تازہ ترین

عالمی یوم اوزون

اسلام و سائنس میں ماحول کے تحفظات

تاریخ    18 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


بلال احمد پرے
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی (UNGA) نے 1994ء کی اہم نشست میں ستمبرکی 16 تاریخ کو عالمی یوم تحفظ اوزون مقرر کیا ہے ۔ عالمی معاہدہ منٹریل پروٹوکول جس میں ایسے تمام مادہ جات کے بنانے اور در آمد کرنے پر روک لگا دی گئی ہے جو اوزون کے لئے نقصاندہ ہیں۔ سنہ 1987ء میں اسی کے بچاؤ کے لئے وجود میں لایا گیا ہے ۔عالمی یوم اوزون کا مقصد زمین پر رہنے والے انسانوں کے اندر ماحول کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی پھیلانی مطلوب ہے ۔ اس روز عالمی سطح پر ماحول کے بچاؤ کے لئے مختلف قسم کے اقدامات اٹھانے کی سعی کی جاتی ہے ۔ لیکن اس کے بعد ہم ماحول کے بچاؤ کے لئے کس قدر متحرک رہتے ہیں اس سے ہم سبھی با خبر ہیں ۔
خالق کائنات کی آخری ہدایت کردہ کتاب قرآن کریم کی اگر بات کریں تو اس میں بھی لفظ ماحول صراحت کے ساتھ آیا ہے۔ یہاں لفظ ’’ ماحولہ ‘‘ (البقرہ ؛ ۱۷) کے اندر موجود ہے ۔یہ عربی لفظ 'حولہ (الانبیاء ؛ ۳۵) سے ماخوذ ہے جس کے معنی چکر لگانا یا سال کا پھر آنا ہے ۔ سائنسی اصطلاح میں بھی اس کا معنی ' کائنات یا کسی خاص جغرافیائی علاقے کی ہر وہ جاندار یا بے جان چیز جو ہمارے ارد گرد موجود ہیں، ہمارا ماحول کہلاتی ہے ' کے طور پر لیا گیا ہے ۔ اسلامی اور سائنسی مفہوم کے لحاظ سے ماحول میں وہ تمام مخلوقات شامل ہیں جو اللہ رب العالمین نے انسان کے لئے مسخر کر دی ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا اوراس پر ایک خاص ذمہ داری عائد کی ہے ۔ جس کے لئے انسان کو زمین پر موجود تمام نعمتوں، جن میں تمام وسائل حیات (Living resources) موجود ہیں کا درست انداز میں استعمال کرنا لازمی ٹھرایا گیا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ " وہی ہے جس نے تمہیں زمین کا جانشین بنایا تاکہ وہ اپنی دی ہوئی نعمتوں (وسائلِ حیات) میں تمہاری آزمائش کرے " (انعام ؛ ۱۶۵)
اللہ رب العالمین نے زمین جیسے سیّارے کو لہلہاتی فصلوں، آبشاروں، جھیلوں، چشموں و دریاؤں، سر سبز و شاداب جنگلوں، برف پوش کوہساروں، میٹھے و ذائقہ دار پھلوں، خوشبو و معطر پھولوں، خوبصورت باغوں، ہرے بھرے پیڑ پودوں سے خوبصورت انداز میں مزّین ( ڈیزائن ) فرمایا ہے۔عرش کو سورج، چاند، ستاروں و سیّاروں سے چراغاں کیا ہے ۔ حکمت و دانائی والے ربّ نے اس دنیا کا ڈیزائن اس طرح فرمايا ہے کہ اس میں کوئی نقص نظر نہیں آتا، کوئی شگاف یا بے ترتیب تنسیق کہیں نظر نہیں آتی ۔اس میں کسی بھی قسم کی رد و بدل کی گنجائش نہیں ۔ لیکن یہ انسان ہی ہے جس نے ان نعمتوں میں اپنی محدود عقل کے مطابق رد و بدل کرنا چاہا اور نظام قدرت کو درہم و برہم کر ڈالا ۔
حالانکہ ان نعمتوں کو امانت کے طور پر آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہمارے ذمے رکھا گیا اور یہ لازم کردیا گیا کہ اس میں کسی بھی قسم کے بگاڑ پیدا کئےبغیر اُن کی حیّاتِ زندگی کے لئے منتقل کیا جائے لیکن انسان نے اس ذمہ داری میں بھی لیت و لعل سے کام لیا اور اس امانت میں خیانت کر کے ایک بڑا فساد پیدا کیا ہے ۔ نظامِ فطرت میں منفی طور تبدیلی پیدا کرنا، اس کوبگاڑنا، پاکیزگی اور صاف ستھرائی کے انتظامات و اِنصرام میں خلاف ِقانون مداخلت کرنا ماحولیاتی فساد (Environmental corruption) کہلاتا ہے ۔ جو اِس وقت عالمی سطح پر انتہائی حساس مسئلہ بن چُکا ہے ۔ اس سے انسانی صحت بُری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ انسان کے خود غرضانہ سوچ ، اُس کے کرتوتوں اور بد اعمالیوں نے اس نظامِ ِفطرت میں مختلف قسم کا ماحولیاتی فساد پیدا کیا ہے ۔ جس سے مختلف قسم کی آلودگی (فضائی، آبی، زمینی، صوتی، ریڈیائی وغیرہ ) فتنے و فساد نے جنم لیا ہے ۔
رواں ماہ یورپ میں آنے والے تباہ کن سیلاب، امریکا کے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات اور دنیا کے مختلف ممالک میں درجہ حرارت میں اضافے سے ماحولیاتی تبدیلی کا پیدا ہونا اسی کا نتیجہ ہے ۔ اس حوالے سے ہنگامی اقدامات کے اُٹھانے کی ضرورت پیدا ہو چکی ہے ۔ ماحول ہی کی وجہ سے انسان جسمانی اور روحانی طور پر متاثر ہوتا ہے، اگر معاشرہ اپنی اخلاقی اقدار کھو بیٹھے تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا فساد ہر طرف خوف و ہراس پیدا کرتا ہے اور جب یہی معاشرہ اپنی احساسی اقدار کھو بیٹھے تو ہر طرف غلاظت اور گندگی کا ڈھیر جمع ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ ظاہر ہوگیا (اور پھیل گیا) فساد خشکی اور تری میں لوگوں کے ان اعمال کی وجہ سے، جو وہ خود اپنے ہاتھوں کرتے ہیں۔‘‘ (الروم ؛ ۴۱)
اشرف المخلوقات کے سامنے اس وقت جو درپیش مسائل ہیں، اس میں ماحویاتی آلودگی سر فہرست ہے ۔ یہ دراصل انسان کے اپنے ہی ہاتھوںکئے جارہے کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔ چناں چہ آپ سب کو معلوم ہے کہ اس وقت ہمارے ارد گرد کے ماحول کی کون سی صورت ِ حال ہے۔جہاں شدید گرمی کی وجہ سے ہندوکش ہمالیہ جیسے سفید چادر سے ڈھکے کوہساروں پہ برف بڑی تیزی سے پگھل رہی ہے ، وہیں ہم زمین پہ موجود قدرتی وسائل کے ساتھ بلا سوچے سمجھے چھیڑ چھاڑ کرتے جارہے ہیں، جس کا نتیجہ ہمارے سامنے گلوبل وارمنگ کی شکل میں بالکل عیاں ہے ۔ چند سال سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی خطرناک گیس کی مقدار مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور آکسیجن فراہم کرنے والےقدرتی وسائل یعنی پیڑ پودے بے دردی سے کاٹے جا رہے ہیں۔ جس سے ماحول کا توازن بگڑ چکا ہے اور اوزون جیسی قدرتی شیلڈ ختم ہوتی جا رہی ہے ۔
کورونا مہاماری کی پہلی اور دوسری لہر سے متاثرین میں آکسیجن کی کمی محسوس کی گئی تو زمین پہ جینا دشوار ہوتا ہوا دکھائی دینے لگا ۔کرونا میں مبتلا افراد بے بس و بے سہارا ہوکر آکسیجن کی کمی کے سبب تڑپ تڑپ کر مر گئے اورحضرت ِ انسان ہاتھ پہ ہاتھ رکھے ہوئے ابھی بھی اپنے کئے پر شرمسار نہیں ہو رہا ہے ۔ امریکا کی واشنگٹن یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فضائی آلودگی پھیپھڑوں، گردوں اور دل کے علاوہ دماغ پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے ۔ ہوا میں موجود آلودہ ذرّات کا ایک مائیکرو گرام دماغی مرض جیسے ڈیمنیشیاء کا خطرہ سولہ فیصدی تک بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح مئی ۲۰۲۰ ء میں کولمبیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق محض چند ہفتے کی فضائی آلودگی انسان کی دماغی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے ۔
حال ہی میں آب و ہوا کی تبدیلی پر چھٹی بین الحکومتی پینل نے اپنی ایک رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ گلیشیرز بڑی تیز رفتاری کے ساتھ ختم ہوتے جا رہے ہیں ۔ دنیا کے دیگر اونچائی والی چوٹی کےبہ نسبت ہندوکش ہمالیہ کے گلیشئربڑی تیزی سے پگھلتے جا رہے ہیں ، جو انتہائی قابل توجہ بات ہے۔ اسلام نے اس طرح کے سنگین مسائل سے نپٹنے کے لئے صفائی اور شجر کاری کے تفصیلی احکامات صادر کر کے ایک واضح اور منفرد حل نکال کے رکھ دیا ہے ۔ قرآن حکیم نے کھیتی اور پودوں کو برباد کرنا منافقین کا شیوہ قرار دیا ہے ۔
قارئین کرام ! یہ ایک وسیع مطالعاتی موضوع ہے ،یہاں صرف اس کی طرف اشارہ دینے پہ اکتفا کرتا ہوں ۔
سرکاری و نیم سرکاری دفاتر میں یا عوامی بیت الخلاء کی اگر بات کی جائے تو بشرِ حاجت کے وقت انسان وہاں کی صفائی و ستھرائی کی صورت حال دیکھ کا خود اندازہ لگا سکتا ہے  کہ ہم کہاں ہیں۔ ایسا کیوں ہورہا ہے اوراس کا ذمہ دار کون ہے ؟یہ ایسا سوال ہے جس کے لئے ہم سبھی جواب دہ ہیں،اس لئے کہ کیا اس معاملے میںہماری کوئی ذمہ داری نہیں؟ صفائی کرمچاری ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ وہ پورا دن ہاتھوں میں جھاڑو تھامے رہے۔انفرادی اور اجتماعی طور پر ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ جس دین میں بیت الخلاء میں داخل ہونے سے قبل اور فارغ ہونے کے بعد دُعاء پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہو تو اُس دین کے پیرو کاروںیہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ صفائی اور پاکیزگی کے بارے میں راہ نمائی نہ کریں۔ دین ِ اسلام میں نہ صرف صفائی و ستھرائی کو پسند فرمایا گیا ہے بلکہ اس کو دین کا نصف ایمان قرار دیا گیا ہے ۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسلام کی بنیاد ہی نظافت پر رکھی ہے ۔
حال ہی میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سرینگر میونسپل کارپوریشن کے زیر اہتمام ایک ’’میوزیکل ایونٹ ' بٹل آف بینڈ فار پالی تھین فری سرینگر‘‘ کی خصوصی تقریب کے دوران ماحول کے بچاؤ کے حوالے سے ایک خوش آئند قدم اٹھایا ۔ جس میں سرینگر اور جموں شہروں کو پالی تھین سے پاک بنانے کے لئے زور دیا گیا ۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی سرینگر میونسپل کارپوریشن نے پالی تھین کے خلاف  6RCampaign# کے نام سے ایک زور دار مہم چلائی تھی، جس سے ابتدائی دنوں میں کافی مثبت نتائج حاصل ہوئے ،لیکن آہستہ آہستہ یہ مہم بھی اپنے آپ دم توڑتی ہوئی جا رہی ہے ۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ اس ضمن میں عائد قوانین کو عملایا جائے تاکہ عوام ایک صاف ستھرے ماحول (Clean Green Environment) میں سانس لے سکیں ۔
لہٰذا ہم سب کے لئے لازم ہےکہ اپنے ارد گرد کے ماحول کا خاص خیال رکھیں ۔ اپنے ارد گرد پالیتھین کا ڈھیر جمع ہونے نہ دیں ۔گھر میں بیت الخلاء، باتھ روم اور گاؤ خانوں سے نکلنے والے فضلہ اور گندگی کومناسب جگہ پر ٹھکانے لگائیں،گلی کوچوں،سڑکوں پر نہ ڈالیںاورندی نالوں اور دریائوںمیں نہ ڈالیں ۔ گھر، دفاتر، شفاخانہ، ایئرپورٹ، ریلوے اسٹیشن، تفریح گاہوں جیسی خاص جگہوں موجود بیت الخلائوں کا استعال کرتے وقت خوب پانی بہایا کریں۔ ایسی جگہوں پہ کھانا یا دیگر اشیاء کھاتے وقت ضائع کرنے والی چیزوں کو مقررہ جگہ ہی ڈالا کریں۔ گھروں سے نکلنے والا کچرا ، جس میں سب سے زیادہ مہلک پلاسٹک کی بوتلیں،لفافے اوردیگرویپر ہوتے ہیں،کومیونسپل انتظامیہ کی قائم کردہ جگہوں پر ہی ڈالیںبلکہ، ہمیں چاہیے کہ پلاسٹک و پالتھین کی چیزوں کا استعمال کم کریں ۔ ہو سکے تو اس کا متبادل ڈھونڈھ نکالیں ۔ ایرکنڈیشنرس کا استعمال بہت کم کیا کریں تاکہ ان سے نکلنے والی CFC جیسی زہریلی گیس سے بچا جائے ۔ غیر ضروری چیزوں کے جلانے سے پرہیز کریں۔پرائیویٹ کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ غیر ضروری طور پر پانی کے نل کھلا نہ چھوڑیں اور بجلی کا استعمال صحیح طریقے سے کریں ۔لاوڈ اسپیکرز اور دیگر صوتی آلات کا استعمال بھی کم کریں ۔ قدرتی نظام کو متوازن رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں ۔
خلاصہ کلام یہی ہے کہ یہ سب کام نیکی میں شمار ہوتے ہیں اور نیکی میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔اس وقت جو صورت حال ہمارے سامنے ہے،وہ ہمارے اپنے ہاتھوں کیہی کرائی ہوئی ہے۔ ہمیں اپنی بے حسی، غفلت و لاپرواہی سے باز آنے کی اشد ضرورت ہے۔ہم سب کو انفرادی طور پر اپنی اصلاح کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات یہی ہے کہ ہمارے لئے اپنی ضروریات، سہولیات، آسائشوں اور آرائشوں کو محدودکر کے فضا میںآلودگی اورماحول میں کثافت کو کم کرنےکے لئے کمر بستہ ہوناانتہائی ضروری بن چکاہے تاکہ ہماری داستاں رہے داستانوں میں۔
ہاری پاری گام ترال
رابطہ - 9858109109
paraybilal2@gmail.com