تازہ ترین

علِم ۔دعوتِ الی اللہ کی بنیادی شرط

فکروفہم

تاریخ    24 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


عمران بن رشید
دعوتِ الی اللہ علم سے عبارت اور منسلک ہے۔بلکہ علم دعوتِ الی اللہ کی بنیادی شرائط میں سے ہے‘جس کی دلیل سورہ بنی اسرائیل کی یہ آیت ہے{وَلَاتَقْفُ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ والْبَصَرَ وَالْفُئَوادَکُلُّ اُولٰئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُولًا } یعنی اُس بات کے پیچھے مت پڑو جس کا تمہیں علم نہیں بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہوگا[بنی اسرائیل؍36] اس آیت میں اُن افراد کے لئے شدید وعید بیان ہوئی ہے جو بغیر ِ علم لوگوں پر بہتان بازی اور فتویٰ بازی کرتے پھرتے ہیں‘اسی ضمن میں یہ بات بھی آتی ہے کہہ بغیر علم دعوت و تبلیغ کا کام کیا جائے گویا یہ بھی بہتان بازی ہی کی ایک قسم ہوئی ۔کیوں کہ لاعلم شخص کبھی اللہ پر غلط بیانی کرتا ہے اور کبھی بنی کی طرف جھوٹ منسوب کرتا ہے ۔ ’’قَفَایَقْفُو‘‘کا مطلب ہے پیچھے پڑنا یا پیچھے لگنا‘گویا ’’وَلَاتَقْفُ‘‘کا معنی ہوا ایسی بات یا ایسی چیز کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہیں۔ابو نعمان سیف اللہ خالد اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں ’’اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آدمی کو ایسی بات کہنے سے منع فرمایا ہے جس کا اسے علم نہ ہو‘‘۱؎۔قتادہؒ کا ایک قول مفسرین نے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں [لَاتَقُل رَاَیْتُ وَلَم تَر وَ سَمِعْتُ وَلَم تَسْمَعُ وَعَلمْتُ وَلَم تَعْلَم]یعنی ایسامت کہا کرو کہ میں نے دیکھا جب کہ تم نے نہ دیکھا ہو اور نہ یہ کہا کرو کہ میں نے سنا جبکہ تم نے نہ سنا ہو اور نہ یہ کہا کرو کہ میں نے جانا جبکہ تم نہ جانتے ہوں۔بغیرعلم جب آپ دعوت و تبلیغ کا کام کریں گے تو آپ کے ذریعے محض فساد پھیلے گا اور کچھ نہیں۔عربی زبان میں کہا جاتا ہے ’’رَفْعُ الْجَھل عَن نَفْسِک ثُم عن غَیرِہ‘‘یعنی پہلے خود کی لاعلمی کو دور کرو اُس کے بعد دوسری کی۔دعوت و تبلیغ کا کام حصولِ علم کے بعد ہی کیا جانا چاہیئے لیکن بہت سے لوگ اس کے برعکس معاملہ کرتے ہیںجیسا کہ اللہ کا فرمان ہے{اِنَّ کَثِیْرًا لَیُضِلُوْنَ بِاَھْوَائِھِم بِغَیرِ عِلم }اور بہت سے لوگ بغیر علم اپنی خواہشات کی بنا پر لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں[انعام؍120]۔ایسے لوگ قرآن و سنت کی خود ساختہ تاویل کرکے عوام النّاس کو گمراہی میں دھکیلتے ہیں۔دعوت و تبلیغ کا کام قدرے حساس ہے۔یہاں ایک ایک بات دلیل سے ثابت شدہ ہو یہی علم کا تقاضا ہے،محمد بن عبدالوہابؒعلم کی تعریف میں کہتے ہیں ’’العلم ہوا معرفۃ اللہ و معرفۃ بنیہ ومعرفۃ دین الاسلام بادلۃ‘‘علم دلیل کے ساتھ اللہ کی پہچان کا نام ہے اور اُس کے نبی کی پہچان کا نام ہے اور دین اسلام کی پہچان کا نام ہے ۔امام مسلم نے اپنی صحیح میں ایک حدیث لائی ہے جسے ابو حریرہؓ نے روایت کیا ہے کہتے ہیںکہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اُسے بلا تحقیق آگے بیان کردے۔
سورہ نحل کی آیت ایک آیت ہے{اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَہِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُم بِالَّتِی ھِیَ اَحْسَنُ الخ}یعنی اپنے رب کے راستے کی طرف بلائو ‘حکمت اور اچھ نصیحت کے ساتھ اور اُن یعنی لوگوں سے بحث (مناظرہ)کرو اچھے طریقے سے۔اس آیت میں دعوتِ الی اللہ کے کچھ اصول اور کچھ شرطیں بیان ہوئی ہیںجن میں پہلی شرط یا پہلا اصول ہے ’’حکمت‘‘۔ابن کثیرؒ نے امام ابن جریرؒ کا قول نقل کیا ہے کہ حکمت سے مراد کلام اللہ اور حدیثِ رسول ؐ ہے ۲؎۔بقول سید نذیر نیازی کتاب اللہ علم و حکمت کی اساس ہے۳؎۔گویا حکمت کا لفظ علم کے معنی اور مفہوم میں ہی وادر ہوا ہے‘قرآن و سنت کا علم ہی حکمت ہے۔کچھ مفسرین نے اسے براہین اور دلائل پر بھی منطبق کیا ہے۔موالانا عبدالحفیظ بلیاوی ندوی حفظہ اللہ نے ’’مصباح اللغات‘‘ میں حکمت کے معنی انصاف ‘ علم ‘ بردباری ‘فلسفہ ‘حق کے موافق گفتگو وغیرہ کے بتائے ہیں۔مختصر یہ کہ حکمت ہر اعتبار سے حصولِ علم ہی کی طرف لوٹتی ہے۔گویا دعوت وتبلیغ سے پہلے ایک داعی کا علم وحکمت سے آراستہ ہونا نہایت ضروری ہے۔
 سورہ نبی اسرائیل کی آیت ’’وَلَاتَقْفُ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْم‘‘ سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ داعی اُ س بات میں خاموشی اختیار کرے جس بات پر اُس کی دسترس نہ ہو ۔اور یہ نتِ نبویہؐ ہے ‘رسول اللہ ؐ سے بہت سے معاملات میں خاموشی ثابت ہے۔ایک داعی اپنی عزت نفس بچانے کے لئے ایسے سوالات کا جواب نہ دے جن کا اُس کو علم نہ ہو۔اس کے برعکس معاملہ فقہ میں ’’جھلِ مرکب‘‘ کہلاتا ہے یعنی سوال کا غیرصحیح جواب دینا ۔یہ عام طور پر تب ہوتا ہے جب انسان احساسِ کمتری کا شکار ہو اورحق بولنے میں اُس کی اپنی عزتِ نفس رکاوٹ بنے ۔یہاں اضافی طور پریہ بات بتادوں کہ ’’جھل‘‘ کی دو قسمیں ہیں ایک ’’جھل مرکب‘‘اور دوسرے ’’جھل بسیط‘‘  ۔جھل مرکب کی تعریف پیچھے گزر چکی ہے یعنی سوال کا غیر صحیح جواب دینا‘اور ’’جھل بسیط‘‘ یہ ہے کہ معلوم نہ ہونے پر انسان اپنی لاعلمی کا برملا اظہار کرے اور یہ ایک داعئی حق کی پہچان ہے کہ وہ ہر اُس مسلے میں خاموشی اختیار کرے گا یااپنی لاعلمی کا عذر پیش کرے گا جو مسلہ اُس کے علم میں نہ ہویا وہ پہلے اُس مسلے کا علم حاصل کرے گا اُ سکے بعد ہی جواب دے گا۔ امام شافعیؒ کے متعلق مشہور ہے کہ انہوں نے اجماع کے بارے میں حکم دریافت کرنے کے لئے تین سوایک مرتبہ قرآن مجید کا مطالعہ کیا اور اُس بعد سورہ نساء کی اس آیت سے اجماع پر دلیل پکڑی{ومن یُّشاقِقِ الرّسول من م بعد ما تبیّن لہ الھدیٰ ویتّبع غیر سبیل المومنین نولہ ما تولّٰی و نصلہٖ جھنّم وساء ت مصیرًا} یعنی جو شخص باوجود راہِ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بھی رسول کی مخالفت کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑکر چلے ‘تو ہم اُسے ادھر متوجہ کریں گے جدھر وہ خود متوجہ ہواور دوزخ میں ڈال دیں گے وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے[سورہ النساء؍115 ۔ترجمہ جوناگڑھہؒ]۔یہاں سے آپ اخذ کریں کہ ایک مسلمان خاص کر ایک داعی کو کس قدر حساسرہنا چاہیے۔کسی بھی مسلے حکم صادر کرنے سے پہلے مکمل تحقیق اور علمی استداد حاصل کرنی چاہییا اور ہر اُس مسلے میں سکوت اختیار کرنا چاہیے جس مسلے کا علم نہ بلکہ ایسے معاملات میں ’’لاادری‘‘ (میں نہیں جانتا) کہنا 
ہدایت کا غماز ہے۔بقول مشہور تابعی عامر بن شراحیلؒ ’’لاادری نصف العلم‘‘یعنی میں نہیں جانتا کہنا نصف علم ہے۔
حواشی۔۱؎دعوت القرآن (جلد سوم؍389)، ۲؎تفسیر ابن کثیرؒ سورہ نحل آیت نمبر 125 کی تفسیر میں،۳؎تشکیل جدیدالٰہیات اسلامیہ ؍مقدمہ
(سیر جاگیر سوپور‘ کشمیر8825090545   )
�������
 

تازہ ترین