تازہ ترین

تتاپانی گول تباہی کے دہانے پر،رہنے کیلئے نہیں ہے کوئی انتظام

زائرین گندگی کے بیچ رات گزارنے پر مجبور ،بدبوسے ہورہی ہے پریشانی

تاریخ    17 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


زاہد بشیر
گول//جموںو کشمیر میں مشہور قدرتی گرم چشمہ جہاں جموںو کشمیر کے علاوہ لداخ ، کرگل سے بھی لوگ شفا پانے کے لئے آتے ہیں ۔ اگر بزرگوں کی مانیں تو اس قدرتی چشمے سے ریح کی بیماری ، ہڈیوں کی بیماری اور جوڑوں کے علاوہ معدے وغیرہ کی بیماری دور ہوتی ہے جس وجہ سے صدریوں سے اس گرم چشمے میں نہانے کے لئے دور ور سے یہاں لوگ آتے ہیں ۔ یہاں آنے والے زائراین کے لئے انتظامیہ کی جانب سے کوئی خاص انتظام نہیں ہے ۔ پہلے یہاں پر مقامی لوگوں نے عارضی شیڈ تعمیر کئے تھے جن کو انتظامیہ نے غیر قانونی قبضہ کہہ کر ان تمام شیڈوں کو مسمار کر دیا اور بعد میں انتظامیہ نے یہاں آنے والے زائرین کے رہنے کے لئے کوئی بندو بست نہیں کیا ہے ۔ یہاں پر پہلے سے ہی کچھ تعمیرات محکمہ تعمیرات عامہ نے بنائے ہیں جو نہایت ہی خستہ ہیں اور آج کل کے سیزن میں رش ہونے کی وجہ سے یہاں لوگوں کو سڑک کے بیچ اور گلیوں و لینٹر پر ڈیرہ ڈالنے کے لئے مجبور ہو رہے ہیں ۔ اگر چہ محکمہ دیہی ترقی نے دوسال قبل یہاں پر ایک ماڈل کی شکل میں ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائر ل کی تھی جس پر لوگو ں نے کافی سراہا کہ اگر اس طرح کی یہاں تعمیر ہو گی تو بہت ہی بہتر تھا لیکن وہ تصویر صرف ایک تصویر ہی بن کر رہ گئی حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا جس وجہ سے یہاں پر محکمہ دیہی ترقی کے چشمے کے ارد گرد تھوڑی سی تعمیر کی ۔ یہاں آنے والے زائرین نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ وادی کشمیر کے مختلف علاقوں بالخصوص جنوبی کشمیر اننت ناگ ، کولگام سے یہاں زیادہ تر لوگ آتے ہیں لیکن یہاں پر سرکار کی جانب سے کوئی بندو بست ہی نہیں ہے ۔ گندگی اور بدبو کے بیچ انہیں رات گزارنی پڑٹی ہے ۔ یہاں دیکھ کر بہت ہی افسوس ہو رہا ہے کہ کس طرح سے اس قدرتی نعمت کو بے یار ومدد گار چھوڑا ہے اور یہاں پر گندگی کے ڈھیر سے آنے والے لوگ کافی پریشان ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موسم صاف ہونے کی صورت میں یہاں لوگ کھلے آسمان تلے سڑ ک کے بیچ یا مکانوں کے لینٹر پر رات گزارتے ہیں لیکن جب بارش آتی ہے تو انہیں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں پر رہائش کے لئے کوئی بندو بست نہیں ہے ۔چند ایک کوارٹر ہیں لیکن یہ نا کافی ہیں اور لوگ اس وقت بھی سڑکوں کے بیچ ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکار نے ان جیسے مقامات کی طرف دیکھا نہیں تو وہ دن دور نہیں کہ لوگ یہاں کا رخ نہیں کریں گے کیونکہ جہاں لوگ دور دور سے یہ اُمید لے کر یہاں آتے ہیں کہ وہ بیماری کو دور کریں گے لیکن یہاں ایسا لگ رہا ہے کہ وہ بیمار کو دور نہیں بلکہ بیماری کو ہی ساتھ لیں گے جس طرح یہاں پر سہولیات دستیاب ہیں ایسا ہی لگ رہا ہے ۔وہیں کچھ مقامی دکانداروں و رہائشی پذیر لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ آج کل یہاں زائرین کا سیزن ہے اور سرکار و انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ وہ یہاں پر تین چار مہینوں کے لئے زیاد ہ دھیان دیں تا کہ یہاں آنے والے زائرین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔