے یوم پیدائش بارڈر سیکورٹی فورس نے ریٹریٹ تقریب کا آغاز کرکے ایک ایسا تحفہ جموں باسیوں کو دیا ہے جو مدتوں تک یاد رکھاجائے گا کیونکہ اس نادر تحفہ کے نتیجہ میں نہ صرف جموں میں سرحدی سیاحت کا آغاز ہوگیا بلکہ سیاحتی منزلوں میں ایک نیا اور منفرد اضافہ درج کیاگیا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ واہگہ کے علاوہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ہزاروں کلو میٹر طویل سرحد پر ایسی تقریب کہیں اور منعقد نہیںہورہی تھی لیکن یہ جموںوکشمیر اور اس کی ترقی و خوشحالی کے تئیں مرکزی حکومت کی سنجیدگی کا ہی نتیجہ ہے کہ واہگہ کے بعد جموںوکشمیر کو یہ امتیاز حاصل ہوا ۔اب سوچیت گڑھ کی سیاحت کی صلاحیت کو مکمل طور پر استعمال کیا جائے گا جس کے نتیجہ میںعلاقے کی معاشی ترقی کو تقویت ملے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے بجا فرمایا کہ ریٹریٹ تقریب کے نتیجہ میںسیاحت کی صنعت کو سوچیت گڑھ تک وسعت دینے سے خطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگاکیونکہ اس کے نتیجہ میں اب روزانہ کی بنیادو ں پر سیاح سوچیت گڑھ سرحد کا رخ کریں گے تاکہ وہ پریڈ کا مشاہدہ کرسکیں اور جوں جوں سیاحوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی ،اتنا ہی جموں کی معیشت بہتر ہوتی چلی جائے گی اور پھر ایک وقت آئے گا جب سیاحت جموںوکشمیر کی معیشت کا پہیہ چلانے والی سب سے بڑی صنعت کے طور ابھر سکتی ہے ۔کافی وقت سے مطالبہ کیاجارہا تھا کہ سرحدی سیاحت کو شروع کیاجائے ۔اس ضمن میں اگر چہ سابق پی ڈی پی بی جے پی حکومت میں عملی کوششوںکا آغاز ہوا تھا لیکن یہ بات قبول کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے کہ اُس حکومت میں معاملہ آگے نہ بڑھ پایا اور یہ موجودہ لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی انتھک کوششوںکا ہی نتیجہ ہے کہ بالآخر یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوسکا تاہم ہمیں اس پر بس نہیں کرنا چاہئے بلکہ سرحدی سیاحت کو باضابطہ سیاحت کے ایک شعبہ کے طور لیتے ہوئے اس کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کا انتظام کیاجاناچاہئے ۔جموںوکشمیر او ر لداخ کی سرحدیں پاکستان کے علاوہ چین کے ساتھ بھی ملتی ہیں۔وقت کی ضرورت ہے کہ سرحدی گزر گاہوں یا راہداریوںپر ایسی مزید تقریبات کا اہتمام کیاجائے ۔کشمیر میں یہ سلسلہ اوڑی اور ٹیٹوال سے شروع کیاجاسکتا ہے جبکہ جموں میں اس سلسلہ کو چکاداباغ اور چھمب جوڑیاں تک وسعت دی جاسکتی ہے ۔ جتنا زیادہ اس طرح کی تقاریب کا اہتمام ہوگا ،اُتناہی زیادہ جموںوکشمیر کے سرحد ی علاقے ملک کے سیاحتی نقشے پر آتے چلے جائیں گے اور اُسی تناسب سے ملک اور بیرون ملک سے سیاح ایسی تقریبات سے لطف اندوز ہونے کیلئے ان مقامات کا رخ کریںگے اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ روزگار کے بے پناہ مواقع پیدا ہوجائیں گے جن کے نتیجہ میں سرحدی آبادی کامعیار حیات بلند ہونا طے ہے ۔امید کی جاسکتی ہے کہ جموںوکشمیر کی یوٹی انتظامیہ اور مرکزی حکومت اس ضمن میں کوششوںکا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ہمیں آنے والے دنوںمیں ایسی مزید خوش خبریاں سننے کو ملیں گے تاکہ جموںوکشمیر حقیقی معنوں میں ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بن سکے اور یہا ں بھی لوگ امن و سکون کے ساتھ اپنی زندگی کا نظام چلا پائیں گے ۔
 

تازہ ترین