تازہ ترین

فارسٹ ایکٹ کے تحت محکمہ جنگلات کا جانکاری پروگرام

بانہال کے چملواس میں مہا گرامین پنچایت کا انعقاد

تاریخ    17 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


محمد تسکین
بانہال //فارسٹ رائٹس ایکٹ کو زمینی سطح پر لاگو کرنے کیلئے محکمہ جنگلات ، فارسٹ رائٹس کمیٹیاں اور پنچائتی ادارے اور عام  لوگ متحرک ہوگئے ہیں اور مہا گرام سبھائوں میں ایک ایکٹ کے تحت مستحق قرار پانے والے افراد اور ضروری درکار لوازمات کے بارے میں لوگوں میں بڑے پیمانے پر آگاہی پھیلائی جارہی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی طرف سے اس مہینے کی 18 تاریخ کو مستحقین میں فارسٹ رائٹس دینے کیلئے ایک مجوزہ تقریب کا اعلان پہلے ہی کیا گیا ہے اور ضلع رام بن میں محکمہ جنگلات اور متعلقہ کمیٹیوں نے مستحق افراد کی فہرستوں کی جانچ پڑتال شروع کی ہے جبکہ کئی لوگ جنگلاتی آراضی پر اپنے دعوں کو بھی پیش کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز سب ڈویژن بانہال کی پنچایت چملواس اپر میں پنچایت اور محکمہ جنگلات کی طرف سے ایک مہا گرام سبھا کا انعقاد کی گیا جس میں گھاس کٹائی میں مشغول ہونے کے باوجود سماج کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ فارسٹ رائٹس ایکٹ کی رو سے کون لوگ مستحق ہیں اور کون مستحقین میں شامل نہیں ہیں اور جنگلاتی اراضی پر اپنے دعوئوں کو ثابت کرنے کیلئے ضروری قرار دی گئی کاغذی لوازمات کے بارے میں محکمہ جنگلات و محکمہ مال کے ملازمین نے لوگوں کو مکمل جانکاری فراہم کی ہے ۔ اس موقع پر محکمہ جنگلات اور محکمہ مال کے افسروں نے وہاں موجود لوگوں کو بتایا کہ گوجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ جن کا انحصار جنگلات پر ہے یا وہ اپنے مال مویشی لے کر کئی جگہوں پر مال چرانے کیلئے جاتے ہیں انہیں دسمبر 2005تک کے کاغذی لوازمات دکھانے ہوں گے جبکہ شیڈول ٹرائب کے زمرے سے باہر کیلئے لازمی ہے کہ وہ اپنی جنگلات پر قابض ہونے کی تین پشتوں پر مشتمل ریکارڈ یا 1930 کے ریکارڈ ثبوت کو پیش کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ غیر شیڈول ٹرائب کو 75 سالہ پرانے ریکارڈ پیش کرنے کی صورت میں ہی جنگلات کے حقوق دیئے جائینگے اور اس کیلئے تیرہ میں سے تین ثبوت پیش کرنے ہوں گے جس میں جنگلاتی نوٹس ، گھاس چرائی کے طور کئے جانے چارجز کے عوض محکمہ جنگلات کی طرف سے 2005 سے پہلے جاری کئے گئے ماٹو اور محکمہ مال کا ریکارڈ بھی ثبوتوں میں شامل ہوگا ۔ اس سلسلے میں محکمہ جنگلات کے ذرائع نے بتایا کہ ابھی تک کئی فارم موصول ہوئے ہیں جبکہ چملواس کے مامنہ کے جنگلاتی علاقے میں دو شیڈول ٹرائب گوجر گھروں کی نشاندھی کی گئی ہے اور انکے پاس موجود دستاویزات کی روشنی میں انہیں جنگلاتی اراضی کے حقوق دیئے جاسکتے ہیں اور اس کیلئے ان کی تمام دستاویزات اور دعویٰ کاغذوں کو اعلی حکام کو بھیجا رہا ہے تاکہ انہیں جنگلاتی ایکٹ کے تحت حقوق مل سکیں۔