تازہ ترین

ملازمین ملکی وفاداری کے پابند

بھارت کی سالمیت اور خود مختاری کیخلاف کام کرنیوالے برطرف ہونگے

تاریخ    17 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک

  سکریننگ کمیٹی تشکیل، معاملات کی چھان بین کے بعد فیصلے لئے جائینگے

 
سرینگر// حکومت جموں کشمیر نے کہا ہے کہ ہر سرکاری ملازم کو لازمی طور پر ملک کی سالمیت ، ایمانداری اور یونین آف انڈیا اور اس کے آئین کے ساتھ وفاداری کو برقرار رکھنا چاہیے اور ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جو سرکاری ملازم کے لیے ناپسندیدہ ہو۔مزید یہ بتایا گیا ہے کہ ہر ایک سرکاری ملازم اپنی ملازمت کے دوران ہر وقت جے اینڈ کے گورنمنٹ ایمپلائز کنڈکٹ رولز ، 1971 کا پابند ہے۔ یہ قواعد مختلف دفعات پر مشتمل ہیں جو سرکاری اور نجی سیکٹر میں ملازمین کے طرز عمل کو چلانے والی سرگرمیوں کی ایک وسیع رینج کا احاطہ کرتی ہیں۔ جموں و کشمیر سول سروسز (کریکٹر اینڈ اینٹی سیڈینٹس) انسٹرکشنز ، 1997 کو جاری کرتے ہوئے ، 1997 کے گورنمنٹ آرڈر نمبر 1918-GAD کے ذریعہ بتاریخ9دسمبر 1997کے ترمیم کے مطابق ، درج ذیل ہدایات کو ذہن میں رکھا جائے گا ۔سرکاری ملازمین کے کردار اور سابقہ کارکردگی کی وقتاً فوقتا ًتصدیق کے دوران مذکورہ کی تخریب کاری ، جاسوسی ، غداری ، دہشت گردی ، بغاوت ، علیحدگی  پسندی، غیر ملکی مداخلت کی سہولت ، تشدد پر اکسانے یا کسی دوسرے غیر آئینی فعل میں ملوث ہو۔ان افراد کے ساتھ ایسوسی ایشن یا ہمدردی ،جو مذکورہ بالا اعمال میں سے کسی کا ارتکاب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ،یا مذکورہ بالا اعمال کی مدد کرنے یا اس کی حمایت کرنے میں ملوث ہوں۔کسی فرد کے قریبی خاندان کی شمولیت ، ایسے افراد جو ملازم کے ساتھ رہائشی جگہ بانٹتے ہیں، جن سے وہ پیار ، اثر و رسوخ ، یا ذمہ داری کا پابند ہو سکتا ہے یا کسی بھی عمل میں ملوث ہو سکتا ہے ، بالواسطہ یا بالواسطہ، فرد کو دباؤ میں ڈالنے کی صلاحیت رکھنا ، اس طرح سیکورٹی کا سنگین خطرہ ہے۔رشتہ داروں ، رہائشی جگہ کا اشتراک کرنے والے افراد یا شراکت دار جو کسی غیر ملکی حکومت ، انجمنوں ، غیر ملکی شہریوں کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ طور پر ہندوستان کے قومی اور سلامتی مفادات کے مخالف معلوم ہوتے ہیں، کی اطلاع دینے میں ناکام ہوجائے۔ کسی مشتبہ یا معروف ساتھی یا غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کے ملازم کے ساتھ غیر مجاز وابستگی کی اطلاع دینے میں ناکام ہو۔ ایسی رپورٹیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ کسی غیر ملک کے نمائندے یا شہری مستقبل کے ممکنہ استحصال ، زبردستی یا دباؤ کے لیے فرد کی کمزوری کو بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ دوسرے ممالک کے شہریوں یا دوسرے ممالک کے مالی مفادات کے ساتھ رابطوں کی اطلاع دینے میں ناکامی، جو کسی فرد کو غیر ملکی حکومت کے ذریعہ زبردستی ، استحصال ، یا دباؤ کا شکار بناتی ہے۔مذکورہ بالا پیرامیٹرز پر مجرد تصدیقوں کی بنیاد پر ، حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتا ًموصول ہونے والے منفی رپورٹس والے ملازمین کی فہرست متعلقہ انتظامی محکموں کی طرف سے سنجیدگی سے لی جائے گی جو کہ فوری طور پر اس کی اطلاع جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو دے گی۔ اس صورت میں ، ایسے ملازمین (پروموشنز) (پروموشنل/نان فنکشنل) ہیں ، ان کے مقدمات کو فورا ً روک دیا جائے گا۔ مزید یہ کہ اس طرح کے معاملات جموں و کشمیر سول سروسز (کریکٹر اور اینٹی سیڈینٹس کی تصدیق) ہدایات ، 1997 کے ذریعے تشکیل دی گئی یو ٹی لیول اسکریننگ کمیٹی کو جمع کرائے جائیں گے ، جیسا کہ1997 کے گورنمنٹ آرڈر N0.1918-GAD 1997 کے مطابق نوٹیفائیڈ کیا گیا تھا۔  اسکریننگ کمیٹی کی طرف سے منفی رپورٹ کی تصدیق پر ، منفی رپورٹ کیے گئے ملازمین کے خلاف مزید کارروائی کی جائے گی ، جس میں سرکاری خدمات سے برطرفی بھی شامل ہو سکتی ہے۔  اسکریننگ کمیٹی کے حوالے سے یا کسی بھی پریشان ملازم کی نمائندگی پر اسکریننگ کمیٹی کے فیصلے کا جائزہ ، جائزہ کمیٹی لے سکتی ہے ۔
 
 

دربار موجموں سیکریٹریٹ کیلئے درکار افسران و ملازمین

سبھی انتظامی سیکریٹریوں سے فہرست طلب، سرکیولر جاری

بلال فرقانی
 
سرینگر// حکومت نے انتظامی افسراں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان افسراں کی فہرست مرتب کریں جنکی جموں اور سرینگر کے سیول سیکریٹ  دونوں میں ضرورت ہے تاکہ ان کیلئے سرکاری رہائش کا انتظام کرنے کا معاملہ بااختیار حکام کے سامنے پیش کیا جائے۔محکمہ عمومی انتظامی کے ایڈیشنل سیکریٹری کی جانب سے جمعرات کو جاری ایک سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ سول سیکرٹریٹ جموں اورسرینگر میں افسران و ملازمین کی دستیابی کے حوالے سے کوویڈ وبائی امراض اور’ ای آفس‘ کے نفاذ کے بارے میں ، سیول سیکریٹریٹ کو دونوں جگہوں پر فعال رکھنے کے انتظامات کیے گئے تھے۔ آرڈر میں کہا گیا ہے’’ ان انتظامات کے تسلی بخش نتائج برآمد ہوئے ہیں جن میں ریکارڈ منتقلی  کی مشق بھی شامل ہے لیکن کچھ مخصوص افسران کی عدم دستیابی کے پیش نظر کچھ مسائل و دشواریاں بھی پیش آئیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر میں کوویڈ کی صورت حال میں بہتری کے ساتھ ، ان انتظامات کا جائزہ لینے اور سول سیکریٹریٹ ، سرینگر میں جاری گرمائی سیشن کے لیے جموں میں مقیم افسران و ملازمین کی مناسب تعداد کو استعمال  میں لانے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ مزید کہا گیا کہ اسی طرح آئندہ سرمائی سیشن کے لیے جموں میں کشمیر میں مقیم ملازمین کی ضروری تعداد کی خدمات پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے تمام انتظامی سیکرٹریوں سے درخواست کی گئی کہ وہ ان تقاضوں کو پورا کریں اور ایسے افسراں و ملازمین کی فہرست پیش کریں جن کی خدمات دونوں جگہوں  جموں اور سرینگر ، میں درکار ہوں گی تاکہ ان کی رہائش کے حوالے سے انتظامات کیے جائیں اور با اختیار حکام کے سامنے غور کے لیے رکھا جائے۔ 
 
 

سرکاری ملازمین کے حق میں پاسپورٹ اجرائی

ویجی لینس بیورو کی کلیئر نس لازمی شرط قرار، سرکیولر جاری

بلال فرقانی
 
سرینگر// حکومت نے سرکاری ملازمین کے پاسپورٹ حصولیابی کیلئے ویجی لنس کی کلیئرنس کو لازمی قرار دیا ہے۔ سرکار کی جانب سے بدھ کو  ایک سرکیولر میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ سرکاری ملازم سمیت شہریوں کو پاسپورٹ ’سی آئی ڈی‘ کی جانب سے کی گئی جانچ کی بنیاد پر جاری کیا جاتا ہے۔تاہم موجودہ نظام میں کوئی ایسا طریقہ کار شامل نہیں ہے جس سے ایسے ملازمین جو یا تو معطل ہیں، یا سنگین الزامات کی وجہ سے محکمانہ جانچ یا قانونی چارہ جوئی کا سامنا کر رہے ہیں، کو پاسپورٹ کی اجرائی سے دور رکھنے میں مدد ملے گی۔ سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ فی الحال ، ایک سرکاری ملازم صرف اپنے’ مالک‘ کو ضمیمہ ’ایچ ‘پر پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے کے لیے مطلع کرتا ہے۔ محکمہ عمومی انتظامی کے کمشنر سیکریٹری منوج کمار دیویدی کی جانب سے جاری اس سرکیولر میں مزید کہا گیا ہے کہ پاسپورٹ کے حصول کے لیے مرکزی وزارت پرسنل،گروینس اینڈ پنشن اینڈ ٹریننگ نے، مرکزی ویجی لنس کمیشن اور وزارت خار جہ کی مشاورت سے رہنما خطوط کا جائزہ لیا ہے اور سرکاری ملازمین کو پاسپورٹ دینے پر غور کرتے ہوئے تازہ ویجی لنس کلیئرنس حاصل کرنے کے لیے تفصیلی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ سرکیولر میں مزید کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر میں انسداد رشوت ستانی ادارے اینٹی کورپشن بیورونے حکومت کے نوٹس میں یہ بھی لایا ہے کہ سرکاری ملازمین کو پاسپورٹ جاری کرنے کا موجودہ طریقہ کار بغیر مطلوبہ ویجی لنس کلیئرنس حاصل کیے، ان ملازمین کو پاسپورٹ جاری ہوتے ہیں، جن کے خلاف ویجی لنس کے مقدمات زیر التوا ہیں۔سرکیولر میں کہا گیا ہے’’ تمام محکموں کو فوری طور پر ہدایت دی جاتی ہے کہ ویجی لنس کلیئرنس کی بنیاد پر ہی پاسپورٹ کی حصولیابی کیلئے’این ائو سی کو لازمی بنائے‘‘۔  تمام انتظامی محکموں کے سربراہان پر زور دیا گیا ہے کہ ملازمین کی جانب سے پاسپورٹ کے اجراء  کے لیے رجوع کرنے کی صورت میں ویجی لنس سے تازہ ترین کلیئرنس لازمی طور حاصل کی جائے۔
 
 

 بائیو میٹرک چہرہ شناختی سسٹم

 سیلول سیکریٹریٹ میں نصب

بلال فرقانی
 
سرینگر //حکومت نے جمعرات کو جموں اور سرینگر کے سیول سیکریٹریٹ کے ملازمین کو 27 ستمبر سے بائیو میٹرک چہرہ شناختی سسٹم کے ذریعے اپنی حاضری درج کرنے کی ہدایت دی ہے۔ڈیوٹی کی نسبت پابندی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے ملازمین کی آمد اور روانگی کی نگرانی کے لیے سول سیکرٹریٹ ، سرینگر اور سول سیکرٹریٹ جموں میں ’’با ئیو میٹرک چہرے کی شناخت کا نظام نصب کیا ہے۔حکومت نے سرکیولر میں کہا’’یہ نوٹ کیا گیا ہے کہ کچھ ملازمین بائیو میٹرک چہرے کی شناخت کے نظام کے ذریعے اپنی حاضری کو درج نہیں کر رہے ہیں ، جبکہ کچھ ایسے ہیں جو ابھی تک اس نظام میں درج نہیں ہیں ‘‘۔معاملے کا جائزہ لینے کے بعد حکومت نے حکم دیا کہ تمام ملازمین اپنی آمد اور روانگی پر الیکٹرانک طور پر 27 ستمبر سے بائیوںمیٹرک چہرے کی شناخت کے نظام کے ذریعے سول سیکرٹریٹ ، سرینگر اور جموں میں حاضری درج کرے۔