تازہ ترین

یتیم کی پکار

افسانہ

تاریخ    26 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


ریحانہ شجر
غزلی سکول سے واپس آئی تو ماں کو کام کرتے دیکھ بولی اَمی میرا انتظار کیا کرو میں خود سارے کام نپٹالونگی۔ پروین کو غزلی کی طرف پیار سے دیکھ کر بولی ‘تم اپنی کتابوں پر دھیان دو یہ کام ہو جائیگا، ہم غریبوں کے چھوٹے سے گھروں میں کام ہی کتناہوتا ہے۔ امی کام ہر گھر میں ہوتا ہے۔ غزلی جھٹ سے بولی۔ پھر ماں نے کہا ‘بس باتیں بنائے بغیر جلدی کھانا کھائو اور تھوڑے چاول بھائی کے لئے بھی رکھنا۔ٹھیک ہے امی، غزلی بولی ۔وہ تھی تو دس سال کی لیکن وقت اور حالات نے اسکو سیانا بنادیا تھا۔ ۔۔۔!
اسکا باپ، جس کا نام الیاس تھا ،حالات کا مارا اپنے دادا کے دوران حیات ہی یتیم ہوگیا تھا اور گھر والوں نے اسکی ماں اور الیاس کو زمین جایداد سے بے دخل کر کے گھر سے باہر نکالا تھا۔تب سے اسکی ماں نے اسکو سنبھالا تھا۔ میٹرک پاس کرکے کام ڈھونڈنا شروع کیالیکن کام کہیں نہ ملا۔پھر ایک روز نیم فوجی دستے میں عارضی سپاہی مقرر ہوا۔ گھر کے معاشی حالات ٹھیک نہ ہونے کے باعث اُس نے یہ نوکری کرلی تاکہ گھر کا خرچہ چل سکے اور شاید آگے چل کر مستقل ملازمت ہوجائے۔ بیمار ماں کی آرزو تھی کہ الیاس اسکے مرنے سے پہلے  شادی کرلے۔ الیاس کام لگن سے کرنے لگا پھر ایک دوست کے ذریعے   صوفیہ کے ساتھ رشتہ طے پایا اور شادی بھی کرلی۔ شادی کے چند مہینوں کے بعد  ماں کا انتقال ہو گیا۔ الیاس بہت مایوس ہوگیا کیونکہ اسکو ماں کی تکلیفوں کا شدید افسوس تھا۔ اب وہ ماں کو ڈھیر ساری خوشیاں دینا چاہتا تھالیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ اکثر وہ نہیں ہوتا جو انسان چاہتا ہے۔ ایک سال بعد بیٹی پیدا ہوگئی ۔ الیاس کو جینے کانیا مقصد مل گیا۔ بیٹی کا نام پیار سے غزلی رکھا۔ الیاس بیٹی کو کبھی غزل کبھی غزلی کہہ کر پکارتا تھا۔ غزل بہت پیاری بچی تھی ۔ اسکے آنے سے گھر میں رونق سی آگئی ۔ الیاس کو اپنی دنیا خوبصورت لگنے لگی۔ 
صوفیہ دل سے کمزور تھی ۔ وہ ہر وقت  ایک خوف کے شکنجے میں رہتی تھی ۔ وہ الیاس سے بے پناہ محبت کرتی تھی اور اس کی نوکری سے اُس پر عجیب سا ڈر طاری تھا۔   اکثر و بیشتر الیاس کو رات کی ڈیوٹی دینی پڑتی تھی ان دنوں صوفیا نہایت تکلیف میں رہتی تھی اور یہ معمول تھا۔ الیاس مجبور تھا ڈیوٹی جانا ضروری تھی۔ حالانکہ الیاس  اسکو بار بار سمجھاتا تھا کہ ہزاروں ،لاکھوں کی تعداد میں لوگ بری، بحری اور نیم فوجی دستوں میں تعینات ہیں۔ یہ قدرت کا نظام ہے  جسکے نصیب میں جہاں رزق   ہوتا ہے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔اس لئے توّکل کرکے ہر معاملہ اُوپر والے کے حوالے کرنا چاہے لیکن وہ پھر بھی ویسے ہی سوچتی رہتی تھی۔ایک دن الیاس ڈیوٹی چلا گیا تو فون آیا کہ گھر جلدی پہنچ جائو۔ الیاس آفیسر سے اجازت لے کے گھر پہنچ گیا تو دیکھا ایک طوفان آچکا تھا۔ صوفیہ دل کا دورہ پڑنے سے مر گئ تھی۔ الیاس نے اپنے آپ کو کبھی اتنا بے بس نہیں پایا جتنا آج لگا۔ چاروں طرف اندھیروں کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ یہ دنیا کتنی عارضی ہے اس نے آج جانا۔ بھری جوانی میں اپنے وجود کا آدھا حصہ اچانک الگ ہوتے دیکھ کر وہ بکھر گیا۔کئ دنوں تک اس نے اندھیرے کمرے میں خود کو قید کر لیا۔ یاروں دوستوں نے بہت سمجھایا مگر وہ سنبھل نہیں پا رہا تھا۔ پھر کسی نے اسکی گود میں ننھی سی جان غزلی کو رکھا ۔ اسکو ہوش آیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اتنا رویا کہ بچی  بے بس باپ کے آنسوں سے بھیگ گئی۔ اس نے واپس ڈیوٹی جوائن کرلی۔ چونکہ گھر میں غزلی کی دیکھ بال کرنے والا کوئی نہ تھا اسلئے وہ روز اسکو کو ساتھ لے کر ڈیوٹی  جاتا تھا۔ سبھی ساتھی الیاس کی بے بسی دیکھ رہے تھے۔ سب نے یہی مشورہ دیا کہ دوسری شادی کرلو لیکن وہ  شادی سےانتہائی خوفزدہ ہوا تھا  ۔ پھر ان میں سے ایک نے کہا اسکوکچھ وقت کیلئے ایسے ہی رہنے دو ، یہ  خود سنبھل جائے گا کیونکہ وقت ہر زخم کا مرہم ہے۔ پولیس لائن میں رہ کے ہی غزلی چھے سال کی ہوگئ۔ وہیں سے سکول بھی گئی ۔ اس نے کبھی کھلونوں کے ساتھ نہیں کھیلا۔ لڑکیاں اکثر گھرگھر کھیلتیں ہیں لیکن غزلی کے ہاتھ میں نہ کبھی گُڑیاں تھی نہ ہی کھلونے۔اس نے صرف بندوق دیکھی اور وہی روزمرہ کے حوادث ۔ یہی سب کچھ دیکھ کر وہ بڑی ہوگئ تھی۔ الیاس کی کوششوں نے غزلی کو مزید دلیر اور مضبوط بنایا تھا ۔وہ کسی چیز سے کبھی نہیں ڈرتی تھی۔  
الیاس نےایک دن کسی نئےشخص کو پولیس لائن میں غزلی کو گھورتے دیکھا تو وہ بے چین ہوگیا۔ اس نے اپنے دوستوں کو بتایا میں نوکری چھوڑ کر غزلی کو لیکر گھر جائونگا ۔ ہم وہیں رہیں گے۔ لائن کے انچارج کو پتہ چلا تو اس نے مشورہ دیا نوکری چھوڑ کر کام کیا کروگے، بہتر ہےکہ تم شادی کرلو۔ خیر اس حالت میں صرف شادی ہی مناسب حل تھا اور اولاد کے لئے انسان کوئی بھی قربانی دیتا ہے، بصورت دیگر وہ کبھی شادی نہ کرتا۔ اسکو اندر سے یہ دکھ تھا کہ صوفیا  اسکی ڈیوٹی کی  وجہ سے مر گئی تھی۔  
اسی اثناء میں پروین نامی ایک لڑکی کا رشتہ آیا۔شادی سے پہلے الیاس نے پروین کو اپنے پچھلے حالات سے پوری طرح آگاہ کیا اور یہ بھی سمجھایا کہ اسکی نوکری  میں کتنا خطرہ ہے۔ مزید وہ یہ شادی غزلی کےلئے کر رہا ہے تاکہ اسکی زندگی  میں ماں کی کمی پوری ہو۔پروین نے خوشی سے ہامی بھر لی اور وعدہ کیا کہ غزلی کا پورا خیال رکھے گی، تو شادی طے ہوگئی۔ شادی کے بعد الیاس کو ڈیوٹی جانے میں راحت محسوس ہوئی۔غزلی کافی سمجھدار تھی ۔ وہ پروین کے ساتھ ایسے رہنے لگی جیسے کہ سگی ماں  ہو۔چند مہینے گزر گئے۔ پروین ماں بنے والی تھی۔الیاس کی ڈیوٹی دورتھی، پھر بھی وہ  پروین اور غزلی کے لئے مہینے میں  ایک بارگھر آیا کرتا تھا۔اب کی بار دو تین دن کی چھٹی زیادہ ملی۔ اچھا وقت گزرنے کی امید تھی۔ ایک دو روز کےبعد الیاس نے گھر کے لیے ہمیشہ کی طرح سودا لایا تاکہ ماں بیٹی کو کسی چیز کی کمی نہ ہو۔ کام ختم ہونے کے بعد تینوں چین سے بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ الیاس دیکھنے کے لئے گیااور اُلٹے پاوں واپس آیا یہ کہنے کے لئے کہ  ان لوگوں کے ساتھ باہر تک جاؤنگا اور ابھی واپس آؤنگا،پھر رات کا کھانا  ایک ساتھ کھاینگے۔ ۔۔۔۔۔!تب کا گیا اب تک نہ لوٹا۔
 کچھ وقت گزرنے کے بعد پروین نے بیٹے کو جنم دیا ، جس کا نام ادریس رکھا  گیا۔ اب ان تینوں کی  مالی حالت دن بدن بگڑنے لگی۔ برا وقت  کچھ یوں آن پڑا  کہ دوست رہے نہ رشتے دار، سب نے منہ پھیر دیا۔ پولیس لائن جہاں الیاس کام کرتا تھا، وہاں بھی کسی نے کوئی مدد نہیں کی۔ جو کوئی ہمدرد بھی تھا انہوں نے کہا کہ انکے ہاتھ بندھے ہیں۔ اگر بندہ مرگیا ہو تاتو کچھ کر لیتےہیں لیکن لاپتہ ہونے پر بندے کا کیس کیسے حل کیا جائے اسکے لئے کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔ مزید اس کیس میں کچھ کرنے سے قاصر تھے کیونکہ الیاس عارضی(Temporary worker)  ملازم تھا مستقل نہیں تھا۔ 
پروین نے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا شروع لیکن غزلی کو باقاہدہ اسکول بھیجتی رہی ۔ اب غزلی اور ادریس دونوں  پاس کے ا سکول میں پڑھنےجانے لگے۔ ایک رضاکارانہ تنظیم سال میں ایک یا دو بار خاص کر عید کے موقع پر کچھ مالی امداد اور کپڑے دے کرایک تصویر بھی لیتے تھے۔ غزلی ماں کو اکثر رات کو روتے دیکھا کرتی تھی۔ 
جب بھی وہ عید کے دن کپڑے پہن کے نکلتے تھے تو آس پڑوس کے بچے مذاق اڑاتے تھے ۔ غزلی کو سمجھ نہیں آتا تھا۔ ماں سے شکایت کی اس نے دونوں کو گھر میں کھیلنے کی تاکید کی۔اب پچھلے کچھ سالوں سے وہ عید کے دن باہر نہیں آجاتے ہیں۔ گھر میں بھائی بہن کھیلتے ہیں۔ اس بار بھی عید آنے والی ہے اور تنظیم والے آگئے ،راشن ، کچھ روپے اور کپڑے دیتے ہوئے تصویر لے لی اور چلے گئے۔ رات کو پروین نے بچوں کو کھانا دیا اور خود بھی کھایا اور سو گئے۔ غزلی کو پتہ تھا کہ ماں رو رہی ہے ۔ وہ گئی اور ماں کے پاؤں دبانے لگی اور مالش کی۔ پروین کو نید آگئی۔ غزلی نے دیکھا ماں نے  اپنے سرہانے اخبار چھپا کے رکھا ہے۔ اس نے اخبار اٹھایا تو دیکھا کہ اس میں ماں، بھائی اور اپنی  بڑی تصویر تنظیم والے رضوی صاحب کے ساتھ چھپی تھی۔ وہ گئی اور پاس کی الماری میں ماں نے مزید  پچھلے  سالوں کے اخبار رکھے تھے۔ ان میں بھی وہی ماں، بھائی اور اپنی تصویر دیکھی ۔ اب اسکو سمجھ آیا بچے کیوں عید کے دن ان پر ہنستے تھے اور ماں کیوں رات کو رویا کرتی ہے۔
غزلی کو پڑھائی کے ساتھ آرٹ میں کافی دلچسپی ہے۔ اس نے آرٹ کے کئی مقابلے جیتے تھے۔سائنس کے سبجیکٹ میں انسانی جسم کے مختلف اعضاء بنانا  اور کلاس کے لئے خوبصورت چارٹ وغیرہ بنانے میں وہ ماہر تھی۔۔ اسکول کے بچے اپنے چھوٹے پروجیکٹ اسی سے بنوانے آنے لگے ۔ وہ سب کو مفت میں یہ کام کرکے دیتی تھی پھر کسی بچے نے اسکو مشورہ دیا کہ غزلی تم اس کام کے پیسے لے سکتی ہو، تم اپناقیمتی  وقت پروجیکٹ بنانے میں لگاتی ہو ۔ غزلی کو بات ٹھیک لگی اس  نے ماں سے اس بارے میں بات کی تو ماں نے اجازت دے دی لیکن پڑھائی میں کوئی ہرج نہ ہونے پائے ماں نے اس بات کی تاکید کی۔  
 ایک دن ٹیچر نے غزلی کو سکول کے سالانہ اجلاس کے بارے میں آگاہ کیا  اور وہاں چند الفاظ بولنے کے لئے تیار ہونے کو کہا۔غزلی نے ماں سے کہاکہ امی کل کچھ منتخب شدہ طالب علموں کو اسکول میں بلایا گیا ہیں، میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔ماں نے پوچھا کیا کوئی خاص تقریب ہے۔ غزلی بولی ہاں امی کل سکول کا سالانہ اجلاس ہے۔ حالات کے پیش نظر بہت کم بچوں کو بلایا ہے اور کچھ خصوصی مہمان بھی شرکت کر رہے ہیں۔
 تقریب شروع ہونے سے پہلےٹیچر نے بچوں کی حوصلہ افزائی کی ۔سکول  کی تقریب میں محترم رضوی صاحب مہمان خصوصی تھے جو کہ رضاکار تنظیم کے سربراہ تھے۔ منتخب شدہ بچوں نے باری باری اپنے خیالات کا اظہار کیا اب آخری باری غزلی کی آئی۔ وہ ڈاَئس پر آگئی اور بولنا شروع کیا۔
‘‘معزز حاضرین ،آداب۔۔۔۔۔!
عالی وقار رضوی صاحب ۔ آجکل کے اس مادہ پرست دور میں جہاں انسان صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے اور امیر سے امیر تر ہونے کے کوشش میں انسانیت اور اخلاقی قدریں بھول چکا ہے،وہاں آپ اور آپکی تنظیم بنا کسی لالچ کے  پچھلے کئی سالوں سے  قوم اور سماج کے پسماندہ طبقے کا آسرا بنے ہوے ہیں، جسکی جتنی سراہانہ کی جائے کم ہے۔ تالیوں اور واہ واہی سے سارا ماحول گونج اٹھا۔ اگر آپ جیسے اور کئی لوگ ایسی سماجی کاموں میں جٹ جائیں تو ہمارا معاشرہ دنیا کےلئے ایک مثال بن جائیگا۔ اور بھی کئی لوگ ان نیک کاموں میں جُٹے ہوئے ہیں، جو مذہبی تہواروں (جیسے عید، دیوالی وغیرہ ) پر حاجتمندوں  کے پاس جاکر انکو ضروری ایشاء فراہم کرتے ہیں۔ اس نیک کام کو کرتے وقت تصویریں لیتے ہیں اور دوسرے دن اخبارات میں چھپواتے ہیں۔ وہ خیر کا کام کرکے  بہت خوش ہوتے ہیں لیکن کیا کسی نے سوچا ہے کہ جانے انجانے میںوہ خیر کا کام ان ضرورت مندوں کے لئے کتنا کربناک ہوتا ہے، جو اس اخبار میں یہ امداد لیتے ہوئے دکھتے ہیں،انکی عزت نفس کوکتنی ٹھیس پہنچتی ہیں ۔ آسودہ حال لوگوں کے دیئے ہوئے نوالے غریبوں گلے سے اُتر تو جاتے ہیں لیکن  پورے وجود کو چھلنی کر دیتے ہیں ۔انکےکے دیئے ہوئے کپڑوں سے ان بےبسوں کا ظاہری ستر تو ہوجاتا ہےلیکن خودداری برہنہ ہوجاتی ہے۔آس پڑوس کے  لوگ، جنہوں نے اخبار میں ان کی تصویریں دیکھی ہوتی ہیں،طعنے مار کر ان کا جو حال کردیتے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ ہمارے سماج میں غریب ہونا سب سے بڑا گناہ ہے ۔ جبکہ غریبی اور تنگدستی اللہ کی طرف سے ہے۔ اسمیں غریب کا کیاقصور۔ اگر اللہ نے کسی کو دولتمند بنایا ہے۔ تو اس رب کی عنایت ہے۔اس میں کسی صاحب ثروت کا کوئی کمال نہیں ۔ اللہ جس کو چاہے سے بے حساب رزق عطا کرتا ہے اور کسی کو بہت کم رزق سے نوازتا ہے۔ 
آخر میں میری مؤدبانہ گزارش کی کہ خیرات اگر صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے  جیسا کہ سب کا دعویٰ ہے تو پھر میڈیا میں تشہیر کر کے غریبوں کا مذاق کیوں اڑایا جا تا ہے‘۔
 رضوی صاحب کو اس بات کا احساس ہوا کہ انجانے میں ان سے بھول ہوئی ہے اندر ہی اندر اسکو اپنے کئے پرشرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔ نیک کام کرتے وقت جس بات کا خیال انہیں کرنا چاہے تھا اس کا اشارہ ایک بچی نے بہت خوبصورتی دیا ۔
���
وزیر باغ، سرینگر
rehanashajar@gmail.com 
 

تازہ ترین