تازہ ترین

انجینئروں کا حالات سے قطع نظرعوام کی خدمت کرنے کا عہد | حکومت سے16فروری2018کوکئے گئے وعدے کو پورا کرنے پرزور

تاریخ    16 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سری نگر// انجینئروں کے مشترکہ پلیٹ فارم انجینئرنگ گریجویٹس ایسوسی ایشنز کی ایکشن کمیٹی کشمیر نے یوم انجینئرز کے موقع  عہد کیا کہ حالات سے قطع نظر وہ عوام کی خدمت کریں گے تاہم انکی خدمات کو بدقسمتی سے تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ایون صحافت کشمیر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انجینئرنگ گریجویٹس ایسوسی ایشنز کی مشترکہ ایکشن کمیٹی کشمیر کے صدر  انجینئر فردوس احمد بٹ نے انجینئروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کئی انجینئروں نے کووِڈ وبائی مرض سے لڑتے ہوئے گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ڈیوٹی کی لائن میں اپنی جانیں قربان کیں۔انہوں نے کہا کہ ان لیڈروں کو بہترین خراج عقیدت یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کی خدمت کے لیے اپنے جوش اور عزم کو جذب کریں اور زندگی کو بہتربنانے کے طریقے تلاش کریں۔ انہوں نے کہا’’ہم عوام کے لیے اپنا خون اور پسینہ دینے کے لیے تیار ہیں اور ایسے انجینئر کی طرفداری نہیں کرتے جس کے مفادات خراب ہوں اور وہ اپنے فرائض ایمانداری اور خلوص نیت سے انجام نہ دے۔‘‘ فرودس احمد نے تاہم حکومت کو یاد دلایا کہ پہلے سے منظور شدہ کیریئر ترقی سکیم کے لیے ایس آر او جاری کرنے کا وعدہ پورا کریں۔ انہوں نے کہا’’ایس آر او جاری کرتے ہوئے حکومت  16 فروری 2018 کو ایوان میںکیے گئے اپنے وعدے کو پورا کرے گی ‘‘۔انجینئرمنشی ماجد علی ، صدر الیکٹریکل انجینئرنگ گریجویٹس ایسوسی ایشن نے اپنے تبصرے میں کہا کہ انجینئر قوم کے معمار ہوتے ہیں جبکہ پوری حکمرانی ترقی کے گرد گھومتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج کی زندگی انجینئر کی خدمات کے بغیر ناممکن ہے، چاہے وہ پینے کا پانی ہو ، بہتر سڑکیں ہوں ، بجلی کی بلاتعطل فراہمی ہو یا دیگر سہولیات ہوں۔لیکن حکومت محکمہ بجلی میں انجینئروںکو مستقل نہ کرنے اور جونیئر انجینئروں کی گریڈ  تنخواہ (4260) اور فیلڈ ٹریول الاؤنس وغیرہ کے اہم مسائل پر خاموش بیٹھی ہے۔ سیول انجینئرس گریجویٹس ایسو سی ایشن کے صدر انجینئر فاروق احمد گنائی نے تمام انجینئرز پر زور دیا کہ وہ ٹینڈرز جاری کرتے وقت ہدایات اور سرکلر پر سختی سے عمل کریں اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی اعلیٰ حکام کی زبانی ہدایات پر کام لینے سے باز رہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ پر بھی زور دیا کہ وہ انجینئروں سے وہ کام ہاتھوں میںلینے کو نہ کہے جو منظور شدہ ایکشن پلان میں شامل نہ ہو۔