تازہ ترین

۔1930میں قائم کئے گئے محکمہ خوراک ورسدات کی نئی عمارتیں بنیں نہ1990کے بعد ملازمین کی بھرتی ہوئی

ایک گھاٹ منشی پر تین 3راشن ڈیپوئوں کا بوجھ، کہیں حمال تو کہیں چوکیدار سٹور کیپر بن گئے

تاریخ    17 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
 سرینگر //محکمہ خوراک وشہری رسدات( امور صارفین و عوامی تقسیم کاری) میں افرادی قوت کی کمی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تین تین راشن گھاٹوں پرایک سٹور کیپر راشن فراہم کرنے کیلئے تعینات رکھا گیا ہے۔محکمہ میں موجود ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ فی الوقت کشمیر وادی میں 2004سرکاری راشن گھاٹ اور 1162فئیرپرائز شاپ موجود ہیں۔ اگرچہ پرایئویٹ فئیر پرائز شاپ پر مالکخود ہی لوگوں کو راشن فراہم کرتے ہیںلیکن سرکاری راشن گھاٹوں پر عملے کی شدید قلت کے نتیجے میں لوگ کئی کئی دنوں تک راشن سے محروم رہ جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کرناہ سے لیکر قاضی گنڈ تک تین تین راشن گھاٹوں کا اضافی چارج ایک ہی سٹور کیپر کو دیا گیا ہے ۔المیہ تو یہ ہے کہ سٹور کیپروں کی قلت دور کرنے کیلئے کہیں تیل ڈیپو چلانے والوں کو راشن کی تقسیم کاری کا کام سونپا گیا ہے تو کہیں حمال اور کہیں چوکیدار سٹور کیپر بن گئے ہیں۔معلوم رہے کہ کشمیر وادی میں راشن کارڈ ہولڈرس کی کل تعداد 26,46,247ہے اور محکمہ خوراک و عوامی تقسیم کاری کوچاول ، گندم ، چینی ، مٹی کا تیل اور ضروری اشیاء کی تقسیم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس کا مقصد مناسب قیمتوں پر معیاری خوراک کی مناسب مقدار تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ 1930میں قائم کیا گیا یہ محکمہ جو کہ مردم شماری 2001 کے مطابق  56.88 لاکھ آبادی کو اناج کی دستیابی کو یقینی بنا کر اہم کردار ادا کر رہا ہے  ملازمین کی کمی کو پورا کرنے میں حکام مکمل طور پر ناکام ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ محکمہ میں عرصہ دراز1990 سے خالی اسامیوں کو پر نہیں کیا جا سکا ہے اور جو ملامین کئی سال قبل سبکدوش بھی ہوئے ہیں ان کی جگہ بھی کوئی دوسرا ملازم تعینات نہیں کیا گیا ہے ۔
ذرئع نے بتایا کہ جن نئے ملازمین کی اسامیاں ایس ایس آر بی کو ریفرکی گئی ہیں ان کی جانب بھی کوئی دھیان نہیں دیا جاتا ہے ۔مقامی صارفین کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کو کمپوٹر ائز کرنے سے محکمہ میں سدھار نہیں آئے گا جب تک نہ یہاں ورک کلچر کو بہتر بنایا جائے۔ اس وقت وادی بھر میں تین سے چار سرکاری راشن گھاٹوں پرایک سٹور کیپر کام کر رہا ہے جبکہ اس سے قبل ایک راشن گھاٹ پر تین ملازمین ہوا کرتے تھے، جن میں ایک گھاٹ منشی ، ایک حمال اور ایک چوکیدارشامل ہیں۔ لیکن اب ایک راشن گھاٹ کی رکھوالی اور حمال کے علاوہ چوکیداری کا کام ایک ملازم کے ہاتھ میں ہے۔محکمہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ جس طریقے سے آبادی بڑھ رہی ہے، راشن سٹوروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے لیکن بدقسمتی سے نئے اسامیوں کو پُر نہیں کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سال 2016میں کلاس فورتھ ملازمین کچھ ایک جگہوں پر تعینات کئے گئے تھے لیکن وہ بھی ناکافی تھے ۔انہوں نے کہا کہ سال2016سے اب تک بہت سے علاقوں میں ملازمین سبکدوش ہوئے لیکن ان کی جگہ کوئی بھی نیا ملازم تعینات نہیں ہوا ہے۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کہ ایک ملازم صرف ایک ہی جگہ بہتر ڈھنگ سے لوگوں کو بہتر خدمات دے سکتا ہے مگر یہاں لوگوں کو راشن فراہم کرنے کیلئے روسٹر بنائے گئے ہیں کہ کس دن کس راشن گھاٹ پر سٹور کیپر لوگوں کو راشن فراہم کریں گے۔محکمہ کے ڈائریکٹر عبدالسلام میر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ میں سٹور کیپروں کی تقریباً 250سے زائد اسامیاں خالی ہیں۔انکا کہنا تھا کہ اگر دیکھا جائے تو محکمہ کو 400ملازمین کی ضرورت ہے ۔