تازہ ترین

بہروپئے

افسانہ

تاریخ    19 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


ایف آزاد دلنوی
 بازار میں بڑی گہما گہمی تھی اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ساتھ بھیڑ بھی بڑھتی ہی جارہی تھی اس بھیڑ میں وہ جگہ کی تلاش میں ادھر ادھر پھر رہے تھے مگر کہیںپائوں ٹکا نہ پا رہے تھے وہ جہاں کہیں ٹھہرنے کی سعی کرتے تو لوگوں سے طرح طرح کی نازیبا باتیں سننی پڑتیں۔
’’دور دفع ہوجائو۔ہٹ جائو  یہاں سے  ۔پاگل کہیں کے ‘‘
اس بھیڑ میں سب گاہکوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتے کیونکہ کئی دنوں کے سخت لاک ڈائون کے بعددکانیں کھولنے کی اجازت ملی تھی۔ سبھوں کی مالی حا لت ناموافق حالات کی وجہ سے خراب ہو چکی تھی لوگ حواس باختہ پھر رہے تھے۔ جس سے بات کرو آگ اُگل رہاتھاکہیں لات مکے پڑتے تو کہیںگالی گلوچ سنتے۔صمد خان ؔ دس بارہ برس کی معصوم بچی کوویل چیئر پر بٹھائے ایک بڑی بلڈنگ کے سامنے جگہ بنانے میں کامیاب ہوا۔بچی کی ٹانگوں پر پٹیاں لگی ہوئیں تھیں، ایک ہاتھ بھی بندھا ہوا تھادوسرے ہاتھ میں کشکول لئے بھیک مانگ رہی تھی۔
’’اللہ کے نام پر دیدو۔۔۔۔پچاس روپیہ دیدو۔۔۔۔سو روپیہ دیدو۔لالہ میں اپاہج ہوں۔ دیدو۔۔۔ اللہ کے نام پر دیدو۔‘‘
یہ بچی ہر ایک آدمی کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ اس کی ننھی سی صورت دیکھ کرہر ایک آدمی کا دل پسیجتااور کوئی کوئی پچاس تو کوئی سو روپیہ کشکول میں ڈ ال کر آہ بھرتے ہوئے نکل جاتاجب کشکول بھر جاتا تو صمد خان روپے اٹھا کرجیب میں رکھ لیتااورکشکول خالی ہوتے ہی بچی پھرزور زور سے چلانے لگتی۔وہ جب تھکتی تو صمد خان بھیک مانگتا۔
’’بھائی صاحب میری بچی اپاہج ہے اللہ کے نام پر دیدو۔‘‘
اور شام تک انھوں نے اچھی خاصی رقم جمع کر لی تھی۔ جانے سے پہلے صمد خان نے اس جگہ پر کچھ ڈنڈ ے زمین میںگاڑھ کر رکھ دیئے۔ ڈنڈوں پر موم جامے کاایک ترپال بھی ڈال دیا تاکہ کوئی اس جگہ پر آکر نہ بیٹھے۔یہ سلسلہ چلتا رہا۔پھر ایک دن صمد خان زور زور سے بھیک مانگ رہا تھاکہ عمارت کے صدر دروازے سے ایک کار نکلی ۔کار کو دیکھتے ہی وہ اس جانب لپکااور کار میں بیٹھے شخص سے بولا۔
’’سیٹھ صاحب اللہ کے نام پر کچھ دیدو ۔میری بچی اپا ہج ہے اس کا علاج کروانا ہے ۔‘‘
کار میں بیٹھے سیٹھ نے اس کو گھورتے ہوئے دیکھاتووہ ہچکچاتے ہوئے بولا۔
’’میں ۔۔سچ ۔۔۔۔کہہ رہا ہوں۔وہ۔۔۔۔۔۔۔وہاں میری بچی ویل چیئر پربیٹھی ہے۔‘‘
سیٹھ اس کی گھبراہٹ دیکھ کر شک میں پڑ گیااور من ہی من میں سوچنے لگا۔
’’ہو نہ ہو دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔‘‘
بہر حال اس نے کچھ روپے تھما کر اپنی راہ لی اورصمد خان پھر سے اپنے کام میں جٹ گیا۔کئی ہفتے گزرنے کے بعدصمد خان ایک موقعے پر اپنی فیملی کے ہمراہ شاپنگ کے لئے چل دیا۔وہ ایک بڑی دکان کے اندر داخل ہوئے اور ضرورت کی چیزیں پسند کرکے صمد خان نے سیلز مین سے کہا۔
’’ان تمام چیزوں کو پیک کرکے اس ایڈرس پر بھیج دینا۔‘‘
’’ٹھیک ہے صاحب۔آپ کونٹر پر جاکر بل بھر دیجئے ۔‘‘
صمد خان نے کونٹر پر جاکر بل بھر دیاتو اتنے میں اس کی بچی آکر بولی۔
’’ابا۔۔۔۔۔۔۔چلو نا ۔‘‘
اوپر بیٹھے شخص نے صمد خان کو غور سے دیکھاتو وہ اسے پہچان گیا۔ من ہی من میں سوچتا رہا۔
’’یہ تو وہی بہروپیا ہے جو اپنی بلڈنگ کے سامنے بیٹھ کر بھیک مانگ رہا تھااس کی بچی تو ٹھیک ٹھاک چل پھر رہی ہے۔‘‘
صمد خان بچی کو لے کر تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے باہر نکل آیاکیونکہ وہ بھی اسے پہچان گیا تھا۔اگلے دن صمد خان کو بلڈنگ کے سامنے نہ دیکھ کر سیٹھ اچنبھے میں پڑ گیا۔اس نے دکان پر آتے ہی سیلز مین کوبلا کر کہا۔
’’وہ کل جو آدمی ہوم ڈیلوری  کے لئے کہہ رہا تھا اس کے گھر سامان بھیج دیا ۔‘‘
’’جی سب سامان بھیج دیا۔‘‘
’’اس کا ایڈرس ذرا دینا۔‘‘
سیٹھ خود کار ڈرائیو کر کے اس ایڈرس پرچلا گیا۔وہاں پہنچ کر دیکھا تو صمد خان اپنی بچی سے کھیل رہا تھاسیٹھ نے بلا کر کہا۔
’’ارے بھئی تم کو آج بلڈنگ کے سامنے نہ دیکھ کرپریشان ہوگیا۔خیریت تو ہے۔‘‘
صمد خان سیٹھ کو دیکھ کر گنگ سا ہوگیا۔وہ کچھ بول نہیں پا رہا تھا اوراندر ہی اندر شرمندہ ہورہا تھا۔جاتے ہوئے سیٹھ نے کہا ۔
’’کل ضرور آنا ۔بھیڑ بڑھنے لگی ہے کوئی او ر آکرا س جگہ پر قبضہ کرے گا ۔پھر مشکل ہوگی۔‘‘
یہ سن کر صمد خان حیران ہوگیا۔ وہ دوسرے ہی دن بچی کو لے کر چل دیا۔ بلڈنگ کے سامنے پہنچتے ہی اس نے سیٹھ کو دیکھا۔ سیٹھ بولا۔
’’لو بھئی۔میں نے اس جگہ کو سنبھال کر رکھاہے۔‘‘
یہ کہہ کر سیٹھ چلا گیا۔ صمد خان کچھ سمجھ نہ پا رہا تھا۔ بہرحال وہ اپنے کام میں جٹ گیا۔
’’دیدو۔۔۔۔۔۔اللہ کے نام پر دیدو۔ پچاس روپیہ دیدو۔۔۔ سو روپیہ دیدو ۔‘‘
اس بازار میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ آتے جاتے رہتے تھے جو اس معصوم سی بچی کی طرف مائل ہوکر کشکول میں کچھ نہ کچھ ڈال ہی دیتے تھے اور تأسف کرتے ہوئے چلے جاتے ۔وہ بھیک تو دیتے تھے مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ بھولے پن کا ڈھونگ رچا کر بہروپئے انھیں اپنی شاطر چالوں سے ٹھگ رہے ہیں۔صمد خان شد ومد سے اپنا کام کر رہا تھاکہ ہفتے کے دن ٹھیک بارہ بجے سیٹھ آکر صمدخان سے بولا۔
’’یہ کیا ڈھونگ رچا کر بیٹھے ہو۔شرم نہیں آتی ۔‘‘
اور وہ ویل چیئر پر بیٹھی بچی کی ٹانگ پر لگی پٹی جوں ہی کھولنے لگاتو صمد خان بوکھلا کربولا۔
’’سیٹھ یہ آپ کیا کررہے ہو۔اس طرح مجھے ذلیل مت کرو۔ پولیس پکڑے گی تو میری عزت مٹی میں ملے گی ۔میں اپنے علاقے میں عزت دار آدمی ہوں۔میں دوبارہ ایسی حرکت نہیں کروںگا۔‘‘
’’میں تھوڑی کہہ رہا ہوں کہ تم ایسی حرکت مت کرو۔تم ایسی حرکت بار بار کرو۔‘‘
بچی کی ٹانگ پر پٹی واپس باندھتے  ہوئے بولا۔
’’آج ہفتے کا دن ہے۔‘‘
اور سیٹھ ہاتھ کھجلانے لگا۔
صمدخان نے ہفتے کا حساب لگا کر جوںاس کا حصہ ا س کو تھمادیاتو بچی نے آواز دی۔
’’اللہ کے نام پر دیدو۔‘‘اور سیٹھ مسکراتے ہوئے چلا گیا۔
٭٭٭
دلنہ بارہمولہ
موبائل نمبر؛6005196878