تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    8 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیر احمد قاسمی

خاندانی نظام میں حُسن سلوک او رباہمی راحت رسانی اہم، حقوق وفرائض کی رسہ کشی ثانوی

سوال:۱-کیا شادی کے بعد سسرال والوں کی خدمت کرنا بہوکا فرض ہے یا سنت ؟ میرے شوہر مجھے اپنے گھر والوں کی خدمت کرنے کے لئے مجبور کرتے ہیں ۔کہتے ہیں اگر تم نہیں کروگی تو پھر کون کرے گا؟ میں والدین کے لئے خدمت گار رکھنا گناہ سمجھتاہوں ۔قرآن وسنت کی روشنی میں جواب چاہئے ؟
سوال:۲-میرے شوہر مجھے میرے ایک چھوٹے بچے کے ساتھ کرایہ کے ایک مکان میں اکیلے چھوڑ کر ہفتے میں دو تین دن رات کے لئے والدین اور بھائی بہن کے پاس گائوں چلے جاتے ہیں ، جو کرایہ کے اس مکان سے 40کلو میٹر کی دوری پر ہے ،اور کہتے ہیں کہ میں ٹھیک کررہاہوں ۔ کبھی کبھار اپنے جوان بھائی کو میرے پاس رکھ کر چلے جاتے ہیں ۔کیا یہ سب کچھ کرکے وہ ثواب کماتے ہیں ؟
سوال:۳-میرے شوہر مجھے اپنی پندرہ ہزار ماہانہ کی آمدنی سے کوئی خرچہ نہیں دیتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ تیری اپنی آمدنی ہے اور وہ میری آمدنی کو مجھ سے لے کر اپنے نجی اور والدین  کے گھرکے اخراجات کے لئے خرچ کرتے ہیں ۔مجھے ان کا یہ طریقہ بالکل بھی پسند نہیں ہے۔کیا یہ سب کچھ وہ صحیح کرتے ہیں ؟
سوال:۴-کیا بیٹے کے بالغ ہونے کے بعد ماں بیٹے اکٹھے سوسکتے ہیں ؟ کیا ان کا بانہوں میں بانہیں ڈال کر چلنا ،اُٹھنا بیٹھنا ، کھاناپینا اکھٹے ہونا جائز ہے ۔ جب کہ بیٹے کی بیوی بھی ہو ؟
سوال:۵- میرے بہنوئی سرکاری ملازمت کی وجہ سے اپنی بیوی بچے کے ساتھ شہر میں رہتے ہیں ۔اب وہ جب ہرہفتے میں دو دن رات کے لئے بیوی بچے کو ساتھ لے کر ماں باپ کے گھرچلے جاتے ہیں ، وہاں اس کی ماں بیٹے کی موجودگی میں مختلف بہانوں سے بہوسے لڑتی جھگڑتی ہے ،اسے اور اس کے مائکے کوستی ہے ۔آس پڑوس کے لوگ جمع ہوجاتے ہیں اور ہر کسی کے سامنے بہو کو بدنام کرتی پھرتی ہے ۔اپنے بیٹے سے کہتی ہے کہ ہم نے تمہاری شادی اپنے آرام کے لئے کی ہے ۔ تم بیوی کو ہماری خدمت کے لئے ہمارے پاس ہی چھوڑ کر جایا کرو اور جب میرابہنوئی اپنے والدین کو خوش کرنے کے لئے بیوی کو وہاں رکھتا بھی ہے تو ساس کا روّیہ پھر بھی ویسا ہی ہوتاہے ۔ میری بہن کے لئے یہ سب کچھ ناقابل برداشت ہوگیا ہے۔ ان حالات میں وہ کیا کرے اور شوہر سے کیا توقع رکھے جب کہ میرے بہنوئی کے والد ابھی خود کماتے بھی ہیں اور ان کی والدہ کی ابھی عمر اورصحت ایسی ہے کہ وہ گھر کا ساراکام کرسکتی ہے اورپھر ان کے گھر میں ان کی ایک جوان بہن اور بھائی بھی ہے ۔
سوال:۶-کیا بیوی شوہر سے یہ تقاضا کرسکتی ہے کہ میں سسرال والوں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ہوں ، میرا اُن سے الگ رہنے کا انتظام کردیجئے ۔ ان حالات میں شوہر کن کے ساتھ رہے ۔ خصوصاً رات کے اوقات میں ۔ اس کا کھانا پینا والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ ہو کہ بیوی بچوں کے ساتھ ؟
آیت الٰہی …اسلام آباد 
جواب:۱-خاتون پر شرعاً تو یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اپنے سسرال والوں کی خدمت کرے او رشوہر کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی منکوحہ سے  جبرواصرارسے اپنے والدین کی خدمت کرائے لیکن زوجہ کو اپنا گھر ٹھیک طرح سے بسانے، اپنے شوہر کو خوش رکھنے ، اپنے گھر کا ماحول دُرست رکھنے ،اپنے حُسن اخلاق او راپنے اچھے خادمانہ جذبہ کا مظاہرہ کرنے کے لئے از خوداپنی صحت اور فرصت کے مطابق اپنے ساس سسر کی خدمت کرنی چاہئے ۔ خصوصاً جب کہ وہ بڑھاپے میں ہوں اور خود اپنے ضروری کام کرپانے میں بھی مشکلات محسوس کرتے ہوں ۔ 
آج اگر بہو اپنے ساس سسر کی خدمت خود اپنے جذبہ سے کرنے پر آمادہ نہ ہو تو مستقبل قریب میں جب وہ خود ساس بنے گی اور خدمت کی محتاج ہوگی اُس وقت اس کی بہو اُس کے ساتھ کیا سلوک کرے گی ۔اس لئے ایک طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ شوہر کو یہ حق نہیں کہ وہ زوجہ کو حکم کرے گی وہ اس کے والدین کی خدمت کرے اور دوسری طرف یہ بھی حق ہے کہ زوجہ خود اپنے شوق وجذبہ سے خوب خدمت کرے ۔ اُس کا نتیجہ یہ ہوگاکہ اُس کا شوہراُس کاا حسان مند ہوگااور اس کے دل میں اپنی زوجہ کا مرتبہ اور بڑھ جائے گا ۔ گھر میں راحت وخوشی کا ماحول بنے گا۔ تنائو ، ناراضگی اور پریشان حالی سے محفوظ رہیںگے ۔ چنانچہ تجربہ کرکے دیکھ لیں ۔ زوجہ سے ساس سسر کو ستایا ، اُن کی خدمت نہ کی تو اس کا اثر شوہر پر ہی پڑے گا اور وہ یا تو پریشان ، غمزدہ ،دل ملول ہوجائے گا یا لعن طعن بلکہ لڑائی جھگڑا کرے گا اور یہ دونوں حالتیں گھر کے لئے تباہ کن ہیں ۔
اس کے مقابلے میں اگرزوجہ نے اپنی بساط اور صحت کی حدتک ساس سسر کی خدمت کی تو لازماً اس کا اثر اس کے شوہر پر پڑے گا اور وہ بھی اور پورا گھر خوش رہے گا ۔
دراصل خاندانی نظام میں حسن اخلاق ،خدمت وشفقت ، محبت اور احترام اور ایک دوسرے کی راحت رسانی اہم ہیں ۔ حقوق وفرائض کی رسہ کشی ثانوی چیز ہے ۔

رات بیوی بچوں کے ساتھ گزارنا دین کا مقررکردہ اصول

جواب:۲-والدین اور بہن بھائی سے ملاقات ضروری ہے مگر رات اپنی زوجہ کے ساتھ گزارنا بھی ضروری ہے۔ والدین کا حق خدمت ،اطاعت ، ضروریات پورا کرنے کے لئے انفاق ہے اور ملاقات و مزاج پُرسی ہے ۔مگر شب گذاری اس کا حق ہرگز نہیں ہے۔ اس لئے رات کو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہی گزارنا دین کا مقررکردہ اصول ہے ۔ اپنے بھائی ، اگر وہ بالغ ہو تو،اس کو گھر میں رکھ کر خود والدین کے پاس رات گزارنا بھی ہرگزدُرست نہیں ۔ حضرت نبی کریم علیہ الصلوٰۃ نے تو دیور کو موت فرمایا ہے ۔ اس لئے اس کے صحیح ہونے کا سوال ہی نہیں ہے ۔

عورت کی اپنی آمدنی کے باوجود نفقہ شوہر پر لازم 

جواب:۳-زوجہ سے اُس کی رضامندی کے بغیر اس کی آمدنی لینا اپنے اوپر یا اپنے دوسرے اقارب پر خرچ کرنا ہرگز درست نہیں ہے ۔ زوجہ از خود کچھ رقم دے تو لینے میں حرج نہیں ۔مگر جبر واصرار سے لینا ہرگز صحیح نہیں ہے ۔ حدیث میں ہے کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کا مال اُس کے دل کی رضا کے بغیر اپنے اوپر خرچ کرے ۔شریعت اسلامیہ نے عورت کا نفقہ اور تمام ضروری اخراجات شوہر پر لازم کئے ہیں ۔اگر عورت کی اپنی کوئی آمدنی ہوتو بھی اُس کا نفقہ شوہر پر ہی لازم رہتاہے ۔

ایک ہی چادر میں 2مَردوں کا سونا منع 

جواب:۴-بیٹا بالغ ہوجائے تو اُس کوالگ سُلانے کا حکم ہے ۔ ایک ہی بستر میںایک ہی چادر یا لحاف میں دو مَردوں کا ایک ساتھ سونا حدیث کی رو سے منع ہے ۔ اگر کوئی مرد اور عورت ہوں چاہے وہ ماں بیٹا ہویا باپ بیٹی ، یا بھائی بہن اُن کو ہرگز اجازت نہیں کہ وہ ایک ساتھ ایک ہی بستر میں ایک ہی چادر کے نیچے سوئیں ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ نیندمیں ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح بوس وکنارکربیٹھیں جو اُن کے لئے غیر شرعی اور غیر اخلاقی بھی ہو اور باعث ندامت بھی۔
بانہیں ایک دوسرے پر آویزاں کرکے چلنا بچوں کے لئے تو کسی نہ کسی درجے میں دُرست ہے ۔ ان کے علاوہ اسلامی معاشرے میں میاں بیوی کے لئے بھی پسندیدہ نہیں اور ماں بیٹے کے لئے بھی نہیں ، بھائی بہن کے لئے بھی نہیں ۔یہ ایک قسم کے آوارہ مزاج اور غیر مہذب بلکہ بے سلیقہ وبدتمیز ہونے کی علامت ہے ۔
جواب:۵-شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماں باپ کی خدمت بھی کرے اور بیوی بچوں کے حقوق بھی پورا کرے ۔ زوجہ کو زبردستی ماں باپ کے ساتھ رہنے پر مجبورکرنا یقیناً بیوی پر ظلم ہے ۔شریعت واخلاق کی رو سے یہ ہرگز درست نہیں ہے ۔ 
ساس کا گالی گلوچ کرنا اگر ردعمل ہے تواس کے لئے ضروری ہے کہ ساس بھی اپنی زبان کو قابو میں رکھے اوربہو بھی اپنا طرزِ عمل درست کرے ۔
شوہر کا شہر میں یا گائوں میں بسنا اور بسانا یہ زوجہ کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ خود کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے والدین ،اپنے بیوی بچوں کا مستقبل ملحوظ رکھ کر دُور اندیشی سے اپنے مالی وسائل کے مطابق آگے بڑھے ۔ زوجہ کو طعنہ دینا اور ساس کا اُس میں دخل دینا ہرگز دُرست  نہیں ۔ گالی دینا ، بدنام کرنا ،طعنہ دینا ، مار پیٹ کرنا ، زبردستی خدمت لینا یہ سب شرعاً بھی درست نہیں ، اور اخلاق کی رو سے بھی سخت غلط ہے ۔ 
دراصل ساس او ربہو جب ماں بیٹی کی طرح رہنے لگیں گی تو ساری شکایتیں ازخود ختم ہوں گی اور بہت سارے جھگڑے اور نزاعات سرے سے پیدا ہی نہ ہوںگے ۔ ساس اپنی بہو کے ساتھ ماں جیسا برتائو کرے جیسے وہ اپنی بیٹی کے ساتھ کرتی ہے اور بہو اپنی ساس کے ساتھ بیٹی جیسا برتائو کرے جیسے وہ اپنی حقیقی ماں کے ساتھ کرتی ہے تو سارے فتنے او راختلافات شکایات اور دوریاں ختم ہوجاتی ہیں ۔ 
جواب:۶- زوجہ اگر سسرال والوں سے الگ رہنے کا مطالبہ کرے اور شوہر کے لئے اس مطالبہ کے پورا کرنے میں کوئی واقعی مشکل نہ ہو تو پھر یہ مطالبہ دُرست ہے ۔ اس صورت میں شوہر کو رات اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہی گزارنا لازم ہے اگر شوہر کے الگ رہنے میں واقعتاً مشکلات ہوں تو زوجہ کا علیحدگی کا مطالبہ کرنا ہی غلط ہے ۔ دراصل یہ حکم حالات کے مطابق ہوتا ہے ۔