تازہ ترین

برطانیہ اور متحدہ امارات کے باہمی تعلقات میں نئی جہت

ندائے حق

تاریخ    20 ستمبر 2021 (00 : 12 AM)   


اسد مرزا
حالیہ عرصے میں برطانیہ اور امریکہ کے باہمی تعلقات جو کسی وقت خصوصی تعلقات کی فہرست میں آتے تھے۔ اُن پر افغانستان میں رونما ہونے والے واقعات نے اپنا منفی اثر دکھانا شروع کردیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بغیر برطانیہ سے مشورہ کے ہوئے افغانستان سے امریکی فوجوں کا وقت سے پہلے انخلا رہی ہے، برطانیہ کی شکایت ہے کہ صدر بائیڈن نے اس سلسلے میں برطانوی سیاست دانوں، فوجی کمانڈروں اور اور انٹلی جینس ماہرین سے کوئی بھی بات نہیں کی اور نہ ہی ان کا مشورہ مانگا۔
تاہم امریکہ- برطانیہ کے تعلقات میں وقتی طور پر آنے والی کشیدگی کا اثر ایک دوسرے ملک کے ساتھ برطانیہ کے سفارتی اور تجارتی تعلقات پر ہوا ہے۔ گو کہ یہ اثر مثبت قرار دیا جارہا ہے۔ یہاں ہم بات کررہے ہیں برطانیہ اور متحدہ عرب امارات یعنی یو اے ای کی۔ اب سے چند روز قبل ہی ابو ظہبی میں برطانیہ کے سفیر نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان سے برطانوی شہریوں کو نکالنے کے ضمن میں UAEنے قابلِ تعریف مدد مہیا کرائی اور اس کے لیے برطانیہ UAEکا شکر گزار ہے۔
برطانیہ اور UAEکے باہمی تعلقات سن1800سے پہلے کے ہیں جب UAEکا نام و نشان بھی نہیں تھا اور تقریباً ایک سو پچاس سال بعد UAEکے قیام میں بھی برطانیہ نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ آج انجینئرنگ، معاشی اور تجارت ہر شعبے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید پختہ ہوتے چلے جارہے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق اس وقت تقریباً دو لاکھ سے زائد برطانوی شہری UAEمیں مستقل رہائش پذیر ہیں اور ہر سال دس لاکھ سے زائد برطانوی شہری تجارت یا سیاحت کے لیے UAE کا رخ کرتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں UAE برطانیہ کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور برطانیہ UAEکا خام تیل کے علاوہ دیگر اشیا میں اس کا تیسرا سب سے بڑا پارٹنر ہے۔ برطانیہ، UAEمیں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں سرِ فہرست ہے اور UAE کے تاجروں نے بڑے پیمانے پر برطانیہ میں سرمایہ کاری کی ہے۔
باہمی تجارتی تعلقات کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعلقات بھی ایک اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں، جیسے کہ 80 سال قبل برطانوی حکمت عملی اور مدد سے UAE کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس کے علاوہ حالیہ عرصے میں UAE کی فوج نے جس کی شروعات برطانوی قیادت میں Trucial Oman Scouts  کی شکل میں ہوئی تھی۔ اس نے 1990-91 کی گلف وار کے دوران امریکی اتحادی فوجوں کا ساتھ دیا تھا اور ساتھ ہی کوسوو میں NATO کی افواج میں شرکت کی تھی۔ اس کے علاوہ UAE وہ واحد عرب ملک ہے جس نے گزشتہ بیس سال کی افغان جنگ میں اپنے فوجی اتحادی فوجوں کے ساتھ افغانستان بھیجے تھے۔ اور حالیہ عرصے میں UAE کی فضائیہ نے امریکی انخلا کے دوران بھی اتحادی افواج کے ساتھ مل کر کام کیا۔ اور اس کے علاوہ UAEنے ہزاروں افغان پناہ گزینوں کو اپنے یہاں قیام دیا ہے۔
افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے سے سب سے زیادہ جس ملک کو دقت ہے وہ ہے برطانیہ، کیونکہ برطانیہ کے دفاعی اور انٹلی جینس ماہرین کے مطابق ابھی تک افغانستان سے القاعدہ کا مکمل سفایا نہیں ہوسکا ہے اور ان کے کچھعناصر کی افغانستان میں موجودگی عالمی امن کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی MI5 کے ڈائریکٹر جنرل کین مِک کلم کے بقول آنے والے مہینوں اور سالوں میں برطانیہ کو ان عناصر سے بہت بڑا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
برطانوی دفاعی اور انٹلی جینس ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک میں اس خطرے کو روکنے میں UAE سے زیادہ کوئی دوسرا ملک کامیاب اور مددگار ثابت نہیں ہوسکتا ہے۔ اور ان کے مطابق ابو ظہبی کے ولی عہد محمد بن ناحیان ان خطروں سے نبردآزما ہونے کے لیے برطانیہ کے سب سے بڑے حلیف ثابت ہوسکتے ہیں۔ انھوںنے ماضی میں علاقائی حکمت عملی کے بطور مصر میں اخوان کے عروج پر قدغن لگانے میں ایک بڑا کردار ادا کیا اس کے علاوہ ان کی فوج صومالیہ میں الشباب کے خلاف لڑائی میں بھی شریک ہوئی۔ اور ساتھ ہی سیریا میں داعش کے خلاف اور یمن میں القاعدہ اور داعش کے عناصر کے خلاف محاذ آرائی میں بھی اس نے کلیدی کردار ادا کیا۔
برطانیہ اور UAE کے درمیان خفیہ یا انٹلی جینس کا باہمی اشتراک بھی کافی اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیاں شدت پسندوں کے مالی نیٹ ورک کمزور کرنے اور شدت پسند پروپیگنڈے کو خاص طور پر انٹرنیٹ پر اس کی روک تھام کرنے میںایک دوسرے سے بڑے پیمانے پر اشتراک کرتی ہیں۔ امارات شدت پسندی کا خاتمہ کرنے اور اس کے خلاف شروع کیے گئے De-Radicalisation پروگراموں میں مغربی ممالک کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک اور ہندوستان سمیت اور بہت سے ملکوں کے ساتھ اس شعبے میں اشتراک اور مفاہمت کرتا ہے۔
مجموعی طور پر امارات کے ان سب خفیہ، تجارتی اور سرمایہ کاری سرگرمیوں میں مغربی ممالک کا ساتھ دینے کی ایک دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ان کے ذریعہ اپنے حریف قطر کے خلاف محاذ آرائی میں کامیاب ہوسکتا ہے اور خلیج میں اپنے آپ کو صفِ اول کے ملک کے طور پر تسلیم کروا سکتا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ مغربی ممالک میں قطر کی معاشی حیثیت کو بھی کمزور کرسکتا ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق فی الحال مغربی مملکوں میں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں قطر سرِ فہرست ہے۔
اس کے علاوہ افغانستان سے جس طریقے سے امریکہ نے اپنی افواج کا انخلا مکمل کیا، اس نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک خلا قائم کردیا ہے، خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر اور نیوکلیئر بم کے کسی ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر زیادہ تر عرب ممالک اب امریکہ کو ایک قابلِ اعتبار حلیف ماننے کے سلسلے میں تذبذب کا شکار ہیں اور اس پس منظر میں ایسا ہونا بھی ممکن ہے کہ وہ روس یا چین کے ساتھ اپنے روابط بہتر کرنے کی کوشش کریں۔ اس کا ایک دوسرا متبادل یہ ہے کہ وہ خطے کے سب سے بڑی فوجی طاقت یعنی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کریں، جو کہ زیادہ تر عرب ممالک کے لیے آسان نہیں ہوگا۔
عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کا سلسلہ ابراہم معاہدہ کے بعد زیادہ تقویت حاصل کررہا تھا اور اس ضمن میں بھی UAEنے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ شاید اسی وجہ سے برطانوی وزیر لارڈ ٹرمبل نے، جو کہ خود بھی نوبل انعام یافتہ ہیں، انھوںنے اس سال کے لیے نوبل امن انعام کے لیے ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید بن سلطان الناحیان کا نام پیش کیا ہے۔
مجموعی طور پر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ موجودہ حالات میں جب زیادہ تر عرب ممالک کا امریکی صدر جو بائیڈن پر سے اعتماد ختم ہونا شروع ہوگیا ہے تو برطانیہ ایک مرتبہ پھر خلیج اور عرب ممالک میں اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کرنے کی کوشش کرے گا اور اس کوشش کے لیے اسے متحدہ عرب امارات سے زیادہ بہتر کوئی دوسرا ملک نظر نہیں آتا جو کہ بطور اس کے خلیجی ممالک اور خطے میں  مغربی اثاثوں اور قدروں کی ترویج میں اس کا ساتھ دے سکے۔ حال کے عرصے میں UAE نے ایسے بہت سارے فیصلے لیے ہیں جن کا مطالبہ مغربی ممالک کافی عرصے سے کرتے چلے آرہے تھے۔ اس کے علاوہ برطانیہ کو یقین ہے کہ جس طریقے سے گزشتہ 80سالوں میں UAE نے اس کے مفادات کی نگرانی اور حمایت کی ہے، اسی طریقے سے UAEمستقبل میں بھی برطانیہ کے ساتھ اس کے مختلف منصوبوں کو پورا کرنے میں اس کی مدد کرسکتا ہے اور اس طرح خطے میںبرطانیہ کے اثر ورسوخ میں قابلِ قدر اضافہ رونما ہونے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔)
 
www.asad-mirza.blogspot.com
������