تازہ ترین

زور کا جھٹکا

افسانہ

تاریخ    19 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


محمد یوسف شاہین
زلیل، کتا، کمینہ پتہ نہیں کس سور کی اولاد ہے۔ روحی اپنے آپ سے ہی بڑبڑا رہی تھی۔ غصے سے اسکے خوبصورت چہرے کا‌رنگ سرخ ہو رہا تھا۔ وہ اپنی نئی نویلی سہیلی رومانہ کی کار کی ساتھ والی سیٹ پر ایک شہزادی کی طرح براجمان‌تھی۔ وہ خوبصورت تھی، نہیں! خوبصورت تر‌بھی نہیں تھی بلکہ وہ خوبصورت ترین تھی۔‌ 
روحی اور رومانہ کی دوستی حال ہی میں ایک رشتے دار کی شادی کی تقریب میں ہوئی تھی اور رومانہ نے ہی روحی کی خوبصورتی سے کافی  متاثر ہوکر اسکی طرف دوستی کا‌ہاتھ بڑھایا تھا۔‌ہاے  میں رومانہ ہوں اور اسی شہر میں رہتی ہوں۔اس نے اپنا تعارف کرتے ہوے روحی سے کہا۔ 
اوہ گلیڈ ٹومیٹ یو۔ میں روحی ہوں اور میں بھی  ڈاؤن ٹاؤن میں رہتی ہوں، روحی نے جواباً اپنے بارے میں کہا۔ میں پی جی کر رہی ہوں۔ روحی نے جواب دیا۔ اوہ یعنی آپ مجھ سے ایک قدم‌ آگے ہیں، رومانہ نے خوش ہوکر کہا۔ میں نے اسی سال گریجویشن مکمل کی ہے اور کشمیر سے باہر ایک یونیورسٹی میں پی۔جی کیلئے فارم بھر لیا ہے۔ کم آن‌ لیٹ اس بی فرینڈس (Come on let us be friends)رومانہ نے پھر ایک بار روحی کیطرف ہاتھ بڑھایا۔
یس وے ناٹ، ماے پلیجر (Yes why Not, my pleasure)روحی نے زور سے رومانہ کا ہاتھ دباتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا اور اسطرح یہ دونوں پکی سہیلیاں بن گئیں۔ دونوں کا ہر روز فون پر کافی دیر تک باتیں کرنا اب انکا‌معمول بن‌چکا تھا۔‌دونوں سیر سپاٹے کی دلدادہ تھیں۔ مگر جہاں روحی مغربی فیشن کی دلدادہ تھی وہیں رومانہ سیدھی سادھی طبیعت کی مالک تھی۔
آج صبح ہی روحی نے رومانہ کو فون کیا اور کہیں دور گھومنے کی خواہش ظاہر کی جسے رومانہ نے بڑی خوشی سے قبول کیا اور تھوڈی ہی دیر میں رومانہ اپنی گاڈی لیکر آگئی۔‌
تھوڈی ہی دیر کے انتظار کے بعد روحی مقررہ جگہ پر آگئی اور رومانہ کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ 
اُف کیا قیامت لگ رہی ہو یار، رومانہ نے روحی کے بے پناہ حسن سے متاثر ہوکر کہا۔‌ اوہ یار تم بھی نا بس۔۔ نہیں نہیں تم واقعی آسمان‌سے اُتری ہوئی ایک پری لگتی ہو یار، کہیں کسی کی نظر نہ لگے، رومانہ نے کہا۔
تھوڑی ہی دیر میں رومانہ نے ایک پیٹرول پمپ سٹیشن پر اپنی گاڑی کی ٹینکی فل کروائی۔ اور اب اسکی کار ایک سڑک پر فراٹے بھرتی ہوئی جا رہی تھی۔‌ان دونوں نے پہلے ہارون جانے کا فیصلہ کرلیا تھا اسکے بعد‌ وہیں کسی اچھے سے ریستوران میں دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد دآچھی کام جانے کا من بھی بنا لیا تھا۔
رومانہ ایک امیر باپ کی اکلوتی بیٹی ہونے کے سبب بہت نازو نعم سے پلی تھی، اس لئے اپنے ماں باپ کی بے حد لاڑلی تھی۔‌ اسکے والد صاحب شہر کے ایک ممتاز بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ دینی کاموں میں بھی ہر وقت پیش پیش رہنے میں مشہور تھے۔ کالونی میں اسے لوگ بہت عزت و احترام‌سے دیکھتے تھے۔
رومانہ خود بھی بہت خوبصورت تھی مگر روحی تو کسی قیامت سے کم‌نہ تھی۔ روحی کو اپنے بےپناہ خوبصورت ہونے پر بہت ہی ناز تھا اور کیوں نہ ہو تا، وہ ہر لحاظ سے ایک پری جیسی لگتی تھی۔ 
بلواڑ روڑ پر چلتے ہوئے رومانہ نے اپنی گاڑی کا ٹیپ آن کیا اور ایک کشمیری گانا سننے میں مست ہوگئی۔ اسے کشمیری زبان، تمدن اور کشمیری گانوں سے کافی محبت تھی۔ یوں کہیں کہ وہ کشمیری گانوں کی زبردست دلدادہ تھی اور اسکے ساتھ ساتھ اُسے کتابوں سے بھی مانو عشق تھا۔
کیا یار رومانہ تم‌بھی نا ۔‌۔۔یار کوئی ویسٹرن میوزک والا گانا لگاؤ نا، مجھے بہت مزہ آتا ہے۔ روحی نے اسطرح کہا کہ جیسے وہ کسی مغربی ملک کی رہنے والی دوشیزہ ہو۔
یار مجھے کشمیری گانے بہت ہی پسند ہیں اور ہمیں اپنی مادری زبان اور اپنے تمدن کو زیادہ ترجیح دینی چاہیے۔ رومانہ نے گاڑی کا گیئر بدلتے ہوئے کہا۔
اُف! کیا کشمیری کشمیری کی رٹ لگا رکھی ہے۔ مجھے  نہ تو کشمیری زبان اور نہ ہی یہاں کا تمدن پسند ہے۔ بس اوکے ڈیر جب آپکو یہ پسند نہیں ہے تو لو میں نے ٹیپ بند کرلیا۔ بس خوش میری جان۔
دونوں کھل کھلا کر ہنس پڑیں۔
تھوڑی ہی دور جاکر روحی کی نظر اپنے سائیڈ شیشے پر پڑی تو معمولی کپڑوں میں ملبوس ایک سانولا سا لڑکا اپنے سکوٹر پر انکی گاڑی کا پیچھا کر رہا تھا اور وہ ایک ہاتھ سے کچھ اشارے بھی کر رہا تھا۔ 
کتا، کمینہ، زلیل، سور کا‌بچہ۔ غصے سے روحی کے چہرے کا رنگ سرخ ہو چکا تھا ۔
کیا ہوا روحی، اتنا غصہ کیوں، رومانہ نے اسکی طرف دیکھ کر کہا۔ 
ارے یار تم اپنے سائیڈ شیشے میں دیکھو نا، وہ بد تمیز ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔ روحی نے غصے میں کہا۔ ارے ہاں یار، لگتا ہے وہ ہم سے کچھ کہنا چاہتا ہے۔ رومانہ نے ایک بار پھرگاڑی کا گیئر بدلتے ہوئے کہا۔ 
ایڈیٹ(Edit)، دیکھو دیکھو ابھی بھی ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔ 
لڑکا اپنے سکوٹر پر برابر انکے پیچھے چل رہا تھا‌اور شاید اُنہیں رک جانے کا اشارہ کر رہا تھا۔۔اسکی یہ حرکتیں دیکھ کر روحی کے غصے کا‌پارہ آسمان کو چھو رہا تھا‌اور وہ اب برابر اس لڑکے کو اندر اندر ہی اندر صلواتیں سنانے لگی۔
کیا ہوا یار آپکو، آپ ایک پی۔ جی کی طالبہ ہو اپنی زبان پر قابو رکھنا سیکھ لو۔ رومانہ نے روحی کو پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا۔
ارے یار تم‌آجکل کے لڑکوں کے تیور اور طور طریقوں سے بالکل ناواقف ہو، جہاں کوئی خوبصورت لڑکی دیکھی بس لائن لگانا شروع کرتے ہیں۔ روحی نے غصے میں آکر کہا۔
اُف، روحی میری جان، تم یہ کیوں بھول رہی ہو کہ آجکل کی لڑکیاں بھی اس معاملے میں لڑکوں سے کم‌نہیں ہیں۔ لو وہ دیکھو ڈل جھیل میں اس کشتی میں وہ لڑکی کتنی  بیباکی سے۔۔۔ اُف توبہ۔ 
تم ذرا گاڑی کو  اس سوکھے چنار کے قریب روک لو، میں اس بدتمیز کو اسکی اوقات یاد دلائونگی۔روحی نے رومانہ سے کہا‌ اور رومانہ نے پاس ہی ایک سوکھے چنار کے پاس کار روک لی۔اتنی ہی دیر میں وہ لڑکا اپنا سکوٹر اسی جگہ روک کر نیچے اترا اور روحی کی طرف بڑھا۔ شدت کی گرمی کی وجہ سے اسکے ماتھے پر پسینے کی ہلکی ہلکی بوندیں نظر آرہی تھیں۔ وہ روحی کے بہت قریب آگیا جو گاڑی کی سیٹ پر بالکل کسی مہارانی کی طرح بیٹھی ہوئی تھی۔ 
سنئے، لڑکے نے روحی سے مخاطب ہوکر کہا۔
وہٹ(What)، بدتمیز تم ہوتے ہو کون ہو میرے ساتھ بات کرنے والے اور ہمارا پیچھا کیوں کر رہے تھے۔ تیرے گھر میں کوئی ماں بہن نہیں ہے کیا۔ تمہاری ہمت کیسے ہویی، ایڈیٹ۔
پہلے اپنے گندے ماتھے سے پسینہ پونچھ لو۔‌ روحی نے حقارت سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
لڑکا اپنی رومال ڈھونڈنے لگا‌مگر نہیں ملی، شاید کہیں گر گئی تھی۔وہ کچھ سٹپٹا سا گیا۔
روحی اور رومانہ دونوں نے اسکی بے بسی پر ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ لو اپنا پسینہ پونچھ لو۔ روحی نے ایک ٹشو پیپر اسکی طرف بڑھا دیا۔ لڑکے نے شرمندگی سے اپنا‌ پسینہ پونچھ لیا۔ معاف کیجیے گا میں در اصل یہ خط آپکو۔۔۔اتنا ہی کہنا تھا کہ روحی آگ بگولہ ہوگیی ۔ وہٹ، تمہاری اتنی جرات کہ تم‌مجھے لو (Love Letter)۔۔۔۔
ارے نہیں نہیں وہ بات نہیں ہے، لڑکے نے روحی کی بات کاٹتے ہوئے کہا، آپ میری پوری بات تو سن لیجیے۔‌ بات در اصل یہ ہے کہ ۔۔ شٹ اپ(Shut up)، تم‌شاید نہیں جانتی ہو کہ میں کس باپ کی بیٹی ہوں۔ میں اگر چاہوں تو کھڑے کھڑے صرف ایک فون سے تمہیں لڑکی کے ساتھ چھیڑ خانی کے الزام میں گرفتار کروا سکتی ہوں۔ سمجھے ایڈیٹ۔
دیکھیے آپکو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔ آپ‌مجھے اپنی بات کہنے کا‌موقعہ تو دیجیے۔لڑکے نے بڑی حلیمی سے کہا۔
اتنی دیر میں رومانہ گاڑی سے اتری اور لڑکے سے مخاطب ہوکر بولی، کہیے کیا بات ہے۔
روحی کو رومانہ کا یہ انداز بالکل ہی پسند نہیں آیا۔ اُف ہو یار تم ۔۔۔
پلیز یار تم‌ ایک منٹ کیلئے چپ کرو۔ رومانہ نے روحی کو ٹوکتے ہوئے کہا۔
بتایئے کیا بات ہے۔ رومانہ نے بڑی نرمی سے لڑکے سے کہا۔
دیکھیے پٹرول پمپ پر انکی جیب سے ایک لفافہ گرگیا۔ لفافہ کُھلا تھا اسلئے میں نے اس میں  انکی میٹرک پاس ہونے کی مارکس شیٹ اور یہ انٹرویو لیٹر‌دیکھی۔‌میں نے جب یہ پڑھا کہ کل انکو کلاس فورتھ پوسٹ کے لئے انٹر ویو دینا ہے تو مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں وہی خط اور یہ  مارکس شیٹ انکو واپس کرنے کے لئے آپکو گاڑی روکنے کے لئے کہہ رہا تھا۔ اتفاق سے انہوں نے اسی سال‌میٹرک پاس کیا  ہے۔ دوسری مارکس شیٹ آسانی سے نہیں مل سکتی تھی اور انٹرویو کال لیٹر نہ ہونے کی صورت میں انکو انٹرویو میں شامل بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اسلیے۔۔
اوہ تو یہ بات ہے آپکا بہت بہت شکریہ اور انکی آپکے ساتھ بدتمیزی کرنے کیلئے آپ سے معافی مانگتی ہوں۔ رومانہ نے لڑکے کو ندامت سے کہا اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی وہ لڑکا  سکوٹر پر سوار ہوکر جا چکا تھا۔ رومانہ نے اپنی گاڑی کی کھڑکی کھولی تو وہ روحی کو اپنی سیٹ پر نہ پاکر اُسے ڈھونڈنے لگی لیکن روحی دوسری سمت سے آنیوالی بس میں سوار ہوکر جا چکی تھی۔
���
152آزاد بستی غوثیہ سکیٹر نٹی پورہ، سرینگر
موبائل نمبر؛9149684453