تازہ ترین

گر ہن

افسانہ

تاریخ    26 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


گلشن رشید لون
کووڈ کی وجہ سے لاک ڈائون میں ، میں واپس اپنے گھر بارہمولہ آگیا۔ ہر روز کی طرح صبح اٹھ کر گھر کے آنگن میں گیا تو ساتھ والے پڑوسی کے گھر سے بچوں کا بہت شور آ رہا تھا۔ حالانکہ یہ گھر بہت وقت سے خالی تھا۔ممی نے مجھے بتایا تھا کہ گھر والے کہیں باہر رہتے ہیں۔ پڑوسی کے گھر کا ایک دروازہ ہمارے آنگن میں بھی کھلتا تھا۔ میں نے اسی دروازے سے گھر کے اندر جھانکا تو دیکھا دو بچے گھر کے آنگن میں کھیل رہے تھے۔ کھیلتے کھیلتے جب ان کی نظر مجھ پر پڑی تو انھوں نے کھیلنا بند کر دیا اور دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ کر سہمے ہوئے،انداز میں گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہوکر مجھے ایسے گھورنے لگے جیسے انھوں نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔
دونوں بچوں میں ایک لڑکی تھی جو تقریبا دس گیارہ سال کی ہوگی اور اس کا چھوٹا بھائی تقریبا آٹھ نو سال کا ہوگا۔ ان کی شکل و صورت اور کپڑوں سے و ہ بالکل کشمیری نہیں لگتے تھے۔ بہت دیر تک مجھے گھورنے کے بعد دونوں آپس میں دھیرے دھیرے ہلکی آواز میں میری طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہو ئے بات کرنے لگے۔ لیکن ان کی آواز اتنی ہلکی تھی کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا بول رہے ہیں، بس اتنا سمجھ میں آیا کہ وہ کشمیری زبان میں نہیں بلکہ انگریزی میں بات کر رہے تھے۔ میں ابھی ان بچوں سے کچھ بولنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ  ایک شخص راشد راشد پکارتے ہوئے گھر سے آنگن کی طرف آیا۔ تو بچے فورا اس شخص کے پیچھے جاکر چھپ گئے اور وہ مجھے چھپ چھپ کر دیکھنے لگے۔ جیوں ہی اس شخص کی نظر مجھ پر پڑی تو میں  نے جھٹ سے ان کو سلام کیا جس کا انہوں نے بہت ہی احترام سے جواب دیا اور مجھے گھر کے اندر آنے اور چائے پینے کی دعوت بھی دی۔لیکن میں نے کوئی بہانا بناکر ان سے اجازت لی اور اپنے گھر واپس آگیا۔ ممی مجھے ناشتہ کے لئے ڈھونڈتے ہوئے آنگن میں آگئیں اور بولیں’’ تم کہاں چلے گئے تھے ۔ چلو!! ناشتہ کر لو ورنہ ٹھنڈا ہو جائے گا‘‘۔چائے پیتے ہوئے میں نے ممی سے کہا’’ میں پڑوسی کے گھر گیا تھا لیکن وہاں تو کوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ابھی میں نے اپنی بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ ممی نے مجھے بتایا کہ یہ گھر جن لوگوں کا تھا اب وہی یہاں رہیں گے۔‘‘
’’ لیکن یہ لوگ تو کشمیری بالکل بھی نہیں لگتے‘‘!!!۔
’’ہاں!!! کیونکہ یہ لوگ کہیں باہر ملک سے آئے ہیں وہ کیا تھا ملک کانام،‘‘ اور ممی سوچتے ہوئے اچانک بولیں ، ہاں!! یاد آیا’’یوگانڈا‘‘۔ یہ لوگ یوگانڈاسے آئے ہیں۔ اور اب یہیں رہیں گے۔
میں نے اپنا ناشتہ ختم کرنے کے بعد گھر کے آنگن کی واڑی میں کام کرنے لگا ۔ کام کرتے کرتے جب سامنے دیکھا تو دونوں بچے ہمارے گھر کے آنگن میں کھڑے مجھے دور سے دیکھ رہے تھے اور آپس میں انگلش میں ایک دوسرے کو میری طرف آنے کے لئے بول رہے تھے ۔ لیکن کافی دیر کے بعد جب وہ دونوں میرے پاس نہیں آئے تو میں اپنا کام چھوڑ کر خود ان کے پاس گیا اور ان سے بہت ہی آرام سے ان کا نام پوچھا۔تو دونوں پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے جیسے کہہ رہے ہوں کہ میرے سوال کا جواب دونوں میں سے کون دے گا؟لیکن پھر لڑکی نے جھٹ سے جواب دیاکہ ’’ میرا نام روحی ہے اور یہ میرا چھوٹا بھائی راشد ہے‘‘۔
       اچھا!!! تو تم بھی راشد ہو۔ یہ کہتے ہوئے میں نے راشد کی طرف شیک ہینڈ کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا :’’ ہیلو!!! دوست ،مائی سیلف آلسو راشد‘‘ (Hello Friend, mu self also Rashid)۔ یہ سنتے ہی روحی اور راشد زور زور سے ہنسنے لگے اور پھر بہت سی باتیں پوچھنے لگے ۔ کبھی پوچھتے یہ کون سا درخت ہے ؟ کبھی پوچھتے آپ کہاں اور کیا پڑھتے ہیں؟ ان کے بات کرنے سے مجھے ایسا لگا کہ ان کا ڈر دھیرے دھیرے دور ہوگیا ہے۔ پھر روحی نے بتایا کہ ان کے پاپا نے انھیں سینٹ جوزف انگلش میڈیم اسکول میں داخل کروادیا۔روحی ففت اسٹینڈرڈ میں اور راشد کو فورتھ اسٹینڈرڈ میں پڑھ رہا ہےاور پھر بتایا کہ ہم اپنے پاپا اور دادی کے ساتھ رہتے ہیں۔ 
’’ اور تمہاری ممی؟؟‘‘
یہ سوال پوچھتے ہی روحی ور راشد ایک بار پھر سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے،جبھی راشد نے جواب دیا’’مما!!! مما تو نہیں ہیں‘‘۔ 
’’اوہ ! سوری! ‘‘ ، میں نے پھر سے پوچھا : ’’ کیا تمہیں مما یاد نہیں آتی‘‘۔ دونوں بچے پھر سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور اب کی بار روحی نے ذرا تیز انداز میں جواب دیا’’نہیں‘‘۔مجھے روحی کے اس طرح جواب دینے سے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ پھر مجھے لگا شاید میرے اس سوال نے ان کو ہرٹ (Hurt)کیا۔ اس لئے میں بات کو بدلتے ہوئے ادھر ادھر کی باتوں سے بچوں کو ہنسانے کی کوشش کرنے لگا۔ کچھ دنوں میں روحی اور راشد مجھ سے اتنے ہل مل گئے کہ جب بھی وہ مجھے آنگن کی واڑی میں کام کرتے دیکھتے تو دوڑتے ہوئے میرے پاس آتے اور کبھی کبھی ممی کو انگلش سکھانے کے لئے موٹی موٹی انگلش کی کتابیں لے کر آتے لیکن مزے کی بات تو یہ تھی کہ نہ ممی کو اردو آتی تھی اور نہ ہی بچوں کو کشمیری ۔ پھر بھی اشاروں سے پڑھائی ہوتی تھی۔پھر ان کی دادی بھی اکثر ممی کے پاس بیٹھتی۔ باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے یعنی روحی اور راشد کے پاپا سجاد کے پیدا ہونے کے بعد وہ  بنگلور میں شفٹ ہوگئے تھے۔ اور دادی کچھ دیر ممی سے بات کرنے کے بعد بچوں کے ساتھ اپنے گھر لوٹ گئیں۔
دوسرے دن صبح جب میں اپنے گھر کی واڑی میں کام کرہا تھا تو میں نے دیکھا کہ ان کے دروازے کے سامنے فورچونر گاڑی آکر رکی ۔ ہمارے گھر اور ان کے گھر کے درمیان دیوار زیادہ اونچی نہیں تھیں اس لئے ان کا مین گیٹ ہمارے گھر سے صاف صاف دیکھائی دیتا تھا۔ جبھی میں نے دیکھا کہ دادی گاڑی کی آواز سن کر تیزی سے مین گیٹ کی طرف لپکی لیکن روحی  اور راشد آنگن میں کھڑے دور سے دیکھ رہے تھے ۔ ڈرائیور نے فورچونر کا دروازہ کھولا تو ایک بہت ہی موڈرن اور خوبصورت عورت گاؤن پہنے گود میں چھوٹا سا بچہ لئے نکلی تو دادی نے فورا اس بچہ کو بہت ہی پیار سے گود میں لے لیا۔ اور عورت کو ہاتھ سے گھر کے اندر چلنے کا اشارہ کیا۔ 
دوسرے دن روحی اور راشد ہر روز کی طرح ہمارے آنگن میں کھیلنے کے لئے آئے تو میں نے ان سے اس عورت کے بارے میں پوچھا تو روحی نے بتایا کہ وہ عورت ان کی مما ہیں۔ اس کا مطلب وہ بچہ تمہار ا بھائی یا بہن ہے ؟ ’’نہیں‘‘ ، روحی کا جواب سنتے ہی میں تعجب میں پڑگیا۔ ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟ پھر میں نے سوچا کہ شاید یہ ان کی سوتیلی ماں ہوگی۔ جبھی کل بچے اس عورت کے آنے پر دور کھڑے ہوئے تھے ۔لیکن دادی اس چھوٹے بچے کو لیکر ہمارے گھر ممی سے ملنے آئیں تو سارا قصہ ممی کو سنا دیا۔ جو بعد میں ممی نے مجھے بتایا۔
دراصل سجاد صاحب  کی ہیلن سے پہلی ملاقات انہیں کی یونیورسٹی میں ہوئی۔ ہیلن بہت خوبصورت  مورڈرن اور اٹریکٹیو عورت تھیں۔ اس لئے سجاد صاحب ان سے دل ہار بیٹھے اوردونوں  جلد ہی شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ ہیلن کو موڈلینگ(Modeling)کا شوق بھی تھا، اس لئے وہ شادی سے پہلے کبھی کبھی موڈلنگ بھی کر لیتی تھیں۔ جبکہ سجاد صاحب نے پڑھائی ختم کرنے کے  فورا بعد ہی انٹرنیشنل فلائیٹ میں  پائیلیٹ کی حیثیت سے ملازمت اختیار کر لی تھی۔
سجاد صاحب کی فیملی روحی اور راشد کے پیدا ہونے کے بعد مکمل ہو گئی تھی تو ہیلن بھی موڈلنگ چھوڑ کر گھر پر ہی رہنے لگیں۔ لیکن پھر اچانک ایک دن سجاد صاحب کار ایکسیڈینٹ ہوا اور حادثے میں ان کی ریڈ ھ کی ہڈی میں کچھ خرابی پیدا ہوگئی، جس کی وجہ سے انھیں پائیلیٹ کی نوکری سے ہٹا دیا گیا۔ اب سجاد صاحب بے گار ہوکر گھر پر ہی رہنے لگے۔ بغیر پیسوں کے گھر چلانا بہت مشکل ہوگیا۔سجاد صاحب کے باپ کی پینشن سے آخر کتنا ہی گھر چل سکتا تھا؟۔ تو ہیلن نے پھرسے موڈلنگ شروع کر دی اور وقت تیزی سے گذرتا گیا۔ اب ہیلن کا زیادہ وقت گھر سے باہر ہی گذرنے لگا، یہاں تک کہ وہ رات گئے گھر واپس آتیں تو کبھی کبھی وہ نشے کی حالت میں بھی ہوتیں۔ سجاد صاحب نے کئی بار ہیلن کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ حالات تو تب بے قابو ہو گئے جب سجاد صاحب دیر رات ہیلن کا انتظار کر رہے تھے کہ تبھی انھوں نے کمرے کی کھڑکی سے ہیلن کو کسی مرد، جو اس رات ہیلن کو گھر چھوڑنے آیا تھا،کو فلائینگ کس کرتے ہوئے دیکھا۔
ہیلن کے گھر میں داخل ہوتے ہی سجاد صاحب نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی اور دیکھتے ہی دیکھتے آدھی رات میں گھر میں ہنگامہ ہوگیا۔ چیخنے چلانے کی وجہ سے بچے اور دادی بھی اپنے اپنے کمروں سے باہر نکل کر سہمے ہوئے ماں کے کمرے کے باہر سے دیکھ رہے تھے۔ ہیلن سجاد صاحب سے چیخ چیخ کر بول رہی تھی مجھے دولت چاہیئے ، مجھے عیش و آرام چاہئیے ۔ مجھے تمہارے اس گھرمیں گھٹن ہوتی ہے ۔ مجھے تم سے آزادی چاہئیے۔ مجھے طلاق چاہئے اور کہتے ہوئے ساتھ والے کمرے میں جاکر دروازہ بند کر کے سو گئی۔ 
اگلے دن صبح ہیلن نے سامان پیک کیا اور سجاد صاحب سے کہا: ’’میں جا رہی ہوں، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ، تم سے دور، تمہاری دنیا سے دور اور اس غریبی سے دور۔ ’’ لیکن ہیلن!! تم بچوں کے بارے میں سوچو!! آخر یہ تمہارے بغیر۔۔۔‘‘، ’’ ہاں! بچے تم اپنے پاس ہی رکھوکیونکہ میں بشیرسے شادی کرنے جا رہی  ہوں کیوں کہ اس کے پاس دولت ہے اور وہ مجھے دنیا کا ہر عیش و آرام دے سکتا ہے جو تم مجھے نہیں دے سکتے‘‘ یہ کہکر ہیلن سامان کے ساتھ گھر سے نکل کر کار میں بشیرکے ساتھ چلی گئی۔
پھر معلوم ہوا کہ ہیلن نے کچھ دنوں کے بعد بشیرسے شادی کر لی۔لیکن سجاد صاحب روحی اور راشد کو بہت پیار کرتے تھے اس لئے انھوں نے دادی کے بہت ضد کرنے پر بھی دوسری شادی نہیں کی۔ ماں کے جانے کے بعد سجاد صاحب نے بچوں کو ماں اور باپ دونوں کا پیاردیا اور انھیں کبھی ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔اور یہ چھوٹا بچہ ہیلن اور بشیرکا ہے ۔ ہیلن آج بھی کبھی کبھی یہاں آتی ہے جیسے آج آئی ہے۔
چلو بھئی!!! آج کہانی بہت ہوئی اور رات بھی بہت ہوگئی ہے اب سونا چاہئیے کہکر ممی اپنے کمرے میں سونے چلی گئیں لیکن میں رات بھر نہیں سو سکا۔ اور  بس ان کے بارے میں سوچتا رہا کیاایسی بھی ماں ہوتی ہے؟ جو اپنے بچوں کے ساتھ بھی ایسا کر سکتی ہے؟ ماں تو بچوں کے لئے رحمت ہوتی ہے۔ ماں کے پیروں کے نیچے تو جنت ہوتی ہے۔تو کیا اس ماں کے پیروں تلے بھی۔۔۔۔ یہ سوچتے سوچتے جانے مجھے کب نیند آگئی معلوم ہی نہیں ہوا۔
اور آج برسوں کے بعد ان کے گھر کا تالہ پھر سے کھلا ہوا تھا ۔ دراصل سجاد صاحب اپنے بچوں کے ساتھ پھر  جاب کے سلسلے میں کہیں چلے گئے تھے۔ اس لئے جب ان کے گھر کا دروازہ پھر سے کھلا دیکھا تو میں فورا ان کے گھر کی طرف گیا کہ شاید سجاد صاحب اپنے بچوں کے ساتھ واپس آئے ہونگے۔ لیکن جب میں ان کے گھر کے اندر گیا تو کوئی اور شخص میرے سامنے کھڑا تھا۔ میں نے اس شخص سے سجاد صاحب کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ روحی  اور راشد کے پھوپھا ہیں اور اب یہ گھر وہ بیچنا چاہتے ہیں۔ 
’’مگر کیوں؟‘‘ میں نے جھٹ سے پوچھا۔
’’سجاد صاحب  اپنے بچوں کے ساتھ پھر سے  یوگانڈا شفٹ ہوگئے تھے اور وہاں وہ ٹیکسی چلاتے تھے۔ ایک شام موسم بہت خراب تھا  اور ان کی گاڑی کسی کھائی میں گر گئی جس کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی۔ پھر بہت کوشش کے بعد ان کی لاش اور بچوں کو انڈیا لایا گیا‘‘۔ 
’’لیکن روحی اور راشد؟‘‘ میں نے پھر سے پوچھا۔
’’ وہ اب اپنی ماں کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ اب دادی بھی نہیں رہیں کیونکہ وہ بیٹے کا صدمہ برداشت نہیںکر سکیں۔
���
 ریسرچ اسکالر شعبہ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی، راجوری 
gulshanlone786@gmail.com 
 

تازہ ترین