تازہ ترین

آزادی سے قبل نوشہرہ میں تعمیر بیری پتن پل

آج بھی عوام کیلئے دریا عبور کرنے کا واحد راستہ

تاریخ    17 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


رمیش کیسر
نوشہرہ //سب ڈویژن نوشہر ہ مناور دریا پر آزادی سے قبل تعمیر کر دہ بیری پتن پل اس جدید دور میں بھی ایک وسیع علاقہ کی عوام کیلئے دریا عبور کرنے کا ایک واحد قدیم راستہ ہے تاہم مذکورہ رابطہ پل وقت گزرنے کیساتھ ساتھ پرانا ہوتا جارہا ہے جس کی مرمت اشد ضروری ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ مذکورہ رابطہ پل علاقہ میں انگریزوں کے دوران کے پل کے نام سے مشہور ہے تاہم اس پل کی مدد سے ہی آزادی سے قبل فوج و دیگر ضروری ساز و سامان کا گزر ہوتا تھا ۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ پل صفر لائن سے کچھ ہی دور ہونے کی وجہ سے پاکستانی افواج کی جانب سے کی جانے والی گولہ باری کی زد میں بھی آتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی علاقہ کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل مانا جاتا ہے ۔مقامی بزرگوں نے بتایا کہ ہندوستان پر انگریزوں کے دور میں اسی پل کے ذریعہ راستہ پاکستانی زیر انتظامیہ کشمیر کے میر پور و دیگر علاقوں میں جاتا تھا جبکہ 1947سے قبل مرحوم شیخ عبداللہ کی جانب سے بنائی گئی ملیشیا اسی پل پر نگرانی کے فرائض انجام دیتی تھی ۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ ملیشیا کے ٹوٹنے کے بعد اب پل کی حفاظت کی ذمہ دار بی ایس ایف اہلکاروں کے پاس ہے ۔انہوں نے بتایا کہ پل کی تعمیر اس دور میں بھی اس قدر معیاری کی گئی تھی کہ آج بھی اس سے لوگوں کا گزر آسانی کیساتھ ہوتا ہے ۔پرائم داس نامی ایک بزرگ نے بتایا کہ وہ 1947کے بعد اس رابطہ پل کی خود دیکھ ریکھ کررہے ہیں اور اگر کوئی کیل توٹ جاتا ہے تو وہ خود س کی مرمت کا کام کر دیتے ہیں ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ مذکورہ پل علاقہ کیلئے ایک قدیم ورثہ کی شکل میں ہے تاہم انتظامیہ چاہئے کہ وہ اس کی مرمت و دیگر ضروری دیکھ ریکھ ترجیح بنیادوں پرکرئے ۔