تازہ ترین

مہورہ پاور ہائوس زنگ آلودہ صورتِ حال

حقائق

تاریخ    18 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


فیاض بخاری
وادی کشمیر میں بجلی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے والا جنوبی ایشیا کا ایک قدیم پن بجلی پاورپروجیکٹ جو’ مہورہ پاورہاوس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ایک زمانے میں وادی کشمیر کیلئے بجلی کا واحد ذریعہ تھا لیکن یہ پاور ہاوس نظامت اور سیاست کی مارجھیلتے ہوئے پچھلے بیس سال سے ناکارہ پڑا ہے اور اس میں نصب کی گئی مشینری زنگ آلودہ پڑی ہوئی ہے اور یہ پاور ہاوس بہ زبان حال اپنی حالت زار بیاں کررہاہے ۔ اُونچے  اورسرسبز پہاڑوں کے دامن میں واقع اس پاور ہاوس کی سنگ بنیاد 11 مئی  1886   میں مہاراجہ رنبیر سنگھ اور جرمنی کے معروف انجئینر میجر ڈلین دی لیٹ بننیری نے ضلع بارہمولہ کے سرحدی قصبہ اوڑی کے مہورہ گائوں میں سرینگر مظفر آباد شہراہ پر ڈالی تھی ۔ اس پاور ہاوس سے فراہم کی جانے والی بجلی نے عوامی زندگی میں ا نقلاب لایاتھا اور مٹی کے دِیوں ،تیل خاکی کی چمنیوں ،لالٹینوں اور چوب چراغ سے عام صارفین کو نجات ملی تھی ۔تواریخ دانوں کے مطابق جب میسورکے مہاراجہ نے کیویری پاور اسکیم 1902 میںتعمیر کرائی تھی، اس کے بعد اُسی طرز پرمہاراجہ رنبیر سنگھ نے مہورہ پاور ہاوس بنانے کیلئے جرمنی سے اُنہی انجیئنروں کو لایا اور اِس پاور ہاوس کی تعمیر عمل میں لائی گئی ۔پاور ہاوس کی تعمیرکے کام کو1890 میں پائے تکمیل تک پہنچایا گیا ۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے دور حکومت میں 1902ء میں یورپین انجینئز جو جرمنی اور ہنگری سے تعلق رکھتے تھے، نے  اس پاور ہاوس کی تعمیر کا کام باضابطہ طور پرشروع کیا اور 1905 میں اس پاور ہاوس نے بجلی پیدا کرناشروع کی ۔ 1908 میں اس کا افتتاح کیا گیا تھا اور ابتدائی مرحلے میں یہ پاور ہاوس 04 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا اہل تھا،جس سے نہ صرف سرحدی قصبہ اوڑی بلکہ پوری وادی کے ساتھ ساتھ مہاراجہ کے دولت خانے کو بھی بجلی فراہم ہوتی تھی۔بعد میں رفتہ رفتہ اس پاور ہاوس کی بجلی چھوٹی گھریلو صنعتوں کے علاوہ سرینگر کی مشہور سلک فیکٹری کو بھی فراہم کی گئی ۔اس پاور ہاوس کیلئے بنائی گئی پانی کی نہر جو کہ گیارہ کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے مہورہ تک بچھائی گئی تھی، کھیت کھلیانوں ،پہا ڑوں اور ندی نالوں کو پار کرتی ہوئی کئی ایک زیر زمین سرنگوں سے گزر تی ہے ۔خاص بات یہ ہے کہ اس پوری نہر کو دیودار کی لکڑی سے بنایا گیا تھا جبکہ کئی جگہوں پر سرنگوں کی تعمیر کیلئے سُرخی اور ریت کا استعمال کیا گیا تھا۔اس خوبصورت نہر کی تعمیر میں لداخ ،بلتستان ،افغانستان اور پنجاب کے ہنر مند مزدورشامل تھے اور اس نہر کی تعمیر اُس وقت کے کاری گروں کے لئے ایک بہت بڑا چلینج تھا ۔ رام پور سے مہورہ تک اس کے ذریعے  2000 کیوسک پانی پہچانا ایک بڑی چنوتی تھی ۔اس نہر کی مضبو ظ لکڑی کواتنی چابک بستی سے باندھاگیا تھا کہ اس میں سے بمشکل پانی کا قطرہ لیک ہو تاتھا اور یہ نہر آج بھی کاری گری کی ایک انمول شاہکار بنی ہوئی ہے ۔لیکن 1947 میں قبائلی حملہ آوروں نے 24 اکتوبر کی دوپہر کو اس پاور ہاوس کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا، جس سے پوری وادی کے ساتھ ساتھ مہاراجہ کا شاہی محل بھی اچانک گھپ اندھیرے میں ڈوب گیا اور مہاراجہ فوراً سمجھ گئے کہ قبائلی حملہ آوروں نے  بارہمولہ کا رُخ کیاہے۔انہوں نے فوج کے ایک کمانڈربرگیڈر ر اجندرسنگھ کو ایک تحریری حکم نامہ بھیجاکہ وہ مہورہ کی طرف  مارچ کریں لیکن تب تک قبائیلی حملہ آور بونیار پہنچ چکے تھے اور اُنہوں نے برگیڈر راجندر سنگھ کو بونیار کے مقام پر ہلاک کر دیا تھا ۔بعد میں1958 کے تباہ کن سیلاب نے بھی اس پاور ہاوس کو کافی نقصان پہنچایا اور اس کی نہر کو کئی جگہ تبا ہ کرکے رکھ دیا تھا۔چنانچہ اُس وقت کی حکومت نےبھی   62۔ 1959 میں جرمنی اور ہنگری سے منگوائے گئے انجئینروں کی مدد سے اسے دوبارہ از سر نو تعمیر کروایا اور اس پاور ہاوس کا درجہ بھی بڑھایا۔ مختلف ممالک کے نامور انجئینر وں کی صلاحیتوںسے اس پاور ہاوس کی پیداوری صلاحیت کو 04میگا وٹ سے 09میگا واٹ تک بڑھا دی گئی اور بجلی  کی ترسیل جموں تک  پہنچائی گئی ، جس کے نتیجہ میںنہ صرف یہاں کے لوگوںکو بجلی مہیا ہوئی بلکہ دیگر صنعتوں سے وابستہ لوگوں کے روزگار میں اضافہ ہو۔علاوہ ازین بجلی سے محروم دور دراز علاقہ جات کو بھی بجلی سے روشن کیا گیا ۔ 1963 میں جموں و کشمیرکے وزیر اعظم بخشی غلام محمد نے مہورہ کے اس پاور ہاوس کا دوبارہ افتتاح کیا ۔لیکن 1971 میں اس  پاور ہاوس میں تکنیکی خرابی پیدا ہونے کی وجہ سے بجلی کی پیدا وار 09 میگاواٹ سے گٹ کر صرف 2.05 میگا واٹ تک ہی رہ گئی،پھر 1992 میں اس پاور ہاوس سے بجلی کی پیداوار مکمل طور پر بند ہوئی۔پاور ہاوس کی مشینری کے خراب حصوں کو نکال کر اُنہیں ٹھیک کرنے کے غرض سے جموں بھیجا گیا اور اُس وقت کے متعلقہ آفیسران نے ملی بھگت کے تحت پاور ہاوس کا آدھا سامان بیچ کھایا۔یہ بھی بتا یا جا تا ہے کہ 1997 میں پاور ہاوس کی نہر کئی جگہوں پر ڈھ گئی جس کے نتیجہ میںیہ پاور ہاوس مکمل طور ناکارہ ہو گیا ۔اس طرح سے حکومت کی کوتاہ اندیشی اور عدم توجہی سے یہ قدیم پاور ہاوس ہمیشہ کیلئے ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ اگر چہ پچھلی سرکاروں نے کئی بار اس پاورس ہاوس کی از سرنو تعمیر و تجدید کے لئے جموں کشمیر اسٹیٹ پاور ڈولپمنٹ کارپوریشن سے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ بنانے کے لئے کہاگیا تھا لیکن متعلقہ حکام کی مسلسل غفلت شعاری کی وجہ سے یہ رپورٹ محض کاغذوں تک ہی محدود رہا ۔واضح رہے کہ 2012میںجموں کشمیر اسٹیٹ پاور ڈولپمنٹ کارپوریشن کو مہورہ پاور ہاوس کی خصوصیت اور اس کی بناوٹ کیلئے 5 ویں ہندوستان پاور ایوارڈ سے نوازہ گیا لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کارپوریشن اس پاور ہاوس کو دوبارہ چلا نے میں نہ صرف بُری طرح ناکام ہوئی ہے بلکہ دریائے جہلم کے پانی کو اوڑی فسٹ پاور پروجیکٹ کے لئے دوسری سمت موڑنے میں بھی کامیاب نہ ہوسکی اور یہ ناکامی بھی اس پاور ہاوس کو ناکارہ بنانے کی ایک وجہ بن گئی ہے ۔ایک مقامی شخص علی محمد خان جس نے اس پاور ہاوس کے لئے کام کیا ہے، نے بتا یا کہ 06ستمبر 1992 میں اُس نے مہورہ پاور ہاوس کی بجلی آخری بار دیکھی کیونکہ اوڑی پاور پروجیکٹ فسٹ کی وجہ سے مہورہ کے نزدیک دریائے جہلم میں پانی نہ ہونے کی برابر رہا،جو اس پاور ہاوس کی موت کا سبب بنا۔ علی محمد خان کامزیدید کہنا ہے کہ یہ اثاثہ سرکار کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ہی ہم سے چھن گیا ۔دلچسپی کی بات یہ ہے کہ مہورہ پاور پروجیکٹ بند ہونے کی وجہ سے ابھی تک ریاست کو بارہ ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے، اگر چہ اس قدیم اثاثے والے پاور ہاوس کو دوبارہ تعمیر کیلئے 60کروڑ روپے کا سرسری تخمینہ بھی لگا یا گیا تاہم ابھی تک سرکار اس پاور ہاوس کو دوربارہ چالو کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے ۔ذرایع کے مطابق اگر چہ 2014 میں سرکار نے اس پروجیکٹ کی ازسر نو تعمیر و تجدید کے لئے ایک اور کمیٹی بنائی، جس نے  65کروڑ روپے کا سرسری تخمینہ دیکر سرکار کو پیش کیا تھا،لیکن سارے تخمینے اور منصوبے محض کاغذوں تک ہی محدود رہےاور زمینی سطح پر اس پاور ہاوس کیلئے کوئی بھی خاطر خواہ قدم نہیں اُٹھا یا گیا ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مذکورہ پاور ہاوس کو ازسر نو تعمیر کرایا جائے ،اسے بجلی پیدا کرنے کا اہل بنایا جائےتاکہ جو لوگ ابھی تک بجلی عدم دستیابی کا شکار ہیں،اُنہیں کسی حد تک راحت فراہم ہو سکے۔
 ( مضمون نگار کشمیر عظمیٰ کے نامہ نگار برائے ضلع بارہمولہ ہیں )
موبائیل نمبر:9858900055
ای میل  :syedfayazbukhari@gmail.com