تازہ ترین

رام بن میں زراعت ، اس سے وابستہ شعبوں کے پیداواری منظر نامے کا جائزہ

تاریخ    15 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


رام بن //ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں کے پیداواری منظر نامے کا جائزہ لیا ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع نے ایک ڈسٹرکٹ ون پروڈکٹ (او ڈی او پی) سکیم کے تحت اپنی برآمدی صلاحیت کو دریافت کرنے کے لیے شہد کی پیداوار 4500 کوئنٹل سے بڑھا کر 9000 کوئنٹل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ ڈی سی نے پرنسپل سکریٹری کی طرف سے جاری ہدایات پر عمل درآمد میں مختلف محکموں کی طرف سے پیش رفت کا نقطہ وار جائزہ لیا۔ڈی سی نے چیف ہارٹیکلچر آفیسر کو ہدایت کی کہ 50 شناخت شدہ مستحقین کی فہرست ڈائریکٹر ہارٹی کلچر ، جموں کو فوری طور پر ارسال کریں تاکہ انہیں سولر ڈرائر یونٹ فراہم کیا جاسکے جو اناردانہ کو میکانائزڈ خشک کرنے کا راستہ ہموار کرے گا۔سی ایچ او نے اجلاس کو بتایا کہ محکمہ نے نوجوانوں کو زراعت اور باغبانی پر مبنی کاروباری سرگرمیوں کی ترغیب دینے کے لیے انفارمیشن ، ایجوکیشن اینڈ کمیونیکیشن (آئی ای سی) کی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔انہوں نے مزید کہا ، "سبز مٹر کی کاشت بڑھانے کے حوصلہ افزا نتائج حاصل ہوئے ہیں اور اس سال سالانہ پیداوار بڑھانے کے ہر امکان موجود ہیں۔"انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ ضلع رام بن میں شہد کی سالانہ پیداوار 4500 کوئنٹل ہے اور او ڈی او پی اسکیم کے تحت پیداوار کو دگنا کر 900 کوئنٹل کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے گئے ہیں۔بتایا گیا کہ محکمہ نے زراعت اور باغبانی کے محکموں کے ذریعہ بور ویلز کی تنصیب کے لیے کئی مقامات کی نشاندہی کی ہے۔ سرخ مرچ کی کاشت کے لیے مناسب 40 ہیکٹر اراضی کی بھی نشاندہی کی گئی ، جس کے لیے جی ای ایم پورٹل کے ذریعے بیج خریدا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے لیے چھوٹی ریفریجریٹڈ گاڑی کی منظوری کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ باغبانی کا محکمہ نیشنل فوڈ سیفٹی مشن کے تحت 30 ہیکٹر رقبے پر زیتون کے پودے کاشت کرے گا۔ سی ایچ او نے بتایا کہ 50 لاکھ روپے کی تخمینی لاگت سے زیتون نکالنے کے پلانٹس لگانے کے لیے نظر ثانی شدہ ڈی پی آر بھی ڈائریکٹر ہارٹی کلچر جموں کو پیش کیے گئے ہیں۔ اجلاس کے دوران زراعت ، باغبانی ، ماہی گیری ، جانوروں اور بھیڑوں کے پالنے کے شعبوں سے متعلق دیگر امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔