تازہ ترین

آثار قیامت

افسانہ

تاریخ    3 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر مشتاق احمد وانی
وہ تینوں بڑے شہر کے بڑے ریئس زادے تھے۔اپنے ملک کے سب سے بڑے میڈیکل کالج میں ایم ڈی کررہے تھے۔ان کی طبعیتوں میں ہم آہنگی اور مزاج  میں چاشنی نے انھیں ایک دوسرے کے قریب کردیا تھا۔تینوں گہرے دوست بن گئے تھے۔حیرت کی بات تو یہ تھی کہ تینوں اپنے عقیدے کے پابند تھے۔لیکن اس کے باوجود جب وہ آپس میں ملتے تو یوں معلوم ہوتا کہ جیسے وہ آپس میں سگے بھائی ہوں۔ایک کا نام دل محمد ،دوسرے کانام چمن لعل اور تیسرے کانام رنگیل سنگھ تھا۔دل محمد،دماغ کا،چمن لعل دل کا اور رنگیل سنگھ معدے کا اسپیشلسٹ بننے کی تربیت حاصل کررہاتھا۔ایک ہی ہوسٹل میں الگ الگ کمر وں میں رہتے تھے۔دن بھر وہ کلاس لیکچر اور لیبارٹریوں میں مصروف رہتے لیکن شام ہونے سے پہلے وہ تینوں ہوسٹل سے نکل کے دور تک ٹہلنے چلے جاتے۔وجودیت کے نظریے  سے لے کر عالمی منظر نامے تک ان کی گفتگو ، ان کی دلچسپی ،معلومات اور ذہانت کو آشکار کرتی۔چہل قدمی کرتے کرتے جب اچانک انھیں مسجد سے اذان،مندر سے ناقوس اور گرودوارے سے کیرتن کی آوازسنائی دیتی تو وہ تینوں اپنے مالک حقیقی کے حکم کی تعمیل میں لگ جاتے۔تینوں اس بات پہ متفق تھے کہ مذاہب آدمی کو  بصارت وبصیرت کا سامان فراہم کرتے ہیں۔وہ یہ بھی جانتے تھے کہ آدمی جب صرف دین دھرم کا لبادہ ا وڑھتا ہے ،اس کی اصل روح تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتا تو اس صورت میں آدمی فرقہ پرستی،تعصب اور نفرت کی دیواریں اتنی اونچی اٹھاتا ہے کہ وہ اپنے آپ میں گم ہوجاتا ہے۔
ایک روز حسب معمول جب وہ تینوں  ٹہلنے نکلے تودل محمد نے چمن لعل اور رنگیل سنگھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
  "یارو،اس دور میں انٹر نیٹ،موبائل فون اور دوسری الیکٹرانک میڈیا کی چیزوں کے غلط استعمال نے جرائم کے کئی ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔فحاشی،فیشن بنتی جارہی ہے اور غرور وتکبر ،انانیت اورحسد ،بغض وعناد جیسی تمام ذہنی خباثتیں دامن انسانیت کو تارتار کررہی ہیں۔میں یہ سب کچھ دیکھ کے تشویش میں پڑ گیا ہوں۔اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟"
 چمن لعل نے جواب دیا
  "میرے دوست، جو آپ دیکھ رہے ہیں،میں بھی وہی دیکھ رہا ہوں۔جب میں فیس بک کھولتا ہوں تو لگتا ہے پوری دنیا کے لوگ اپنے اپنے گھروں سے باہر آگے ہیں۔اور سچ سنیں تو مجھے بھی فیس بک،وہٹس ایپ اور انٹر نیٹ چلانے کا ایسا چسکا پڑ چکا ہے کہ بعض اوقات کھاناپینا بھول جاتا ہوں۔یار ایک بے کار سے کام میں پڑگئے ہیں دنیا والے"
دل محمد نے کہا
"یہ سب چیزیں بے کار اور فضول تو نہیں کہی جاسکتی ہیں البتہ مسئلہ ان کے جائز اور ناجائز استعمال کا ہے"
رنگیل سنگھ نے اپنی نیلے رنگ کی پگڑی کی طرف ہاتھ بڑھائے اور اس کا زاویہ درست کرتے ہوئے بولا
"  دوستو ،میرا خیال تو یہ ہے کہ یہ تمام سائنسی وتکنیکی چیزیں مانا کہ آج کے انسان کو بہت آگے لے گئی ہیں۔لیکن مجھے لگتا ہے کہ ان حیرت انگیز چیزوں کے ہوتے ہوئے بھی آدمی کو میسر نہیں انساں ہونا۔میں سکون قلب اور امن وآشتی کے ماحول کو سب سے بڑی نعمت خیال کرتا ہوں" 
دل محمد اور چمن لعل نے رنگیل سنگھ کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا
   "یار آپ صحیح کہہ رہے ہیں"
دل محمد نے دلیل پیش کرتے ہوئے کہا
"جب انسان کو سکون قلب نصیب ہوتا ہے تو اسے گہری نیند آتی ہے اور جب دل ودماغ سے سکون رخصت ہوتا ہے تو انسان ساری رات کروٹیں بدلتا رہتا ہے"
 چمن لعل بولا
"دراصل لوگ نہ تو مذہبی تعلیم پہ عمل کرتے ہیں اور نہ قانون کا پالن کرتے ہیں۔اسی لیے دنیا میں برائی عام ہورہی ہے۔مذہب کے نام پہ لوگ سیاست کرتے ہیں اور قانون کو جھوٹ بولنے کا ٹیکنیکل طریقہ خیال کرتے ہیں"
دل محمد نے افسردگی سے کہا
"وقت،حالات اور اعمال پہ غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔عقلیں سلب  ہورہی ہیں اور شکلیں نکھررہی ہیں۔ظلم وزیادتی کو مقدر سمجھا جانے لگا ہے اور ہر شخص اپنے آپ کو منوانے کے چکر میں ہے۔محبت اب تجارت بن گئی ہے۔ہم انسانی قدریں کھوگئے ہیں۔اسی لیے پریشان ہیں "  
رنگیل سنگھ نے اچانک کہا
"میرا خیال ہے اب ہمیں واپس چلنا چاہیے۔شام ہونے والی ہے"
دل محمد نے کہا "آپ نے بجا فرمایا "ہمیں واپس چلنا چاہیے"
 وہ واپس ہوسٹل کی طرف چل پڑے۔دور آگے جانے کے بعد جب وہ ایک پارک سے گزرنے لگے تو تینوں دنگ رہ گئے۔پارک انہیں عیاشی کااڈہ معلوم ہورہی تھی۔اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی میں پڑھنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کے علاوہ شادی شدہ مرد عورتیں بھی اس پارک کی رونق بنے ہوئے تھے۔ان کی ناجائز حرکات دیکھ کے دل محمد کادل تیزی سے دھڑکنے لگا۔اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا
  "یہ سب کیا ہورہا ہے؟"
   رنگیل سنگھ نے جواب دیا
  "یہ سب موبائل فون اور انٹر نیٹ کے ناجائز استعمال کا نتیجہ ہے"
دل محمد نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہنے  لگا
"میرے  دوست آپ نے بجا فرمایا۔لیکن مجھے ان لوگوں کی یہ ناجائز حرکات دیکھ کے کوفت ہورہی ہے"
چمن لعل نے اپنے ساتھیوں سے استفہامیہ انداز میں پوچھا
"یہ آوارہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شادی کیوں نہیں کرتے؟"
 دل محمد نے جواب دیا
"میرے دوست،شادی انسان کی مریادائوں کا انت اور ذمہ داریوں کا نام ہے۔یہ ان دونوں باتوں سے گریز کرتے ہیں۔اس لیے یہ وہ کام کررہے ہیں جس کی اجازت نہ تو مذہب دیتا ہے اور نہ قانون۔مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ان عیاش اور آوارہ لڑکوں کے پاس کسی کی ماں،بہن ،بیٹی کو اپنی ماں،بہن،بیٹی سمجھنے  اور دیکھنے والی آنکھیں نہیں ہیں"
    رنگیل سنگھ نے کہا
  "چلو یار لیٹ ہورہے ہیں"
    تینوں ہوسٹل کی طرف چل پڑے۔دل محمد نے کہا
 "خدا ان آوارہ لڑکوں اور لڑکیوں کو نیک ہدایت دے۔میں ان کی ناشائستہ حرکات دیکھ کے مایوس ہورہا ہوں"
    آدھ گھنٹے کے بعد جب وہ ہوسٹل پہنچے تو شام ڈھل چکی تھی۔انھوں نے اپنے اپنے کمروں میں جاکر اپنے اپنے طور پر خدا کو یادکیا۔رات کا کھانا کھایا اور سوگئے۔ دوسرے دن معمول کے مطابق ڈاکٹری پڑھنے میں مشغول ہوگئے۔وہی پریکٹیکل، وہی کلاس لیکچر اور لبارٹریوں میں جاکر انسانی اجسام کے پرزوں کے نظام کی جانکاری  اور ان میں پیدا ہونے والے امراض کے علاج کی واقفیت انھیں بہت حد تک دنیا ومافیہا سے دور کردیتی۔
    تین دن کے بعد جب ایک رات رنگیل سنگھ اور چمن لعل،دل محمد کے کمرے میں آئے تو تینوں کے چہرے ہشاش بشاش تھے۔بیٹھے بیٹھے رنگیل سنگھ نے اپنی پتلون کی جیب سے قیمتی رنگین موبائل سیٹ نکالتے ہوئے کہا
     "یار دن کو فرصت نہیں ملتی،وہٹس ایپ اور فیس بک پہ لوگوں کے میسیج آتے ہیں۔پڑھ نہیں پاتا ہوں۔آپ کی اجازت ہو تو پڑھوں لوں؟"
  دل محمد نے کہا
"بڑے شوق سے پڑھ لیجئے"
 چمن لعل نے بھی ہنستے ہوئے کہا
 "میری جانب سے بھی اجازت ہے"
 رنگیل سنگھ نے پہلے تو وہٹس ایپ کے مسیج پڑھے اور پھر فیس بک پہ آیا۔نئے پرانے انسانی چہروں کی کہکشاں اسے یوں نظر آنے لگی کہ جیسے ہر شخص اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش کررہا ہو۔دشت وصحرا،بحر وبر ، حیوانات، نباتات اور جمادات کے علاوہ چرندوں،پرندوں اور درندوں کی کئی تصویریں دیکھتے دیکھتے اچانک اسکے منہ سے چیخ نکل گئی اور ڈروخوف سے بولا
  "ارے یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں۔یہ چھوٹے چھوٹے بچے،مرد، عورتیں،بوڑھے، جوان لڑکے اور لڑکیاں کلہاڑے اور ٹوکوں سے کاٹے جارہے ہیں"
    دل محمد اور چمن لعل،رنگیل سنگھ کے بالکل قریب آگئے اور مارے خوف کے اس سے پوچھنے لگے
    "یار---آپ کی چیخ نے ہمیں ڈرا دیا۔آپ کیا دیکھ رہے ہیں اس موبائل میں ، ہمیں بھی دکھایئے"
اس نے موبائل سیٹ ان کے قریب کردیا۔ واقعی برما کی فوج کے سپاہی چھوٹے چھوٹے بچوں،مردوں،عورتوں،بوڑھوں ، جوان لڑکوں اور لڑکیوں کو عریاں کرکے کلہاڑوں اور ٹوکوں سے کاٹ رہے تھے۔کچھ لوگوں کو زندہ جلارہے تھے۔ان مظلوم وبے بس اور بے سہارا انسانوں کی دلدوذ اور لرزہ خیز  چیخ وپکار سن کر دل محمد کا دل رواٹھا،آنکھوں نے آنسو بہنے شروع ہوئے۔چمن لعل کے وجود میں کپکپی آگئی اور رنگیل سنگھ نے اپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ دیئے۔چمن لعل نے ہمت جٹاتے ہوئے کہا 
"کہیں ہم یہ سب خیالی تصویریں تو نہیں دیکھ رہے ہیں؟ میرا خیال ہے ایک بار ہمیں پھر انھیں غور سے دیکھنا چاہیئے"
رنگیل سنگھ نے کہا
  "ہاں ٹھیک ہے ایک بار پھر دیکھ لیتے ہیں"
اس نے جونہی اپنے موبائل سیٹ پہ انگلی گھمائی تو اس بار ایک اور بھیانک ویڈیو انھیں نظر آئی۔اس میں ایک ندی کے کنارے درجن بھر کتے انسانی لاشوں کو نوچ نوچ کے کھا رہے تھے اور دوسری جگہ ایک کھلے میدان میں سینکڑوں چیلیں اپنے پر تولتی ہوئی مارے ہوئے لوگوں کو کھانے کے لیے جمع ہورہی تھیں۔یہ بھیانک اور لرزہ خیز منظر دیکھ کے دل محمد،چمن لعل اور رنگیل سنگھ ایک بار پھر لرزاٹھے۔ان کے دل ودماغ میں غم وغصے اور انتقام کی جوالامکھی بھڑک اٹھی۔چمن لعل نے کہا 
"یہ ویڈیو دیکھ کر میری بھوک پیاس ختم ہوگئی۔میری نفسیاتی دنیا میں بھونچال سا آگیا ہے۔دل چاہتا ہے اپنی استطاعت کے مطابق ان بے رحم اور ظالم قسم کے لوگوں سے انتقام لوں"
رنگیل سنگھ بھی بہت زیادہ جذباتی ہوگیا۔اس نے کہا
"یار میری مانو تو ابھی چل پڑو۔میرے دوست کا ہیلی کپٹر ہے اس پہ سوار ہوکے اس ملک کے پارلیمنٹ ہاوس پہ اوپر سے  ایٹم بم گرا دیں گے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری"
دل محمد کے دل میں بھی انتقام کے شعلے بھڑک اٹھے۔اس نے رنگیل سنگھ کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا
"میں یہ سب کچھ چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔ان ظالموں سے انتقام لینا ضروری ہے۔ہائے کس بے رحمی سے وہ ان چھوٹے چھوٹے بچوں،بوڑھوں،جوانوں اور عورتوں کو مارہے تھے"
وہ یہ کہتے ہوئے ایک بار پھر کانپ گیا۔پھر ان تینوں نے یہ متفقہ فیصلہ لیا کہ وہ ایم ڈی کی ڈگری کے بجائے ایک نیا راستہ اختیار کریں گے۔جسے انتقامی راستہ کہتے ہیں۔دوسرے دن انھوں نے اپنے کالج کے ڈائریکٹراور والدین کے نام ایک خط لکھا۔جس میں انھوں نے لکھا کہ 
"اب ہم ڈاکٹری کے لائق نہیں رہے ہیں کیونکہ ہماری آنکھوں نے ایک ایسی ویڈیو دیکھی ہے جس میں ایک ملک کے فوجی سپاہی مردوں،عورتوں اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو اس طرح کاٹ رہے تھے کہ  جس طرح ہمارے یہاں قصائی گوشت کاٹتا ہے۔اس لرزہ خیز ویڈیو نے ہماری نفسیاتی دنیا میں ایک ایسا خلفشار پیدا کردیا ہے کہ ہم ان ظالم لوگوں سے  انتقام لینے کے لیے یہ سب کچھ چھوڑ رہے ہیں اور آپ کو بذریعہ ای میل یہ اطلاع دے رہے ہیں"
  شام کو وہ تینوں ٹہلنے کے بجائے اپنے مشن پہ نکل گئے تھے۔
���
اسسٹینٹ پروفیسر شعبہ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ
یونیورسٹی راجوری(جموں وکشمیر)
موبائل نمبر؛7889952532

تازہ ترین