تازہ ترین

مزید خبریں

تاریخ    15 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک

سکل ڈیولپمنٹ مشن کی تیسری گورننگ کونسل کا اجلاس منعقد | بھٹناگر کاتجارت اور ہُنر مندی کے کورسزمتعارف کرنے پرزور 

نئے نصاب میںروز گار کے مواقع کے امکانات پرتوجہ دی جائے:فاروق خان 

سرینگر //لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بٹھناگر نے سول سیکرٹریٹ میں جموں و کشمیر اسکل ڈیولپمنٹ مشن ( جے کے ایس ڈی ایم ) کی تیسری گورننگ کونسل میٹنگ کی صدارت کی ۔ اجلاس میں لیفٹینٹ گورنر کے مشیر فاروق خان ، پرنسپل سیکریٹری ایس ڈی ڈی ڈاکٹر اصغر حسن سامون ، پرنسپل سیکرٹری سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ( ایس ای ڈی ) بی کے سنگھ ، کمشنر سیکرٹری محنت و روز گار سریتاچوہان ، سیکرٹری قبائلی امور اور مشن ڈائریکٹر جے کے ایس ڈی ایم ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری ، سیکرٹری منصوبہ بندی ، ترقی ، مانیٹرنگ اور اعلیٰ تعلیم سشما چوہان ، سیکرٹری سیاحت و ثقافت سرمد حفیظ ، سیکرٹری ایس ڈی ڈی ناظم ضیاء خان ، سیکرٹری دیہی ترقی اور پنچائتی راج رفعت عارف ، ڈائریکٹر ایس ڈی ڈی سدرشن کمار ، ڈی جی بجٹ ایم وائی ایتو اور سکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی ۔ گورننگ کونسل نے پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا ( پی ایم کے وی وائی ) 3.0 مہارت کے حصول اور علم کی آگاہی کیلئے لائیولی ہڈ پروجیکٹ ( سنکلپ ) اسکیم سنکلپ پروجیکٹ کے تحت ہنر مندی کے پروگرام کے ذریعے  اضلاع کو مرکزی دھارے میں لانے اور دیگر اسکیموں پر تفصیلی بحث و مباحثہ کیا ۔ مشیر بٹھناگر جو گورننگ کونسل کے چئیر مین بھی ہیں ، نے میٹنگ کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ  اس پر زور دیا جانا چاہئیے نقل سے بچنے کیلئے مختلف کورسز اور محکموں کے درمیان روابط پیدا کرنا ، پیشہ وارانہ کورسز اور ٹریننگ جو ہُنر کی ترقی کے بنیادی شعبوں کی تشکیل کرتی ہیں ، کو قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔ مشیر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بے روز گاری کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے نوجوانوں کو ہُنر مہیاء کرنے میں ہنر مندی کے شعبہ کا اہم کردار ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ وہ تجارت اور ہنر مندی کے کورس شروع کئے جائیں جو جموں و کشمیر کے نوجوانوں کیلئے زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں ۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تعلیم اور ہنر سازی نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا بنیادی ذریعہ ہے ، مشیر بٹھناگر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ ضروری مہارت فراہم کرنے کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کیلئے انتہائی کوششوں کے ساتھ کام کریں ۔ انہوں نے افسران سے کہا کہ وہ تمام آئی ٹی آئی اور پالی ٹیکنک کالجوں میں جاری تجارت کی فزیبلٹی اور مطابقت کا مطالعہ کریں اور تمام اسکل انسٹی ٹیوٹس کے کورس ڈھانچے کو آج کے صنعتی اداروں کی ضرورت کے مطابق از سر نو تشکیل دیا جائے ۔ مشیر نے ایس ڈی ڈی ، ایس ای ڈی اور ایچ ای ڈی کے مابین مستقل ہم آہنگی کیلئے بھی کہا کہ وزارت سکل ڈیولپمنٹ اینڈ انٹر پرنیور شپ ( ایم ایس ڈی ای ) جی او آئی کی جانب سے شروع کی گئی مختلف اسکیموں کے مطلوبہ نتائج حاصل کئے جائیں ۔ میٹنگ کے دوران بات کرتے ہوئے مشیر فاروق خان نے افسران سے کہا کہ جموں و کشمیر میں ہُنر مندی کی ترقی کے کسی بھی نئے کورس کے آغاز سے پہلے ملازمت کے عنصر کو مدِ نظر رکھا جائے ۔ مشیر نے مزید کہا کہ وہ نچلے طبقے کو نشانہ بنائیں اور نئے کورسز بناتے وقت ان کی ضروریات کو بھی مدِ نظر رکھیں ۔ انہوں نے ان سے کہا کہ نوجوانوں کی ضروریات کے مطابق آئی ٹی آئی اور پالی ٹیکنکس کے کورسز کو عقلی بنانے کیلئے ان کورسز پر خصوصی توجہ دی جائے جن میں ملازمت کے زیادہ امکانات ہیں ۔ مشیر فاروق خان نے افسران سے یہ بھی کہا کہ جموں کشمیر کی نوجوان آبادی کی صلاحیتوں کو اپ گریڈ کرنے کیلئے مختلف اسکیموں کے ہموار اور موثر نفاذ کیلئے مطلوبہ انفراسٹرکچر بنایا جانا چاہئیے ۔ اس موقع پر گورننگ کونسل نے جموں و کشمیر کی مہارت کی ترقی سے متعلق کچھ اہم فیصلے لئے ۔ اس موقع پر پرنسپل سیکرٹری ایس ڈی ڈی نے ایک تفصیلی پرذنٹیشن دی جس میں مختلف اسکیموں کے تحت ایس ڈی ڈی کی طبعی اور مالی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا ۔ 
 
 
 

جنگجویت متاثرین کو8کروڑ43لاکھ روپے کی امدادفراہم :چیف سیکریٹری

سرینگر//جنگجویت سے متاثرہ بیوائوں،یتیموں ،معذوروں اور بزرگ افراد کی بازآبادکاری کیلئے سال2021-22کی ایک میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ سال2020-21میں6,982افراد کو8کروڑ43لاکھ روپے کی مالی مدد دی گئی اور1267ٹرائی سائیکلیں جسمانی طور خاص افراد کو دی گئیں۔چیف سیکریٹری نے سال 2021-22 کیلئے 8کروڑ 91لاکھ روپے کے سالانہ منصوبے کو بھی منظوری دی تاکہ7186مستفیدین کو مالی مدد بہم پہنچائی جاسکے۔اس کے علاوہ منصوبے کے تحت683یتیموں کو61لاکھ47ہزارروپیہ کاوظیفہ بھی دیا جائے گا۔چیف سیکریٹری نے حکام کو مزید ہدایت دی کہ وہ جسمانی طور خاص افراد کومصنوعی اعضا فراہم کرنے کے تیزی کے ساتھ سروے مکمل کریں اور چارماہ میں ان کو یہ اعضافراہم کریں۔
 
 

دھوکہ دہی کی سیاست سے عوام کو ٹھگ لیاگیا:الطاف بخاری | ٹھاٹھری ڈودہ میں سیاحت کوفروغ دینے کے وسیع امکانات: حسن میر

سرینگر//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے جموں وکشمیر کی روایتی سیاسی جماعتوں کے مایوس کن رول پر افسوس کا اظہار کیا ہے جس وجہ سے انتظامی اداروں اور عوام کے درمیان رابطہ منقطع ہواہے۔ ضلع ڈوڈہ کے ٹھاٹھری علاقہ میں منعقدہ اپنی پارٹی کے یک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بخاری نے کہاکہ پچھلے ستر سالوں سے جموں وکشمیر کی عوام خاص طور سے نوجوانوں کو دھوکہ دہی سیاست سے ٹھگا گیا جس کو اب ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا’’ انتہائی بدقسمتی کا مقام ہے کہ جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں نے انتخابی مقاصد کی تکمیل کیلئے لوگوں کے جذبات کو اُکسایا اور اِس طرح کی سیاست نے خطہ کے سماجی، معاشی وسیاسی استحکام کو بُری طرح متاثر کیا‘‘۔ بخاری نے کہاکہ جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے کئے گئے سمجھوتوں کی قیمت نہ صرف لوگوں کو چکانی پڑی بلکہ اِس سے تشدد اور عدم تحفظ کو بھی شہ ملی۔اپنی پارٹی صدر نے کہا’’ایسی گندی سیاست  سے نہ صرف قیمتی جانوں کا اتلاف ہوا بلکہ اِس سے بھاری معاشی نقصان بھی ہوا جو کہ جموں وکشمیر کی ترقی اور خوشحالی کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا‘‘۔ صداقت پر مبنی سیاسی ماحول کو مضبوط کرنے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھنے کا عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بخاری نے کہاکہ اپنی پارٹی جموں وکشمیر میں ایک بااعتماد سیاسی آواز کے طور اُبھر کر سامنے آئی ہے جس نے شفافیت ، تقویت اور حقیقت پر مبنی سیاست کو قائم کیا ہے۔ڈوڈہ کی عوام سے اپنی پارٹی کو ایک موقع دینے اور زمینی سطح پر کی کارکردگی دیکھنے کی اپیل کرتے ہوئے بخاری نے کہا’’اپنی پارٹی نے عملی سیاسی نظریہ کو متعارف کر کے جموں وکشمیر کی تاریخ میں نئے سیاسی دور کی شروعات کی ہے۔ اِس نے لوگوں کے حقوق اور مفادات کے ساتھ صفر فیصد سمجھوتے کو یقینی بنانا ہے۔ اِس جماعت نے اپنے سیاسی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی، اُن سیاسی گرگٹوں کی طرح جوکہ اپنے مفادات کو ملحوظ ِ نظر رکھ کر مختلف مقامات پر مختلف زبانیں بولتے ہیں‘‘۔ اس موقع پر پارٹی سنیئر نائب صدر غلام حسن میر نے کہاکہ ڈوڈہ خاص طور سے قصبہ ٹھاٹھری میں سیاحتی شعبہ کو ترقی دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ یہ سرزمین قدرتی وسائل سے مالامال ہے جن کو بروئے کار لانے سے خطہ کااقتصادی نقشہ ہی تبدیل ہوسکتا ہے۔ میر نے پارٹی کے ترقیاتی ایجنڈہ کو دوہراتے ہوئے کہا’’اپنی پارٹی نے جموں وکشمیر کے سبھی خطوں اور ذیلی علاقوں کی ہمہ جہت سماجی اقتصادی ترقی کا یقین دلایا ہے، جیساکہ ہمارے صد ر موصوف نے اعلان کیا ہے کہ اپنی پارٹی اگر اقتدار میں آتی ہے تو فی کنبہ ماہانہ 300یونٹ مفت بجلی فراہم کی جائے گی‘‘۔ 
 
 

فیس کا تعین کرنے والی کمیٹی کی نجی اسکولوں کوآخری مہلت | 30ستمبر تک فیس ڈھانچے کی دستاویزات جمع کریں

سرینگر// جموں کشمیر میں نجی اسکولوں کا فیس مقرر کرنے والی کمیٹی نے پرائیوٹ اسکولوں کو 30ستمبر تک فیس ڈھانچے کی منظوری سے متعلق کاغذات پیش کرنے کی آخری مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا نہ کرنے پر قانون کے مطابق مناسب احکامات منظور کیے جائیں گے۔  نجی اسکولوں کو مجموعی طور پر اب تک امسال کاغذات جمع کرنے کیلئے مقرہ تاریخ میں5بار توسیع کی گئی ہے۔کمیٹی کے چیرپرسن جسٹس(ر) مظفر حسین عطار نے پرائیویٹ سکول منتظمین، انجمنوں اور دیگر متعلقین کی درخواستوں پر غور کرتے ہوئے کہاہے کہ کمیٹی نے فائلیںوصول کرنے کے لئے ایک بارپھر سکولوں کو موقعہ دینے کا فیصلہ لیا ہے اور اب یہ سکول 30ستمبر 2021تک اپنی فائلیں کمیٹی کے جموں اور سرینگر کے دفاتر میں جمع کرسکتے ہیں۔ انہو ںنے ان تمام سکولوں کو مطلع کیا ہے کہ کہ وہ اپنی فائلیں مقررہ وقت کے اندر اندر کمیٹی کے پاس جمع کریں تاکہ ان کے بارے میں معقول احکامات جاری کئے جاسکیں۔ کمیٹی نے 19جنوری کو ایک حکمنامہ جاری کیا جس میں پرائیویٹ سکولوں کو30دنوں کی مہلت دی گئی تھی ، کمیٹی نے 22فروری کو ایک اور حکمنامہ زیر نمبر 46جاری کیا جس میں سکولوں کو 22مارچ تک فائلیں جمع کرنے کی مہلت دی گئی ۔ اسکے بعد یہ مہلت 10مئی تک بڑھادی گئی لیکن اسکے باوجود بہت سارے سکول اپنے کاغذات کمیٹی کے پاس جمع نہیں کراسکے۔ کمیٹی نے کووِڈ- 19کے مشکلات اور پرائیویٹ سکول تنظیموں کی درخواستیں مدنظر رکھتے ہوئے فائلیں وصول کرنے کی معیاد 31جولائی تک بڑھا ئی۔جس کے بعد درجنوں سکولوں نے کمیٹی سے رجوع کیا اور ایک اور موقعہ فراہم کرنے کی درخواستیں دیں۔فیس مقرر کرنے والی کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان سبھی درخواستوںکو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی نے اب فائلیں وصول کرنے کی آخری تاریخ 30ستمبر مقرر کردی ہے۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ جو سکول 30ستمبر تک اپنی فائلیں جمع کرنے میں ناکام ہوںگے، ان کے خلاف ضابطے کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ 
 
 

 اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا 48واں اجلاس | جموں و کشمیر میں عارضی مواصلاتی بندشوں پربھارت کی تنقید

سرینگر//اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے جموںوکشمیر میں مواصلاتی پابندیوں پر بھارت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اسے تشویشناک قرار دیاہے۔ کے این ایس مانیٹرنگ کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 48ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے افتتاحی بیان میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ نے جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے اور ترقی کو فروغ دینے کے لئے بھارتی حکومت کی کوششوں کو تسلیم کیا لیکن کہا،’’مواصلاتی پابندیوں کے نتیجے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے اور مزید کشیدگی اور عدم اطمینان پیدا ہو سکتا ہے‘‘۔ انہوںنے کہا کہ جموں و کشمیر میں عوامی اجتماعات اور بار بار عارضی طور پر مواصلاتی بلیک آٹ پر بھارتی حکام کی پابندیاں جاری ہیںجبکہ سینکڑوں افراد اظہار رائے کی آزادی کے اپنے حق کے استعمال کے لئے حراست میں ہیں اور صحافیوں کو بڑھتے ہوئے دبا ئوکا سامنا ہے۔بیچلیٹ نے کہا ،’’پورے بھارت میں( غیر قانونی سرگرمیوںروک تھام ایکٹ) کا مسلسل استعمال پریشان کن ہے اور اس ایکٹ کے تحت جموں و کشمیر میں سب سے زیادہ معاملات درج ہیں‘‘۔انہوںنے پیر کو بھارت کی غیر قانونی سرگرمیوںروک تھام ایکٹ کے استعمال کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں’’بار بار‘‘ عارضی مواصلاتی بندشوں کو ’تشویش ناک‘قرار دیا۔ اس دوران شیل بیچلیٹ کے تبصروں پر فی الحال کوئی سرکاری رد عمل سامنے نہیں آیا جبکہ بھارت نے کئی مواقع پر ماضی میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کی جموں و کشمیر سے متعلق تنقیدوں کو سختی سے مسترد کیاہے۔
 
 

بیان غیر ضروری اور حقیقت کے برعکس: بھارت

 اقوام متحدہ/جنیوا //بھارت نے منگل کے روز اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کی جانب سے جموں و کشمیر کے بارے میں "بلاجواز ریمارکس" پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے تبصرے زمینی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے اور انسانی حقوق کی پاسداری میں کوئی کوتاہی ضرور(بقیہ صفحہ6پر، غیر ضروری)
 نہیںہونی چاہیے۔وزارت خارجہ میں سیکریٹری( ویسٹ) رینت سندھونے کہا ، "ہم ہائی کمشنر کے زبانی اپڈیٹ میں ہندوستان کے حوالہ جات کا نوٹ لیتے ہیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر پر ان کے ناجائز ریمارکس پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں ، جو زمینی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے"۔ خارجہ امور رینات سندھو نے منگل کو انسانی حقوق کونسل کے 48 ویں سیشن میں کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی فروغ اور تحفظ کے بارے میں ہندوستان کا نقطہ نظر "ایک تکثیری اور جامع معاشرے اور متحرک جمہوریت کے طور پر ہمارے اپنے تجربے پر مبنی ہے‘‘انہوں نے کہا کہ بھارت کا خیال ہے کہ انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کا بہترین عمل ریاستوں کے مابین بات چیت ، مشاورت اور تعاون کے ذریعے اور تکنیکی مدد اور صلاحیت کی فراہمی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی پاسداری میں کسی بھی قسم کی کوتاہیوں کا ازالہ شفاف اور غیر جانبدارانہ انداز میں کیا جانا چاہیے ، جو قومی خودمختاری کے احترام اور ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت ہے۔سندھو نے کہا کہ ہندوستان کا آئین بنیادی انسانی حقوق کو بنیادی حقوق کے طور پر شامل کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری پارلیمنٹ ، آزاد عدلیہ ، متحرک میڈیا اور سول سوسائٹی ہمارے لوگوں کے انسانی حقوق کے مکمل لطف کو یقینی بناتی ہے۔
 
 
 

916آئی سی ڈی ایس ہیلپروں کی برخاستگی | کشمیریوں کو محتاج بنانے کی سازش کی کڑی: نیشنل کانفرنس 

سرینگر// نیشنل کانفرنس نے 916آئی سی ڈی ایس ہیلپروں کی برخواستگی عمل میںلانے کے حکومت کے تازہ اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت اور ملامت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام کشمیریوں کو محتاج بنانے کی سازش کی ایک اور کڑی ہے۔ پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈار نے بیان میں کہا کہ ایک طرف نئی دلی سے لیکر راج بھون تک جموںوکشمیر کی تعمیر و ترقی، روزگار اور امن و خوشحالی کے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں جبکہ زمینی صورتحال اس کے عین برعکس ہے۔ نئی ملازمتیں فراہم کرنا تو دور کی بات حکمران پہلے سے ہی تعینات ملازمین کو جبری طور پر برخواست کررہے ہیں اور یہ سلسلہ گذشتہ 2سال سے برابر جاری ہے۔ ترجمان نے کہا کہ 916آئی سی ڈی ایس ہیپلر کشمیر مخالف پالیسی کے شکار ہوئے ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے سالہاسال سے ملازمتیں کررہے ہیں ان سینکڑوں افراد کا روز گار بیک جنبش قلم چھین لیا اور ایک بار بھی نہیں سوچا گیا کہ ان ملازمین کے کنبوں پر اس کا کتنا منفی اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا کہ 5اگست2019سے لیکر آج تک مسلسل لاک ڈائون ، بے چینی اور غیر یقینیت سے یہاں کا ہر ایک شعبہ متاثر ہوگیا ہے اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں اور ایسے میں حکومت کی طرف سے اس قسم کے تاناشاہی پر مبنی فیصلے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لیکر آئی سی ڈی ایس سمیت گذشتہ 2برسوں میں برطرف کئے گئے ملازمین کی فوری بحالی عمل میں لانی چاہئے۔
 
 
 

ماہی گیروں کوانشورنس کے دائرے میں لایا جائے | بانڈی پورہ کی مچھلیاں بیچنے والی خواتین کا مطالبہ

بانڈی پورہ//عازم جان //بانڈی پورہ کے بازار میں مچھلیاں فروخت کرنے والی خواتین نے مطالبہ کیا ہے کہ جھیل ولر کی پانیوں میں مچھلیاں پکڑنے والے ماہی گیروں کوانشورنس کے دائرے میں لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ مچھلیاں پکڑنے کے دوران کبھی کبھار اُن کے مردکسی حادثے کاشکار ہوکر جھیل میں ڈوب مرجاتے ہیں اور پھر ان کے خاندان کی کفالت کرنے والاکوئی نہیں ہوتااورنہ ہی حکومت کی طرف سے انہیں کوئی امدادبھی نہیں دی جاتی۔انہوں نے کہا کہ انہیں نہ صرف ایکس گریشیاریلیف کے زمرے میں لایا جائے بلکہ ان کا بیمہ بھی کرایا جائے۔  ماہی گیر خواتین نے کہا کہ پسماندہ ماہی گیر باضابطہ محکمہ فشریز کو لائسینس فیس ادا کرتے ہیں اور سنگھاڑوں کا فیس بھی ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی پسماندہ ماہی گیر آبادی سرکاری مراعات سے محروم ہیں۔ سراپا احتجاج ماہی گیر خواتین نے الزام لگایا کہ پڑھے لکھے پسماندہ ماہی گیر بچے بے روزگار ہیں، ان کو سرکاری محکموں میں ملازمت نہیں مل رہی ہے جس کی وجہ سے ولر جھیل کے کنارے آباد ماہی گیروں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہے۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی ہے کہ پسماندہ ماہی گیروں کی حالت زار کی طرف توجہ مبذول کریں۔ 
 
 

مناظرہ بازی  سے دوررہنے کی آغاسید حسن کی اپیل

سرینگر// مناظرہ بازی کو ایک بدترین فتنہ قرار دیتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغاحسن نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان مسلکی اختلافات ایک مسلمہ حقیقت ہے اوریہ اختلافات اصولی نہیں ،بلکہ فروعی نوعیت کے ہیں،جن سے کسی کا اسلام یاایمان متاثر نہیں ہوسکتااورنہ ہی فروعی اختلافات کی بنیاد پرکسی کے خلاف تکفیر کافتویٰ جاری کیا جاسکتا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا  امت مسلمہ کے حقیقی خیر خواہ علماے دین نے مسلکی اختلافات کے باوجود امت مسلمہ کو جوڑے رکھنے اور باہمی اتحاد کی آبیاری کے لئے ملت کو ایک حکیمانہ اصول پر کاربند رکھنے کے لئے سخت محنت و مشقت کی ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ اپنے مسلک کو ہر گز نہ چھوڑو اور دوسرے کے مسلک کو ہر گز نہ چھیڑو،بقول امام خامنہ ای ،ہر اختلافی آواز شیطان کی آواز ہے، دشمنان اسلام نے ہر دور میں اسی شیطانی آواز کا سہارا لیکر ملت اسلامیہ کی قوت کو توڑنے کی کوشش کی ہے اور ضمیر فروش مولویوں کو آلہ کار بناکر اس مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھایا۔انہوں نے کہاکہ  بد قسمتی سے کچھ مولوی صاحبان نا دانستہ طور پر اس گھنائونی سازش کے حوالے سے استعمال ہو رہے ہیں ۔زمانہ قدیم میں کافی عرصے تک عالم اسلام میں مناظروں کا ایک سلسلہ چلا جس کی تباہ کاریاں اور تلخیاں آج بھی محسوس کی جا رہی ہیں ۔مناظرہ بازی کرنے والے یہ مولوی نہ ہی اسلام کے خیر خواہ ہوتے ہیں اور نہ کسی مسلک کے غمخوار ہوتے ہیں بلکہ یہ لوگ اپنے آقائوں کی نمک خواری کا حق ادا کر رہے ہیں۔ عالم اسلام کی موجودہ صورتحال میں مناظرہ بازی کی کوئی گنجائش نہیں یہ حرکت ایک بجھی ہوئی نفرت کی آگ کو از سر نو بھڑکانے کی کسی دانستہ سازش کی کڑی ہے ۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ان مناظرہ بازوں اور مناظرہ بازی سے واضح اعلان برات کریں ۔
 

تمباکو نوشی کے خاتمہ کیلئے جدید حکمت عملی کی ضرورت: ناظم صحت 

نیوز ڈیسک
سرینگر //ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر کی جانب سے منگل کو تمباکو کے مضر اثرات،کوپٹا ایکٹ 2003 اور عالمی ادارہ صحت ایف سی ٹی سی کے آرٹیکل کے جموں و کشمیر میں اطلاق پر مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد بینکٹ ہال سرینگر میں منعقد کیا گیا ۔ورکشاپ کا افتتاح ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر مشتاق احمد راتھر اور ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ میشن( این ایچ ایم ) ڈاکٹر یاسین چودھری نے کیا ۔ ورکشاپ میں انچارج تمباکو کنٹرول پروگرام کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر نشاط نے خطبہ استقبالیہ دیا ۔ اس موقعہ پر مشتاق احمد راتھر نے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تمباکو نوشی کی وباء سے لڑنے میں مدد دیں تاکہ لوگوں کی جان بچاسکے۔انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی کو سماج سے ہٹانے کیلئے ایک جدید حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورکشاپ کا مقصد عالمی ادارہ صحت کے ایف سی ٹی سی کے آرٹیکل 5.3کے تحت قابو کرنے پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ ڈاکٹر یاسین چودھری نے کہا کہ 600کروڑ روپے کا خرچہ ایک بڑا ہندسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے ہماری اقتصادیات کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کو ختم کرنے کیلئے ایک حکمت عملی ترتیب دینی کی ضرورت ہے۔ پروگرام میں جی ایم سی سرینگر میں شعبہ کیمونٹی میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر محمد سلیم خان، سٹیٹ پروگرام کارڈنیٹر بی آئی جے کے ڈاکٹر نصیر ، ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر ڈاکٹر بشیر احمد چالکو، ڈپٹی ڈائریکٹر سکیمز ڈاکٹر عبدالرشدید نجار، اور دیگر ماہرین موجود تھے۔ 
 
 

سرکاری ملازمین کوریڈیو اوردوردرشن پرگراموں میں شرکت کی اجازت نہیں

سرینگر// سرکاری ملازمین کے ریڈیو اور دوردرشن پروگراموں میں شرکت،تحریر،انٹرویوں اور میڈیا سے تعلق رکھنے والی دیگر کاموں کو ملازمت کے ضوابط کے برعکس قرار دیتے ہوئے محکمہ خزانہ نے ملازمین کو اس طرح کی سرگرمیوں سے دو رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ محکمہ خزانہ کے اکونٹس اینڈ ٹریجریز کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے جاری ایڈویزری میں کہا گیا ہے سرکاری ملازم جموں کشمیرگورنمنٹ ایمپلائز (کنڈکٹ)ضوابط مجریہ  1971 کا پابند ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان ضوابط کا قاعدہ 13 ’’پریس یا ریڈیو کے ساتھ رابطہ‘‘سے متعلق ہے جو دوسری چیزوں کے علاوہ ایک سرکاری ملازم کو ریڈیو نشریات میں حصہ لینے یا ایک مضمون دینے یا کسی اخبارمیں تحریر کیلئے یا کسی دوسرے شخص کے نام پر سوائے حکومت/مقررہ اتھارٹی کی سابق منظوری کے بغیر روکتا ہے۔ ایڈوئزری میں مزید کہا گیا ہے کہ تاہم’’ ، واضح قاعدہ پوزیشن کے باوجود ، کچھ ملازمین مبینہ طور پر ریڈیو،دوردرشن کے پروگراموں میں مختلف صلاحیتوں جیسے کہ سکرپٹ رائٹروںکیجول ریڈروں، اینکروں ، انٹرویو و غیر لینے والے پروگراموں میں حصہ لیتے رہے ہیں ، جیسا کہ ایک شہری سید ریاض نے شکایت پورٹل پر درج شکایت میں کہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا ہے کہ ہر وقت اپنی سروس کے دوران قواعد میں ایسی دفعات شامل ہیں جن میں ملازمین کے طرز عمل سے لے کر نجی زندگی تک وسیع موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ایڈویزری میں کہا گیا ہے کہ ہر سرکاری ملازم پر لازم ہے کہ وہ مکمل سالمیت ، فرض کے ساتھ لگن کو برقرار رکھے اور کوئی بھی ایسا کام نہ کرے جو سرکاری ملازم کے لیے ناپسندیدہ ہو۔ جاری کردہ ایڈویزری کے مطابق ’’ اکاؤنٹس اینڈ ٹریڑری آرگنائزیشن کے تمام ملازمین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس طرح کی سرگرمیوں سے باز رہیں اور ایمپلائز (کنڈکٹ) رولز 1971 پر عمل کریں۔‘‘
 
 

پنجاب میں کشمیری طالب علم کے موت کی تحقیقات کی جائے:اپنی پارٹی

سرینگر//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے بڈگام کے  20برس کے طالبعلم کی پر اسرار موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جس کی نعش پنجاب میں کالج ہوسٹل میں لٹکتی پائی گئی ۔ ایک بیان میں بخاری نے نوجوان کشمیری طالبعلم کی پراسرار موت پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے سوگوا ر کنبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے جموں وکشمیر اور پنجاب میں متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ اِس معاملہ کی تحقیقات کی جائے تاکہ اُن حقائق اور حالات کا پتہ لگایاجاسکے جس وجہ سے طالبعلم کی موت ہوئی۔ بخاری نے کہاکہ ایسے واقعات جن کے دور رس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، میں ہنگامی بنیادوں پرباریک بینی سے تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے اور انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ ہرزاویے سے تحقیقات کرے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات رونما نہ ہوسکیں۔ اُن کے علاوہ پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر، ریاستی کارڈی نیٹر اور ضلع صدر بڈگام منتظر محی الدین اور پارٹی میڈیا ایڈوائزر فاروق اندرابی نے بھی طالبعلم کی موت پر دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غمزدہ کنبہ کے ساتھ اِس مشکل گھڑی میں ساتھ ہیں۔ انہوں نے مرحوم کی جنت نشینی اور لواحقین کے لئے صبرو جمیل کی دعا کی ہے۔
 
 

نجی اداروں میں کام کرنے والے کامگار مراعات کے حقدار 

سرکاری سکیم کے تحت ورکروں کو پنشن، ریٹارمنٹ اور ہیلتھ انشورنس ملنا چاہئے ؛کمشنر پی ایف آرگنائزیشن  

سرینگر//ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے کمشنر نے بتایا ہے کہ وادی کشمیر میں نجی اداروں میں کام کرنے والے ورکروں و ملازمین کو ہرقسم کی مراعات فراہم کی جانی چاہئے اورجو بھی ادارہ اپنے ورکروں کے حق پر شب خون مارے گا، اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ انہوںنے کہاکہ 5اگست 2019کے بعد مرکزی سکیموں کا جموں کشمیر اور لداخ پر اطلاق ہوتا ہے جس کے تحت ہر نجی ادارے کے ملازم کو مختلف قسم کی مراعات حاصل ہے جن میں پرویڈنٹ فنڈ، پنشن، ریٹائر منٹ اور ہیلتھ انشورنس شامل ہے ۔سی این آئی کے مطابق ایمپلائز پرویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے کمشنر رضوان الدین نے کہا ہے کہ سال 2019کو جب جموں کشمیر سے دفعہ 370منسوخ کیا گیا ہے تب سے جموں کشمیر اور لداخ دو الگ الگ یوٹیز میں تبدیل ہوئی ہیں جن میں مرکزی قوانین کے ساتھ ساتھ تمام مرکزی سکیموں کا اطلاق ہوتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ تمام نجی اداروں کے ملازمین کو مختلف مراعات کا حق حاصل ہے جبکہ سرکار کی جانب سے انہیں پرویڈنٹ فنڈ، ریٹائرمنٹ اور پنشن کے علاوہ ہیلتھ انشورنس شامل ہے ،جو ورکروں کا بنیادی حق ہے اور یہ سب انہیںسرکار کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے تاہم اس میں اداروں کی جانب سے جو سیلری ملتی ہے اس میں بھی کچھ فیصدی پروڈنٹ فنڈ میں جمع ہوتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق جموں کشمیر ہوٹل اینڈ ریستوران ایسوسی ایشن اور ایمپلائز پروڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے مابین ایک اہم میٹنگ سرینگر میں منعقد ہوئی جس میں ہوٹل ایسوسی ایشن کے زعمائوں کے علاوہ پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کے پریذیڈنٹ اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ۔میٹنگ میں ایمپلائز پرووڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے کمشنر رضوان الدین اور دیگر افسران موجود تھے جبکہ اس موقعے پر ہوٹل اینڈ ریستوران ایسوسی ایشن کے صدر شوکت چودھری نے میٹنگ میں کئی معاملات اُٹھائے جن میںنجی سیکٹر کے ملازمین کو پروویڈنٹ فنڈ کی ضرورت کے وقت محکمہ لیبر کی جانب سے لیت و لعل کا مظاہرہ کرنے اور کووڈ کے دوران اداروں کی مالی حالت خراب رہنے کے نتیجے میں اپنے ورکروں کی پی ایف فنڈ کی فراہمی کا معاملہ اُٹھایا ۔ اس دوران سکول ایسوسی ایشن کے صدر  جی این وار نے کہا ہے کہ پی ایف فنڈ آرگنائزیشن کے معاملات پر بات کی گئی ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے جو معاملات اُٹھائے جن کا ازالہ کرنے کیلئے کمشنر موصوف نے یقین دہانی کرائی ۔ میٹنگ کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کیساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2019اگست کے بعد جب سے جموں کشمیر اور لداخ میں تبدیل ہوئے ہیں تب سے ہم یہاں کے غیر سرکاری اداروں اور پرائیویٹ اداروں میں کام کررہے ورکروں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات اُٹھارہے ہیں جن میں متعدد سرکاری سکیمیں شامل ہیں جن کو جموںکشمیر میں لاگو کیا گیا ہے خاص طور پر پرویڈنٹ فنڈ سکیم کے تحت ملازمین کو ریٹائرمنٹ ، پنشن اور ہیلتھ انشورنس ملے گا۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ بہت سے ادارے ابھی بھی ملازمین کو اپنا حق فراہم نہیں کررہے ہیں اور جو بھی اس طرح اپنے ورکروں کے حقوق پر شب خون مارے گا، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
 
 

ایگزیکیٹوانجینئرPMGSY گاندربل منسلک

گاندربل//ارشاداحمد//حکومت نے منگل کو ضلع گاندربل کے دوسرے ضلعی سطح کے افسر کو منسلک کیا ۔سرکاری حکم نمبر 277/ PWR & B کے مطابق پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ سول سیکرٹریٹ سرینگر نے ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل اور چیف انجینئر کشمیر کی سفارشات پر غیر پیشہ ورانہ رویہ اور غیر فعال کارکردگی کی بناء پر پی ایم جی ایس وائی ڈویژن گاندربل کے ایگزیکٹو انجینئر شوکت راشد وانی کو فوری طور پر چیف انجینئر کے دفتر کے ساتھ منسلک کردیا گیا،جبکہ تعمیرات عامہ ڈویژن گاندربل کے ایگزیکٹو انجینئر ظفر احمد قریشی اپنے فرائض کے علاوہ اگلے حکمنامہ تک ایگزیکٹو انجینئر پی ایم جی ایس وائی عہدے کا اضافی چارج بھی سنبھالیں گے۔واضح رہے کہ کہ گزشتہ روز چیف میڈیکل آفیسر گاندربل ڈاکٹر دیبا خان کو بھی انتظامیہ نے منسلک کیا تھا۔اس طرح مسلسل دو روز کے دوران دو ضلعی افسراں کو منسلک کردیا گیا ۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

تشدد کو اجتماعی طور رد کرنے کی ضرورت:سجاد لون

سرینگر// پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے تشدد کو رد کرنے کی اجتماعی کاوشوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر پر گزشتہ  تین دہائیوں سے مسلسل رنج و الم کی صورتحال سایہ فگن ہے۔انہوں نے کہا کہ اجتماعی اور واضح طور پر تشدد کی مذمت کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے ان باتوں کا اظہار منگل کو ضلع کپوارہ کے کلمونہ گاؤں میں پولیس سب انسپکٹر ارشد احمد میر کے گھر پر تعزیت پرسی کے بعد اپنے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے اس واقع کو انسانیت سوز اور بزدلانہ حرکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں تشدد کے اس نہ تھمنے والے سلسلے سے ہزاروں گھرانے تباہ و برباد ہو گئے ہیں ۔ بیان میں کہا کہ تشدد کو رد کرنے کیلئے اجتماعی کاوشوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ’’ جب ہم اجتماعی اور واضح طور پر تشدد کی مذمت کریں گے تب ممکن ہے کہ کشمیر اس دلدل سے باہر نکل کر امن و آشتی اور تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے‘‘۔
 

پیپلز کانفرنس میں کئی سیاسی اراکین شامل

سرینگر//ممتاز کالم نگار اور جموں و کشمیر حکومت کے سابق ایڈیشنل سکریٹری حاجی محمد مظفر ٹھاکر نے منگل کے روز پیپلز کانفرنس میں شمولیت اختیار کر لی جس دوران سینئر رہنماؤں نے پارٹی میں نئے آنے والوں کا خیرمقدم کیا۔ پارٹی ترجمان کے مطابق ممتاز سماجی اور سیاسی کارکنوں نے پیپلز کانفرنس میں شمولیت اختیار کی جن میں تجربہ کار نیشنل کانفرنس کے رہنما حاجی حبیب اللہ ، پرویز ،ظہور بٹ ، جہانگیر بٹ اور جمیل احمد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سونہ وار حلقہ سے سینئر سیاسی کارکن محمد یوسف شیخ ، محمد افضل شیخ ، محمد یوسف وانی ، غلام حسین پنڈت ، وسیم حسین وانی ، بشیر اے ملک ، لشکری محلہ کے غلام محی الدین کاٹھ بھی  شامل ہوئے۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ این سی اور پی ڈی پی کے سینئر کارکنان ، کارپورہ کے ہلال احمد ڈار ، بالترتیب برین اور مرسل کے نذیر احمد اور عبدالرشید بھی پی سی میں شامل ہوئے۔
 
 

میوہ جات کی آسان نقل و حمل | ترقیاتی کمشنر کولگام نے ٹریفک نظام کا جائزہ لیا

کولگام //ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ نے منی سیکریٹریٹ میں وادی سے باہر میوئوں کی آسانی سے نقل و حمل کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کی۔میٹنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ میوہ ٹرکوں کو آسانی سے گزرنے کے لیے ٹریفک کے بہتر انتظام اور انتظام کے لیے چیکنگ پوائنٹس پر اہلکاروں کو حساس بنائیں۔ڈاکٹر بلال نے عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ میوہ ٹرکوں کو خاص نشانات کا طریقہ کار وضع کریں تاکہ انہیں شاہراہ پر ہموار گزرنے کے لیے سہولت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ ٹریفک کے لیے مناسب وقت کا شیڈول برقرار رکھیں اوراس کے علاوہ اہم مقامات کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے اے آر ٹی او کولگام کو ایک ایپلیکیشن یاپورٹل کے امکان کو تلاش کرنے کی ہدایت کی جہاں میوہ ٹرک اپنی رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔اس موقع پر فروٹ منڈیوں کے نمائندوں نے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ کئی مسائل اٹھائے۔ترقیاتی کمشنر نے انہیں یقین دلایا کہ ان کے تمام حقیقی مسائل کو دیکھا جائے گا اور ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
 
 

کمشنر سیکریٹری جنگلات نے گاندربل میں آبی ذخائر کا جائزہ لیا

گاندربل//کمشنر سیکرٹری جنگلات و ماحولیات سنجیو ورما نے ضلع گاندربل کا دورہ کیا اور وہاںضلع کے آبی ذخائر کا جائزہ لیا۔کمشنر سیکرٹری کے ہمراہ ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل کرتیکا جیوتسنا ، اے سی آر گاندربل ، ریجنل وائلڈ لائف وارڈن کشمیر ، اے سی ڈی ، ڈی ایف او سندھ فارسٹ ڈویژن گاندربل اور دیگر متعلقین تھے۔کمشنر سیکرٹری نے آہن سر ، وسکور اسر اور مانسبل جھیلو ں کا دورہ کیاتاکہ اِن آبی ذخائر کے اِنتظام کا جائزہ لیا جاسکے ۔ یہ تین واٹر باڈیز 2017ء کے ویٹ لینڈ مینجمنٹ رولز کے تحت آبی ذخائرکے طور پر نوٹیفائیڈ ہونے کے دہانے پر ہیں ۔ڈی ایف او نے کمشنر سیکرٹری کو جانکاری دی کہ ضلع اِنتظامیہ کی جانب سے اِس حوالے سے مختصر دستاویزات پہلے ہی تیار اور جمع کرائی جاچکی ہے۔کمشنر سیکرٹری نے اِن آبی ذخائر کے لئے مینجمنٹ پلان کی تیاری کی ہدایت دی کہ وہ ڈی سلٹیشن او رڈیویڈنگ کے کام کو یقینی بنائیں۔ اُنہوں نے اِس کے لئے ریونیو ، فارسٹ اور دیہی ترقی محکموں کے تعاون طلب کیا تاکہ اِن آبی ذخائر کوماضی کی شا ن رفتہ بحال کیا جا سکے۔کمشنر سیکرٹری نے کہا کہ اِن آبی ذخائرکے لئے اِنتظامی منصوبہ بنایا جائے گا جس میں تمام جزو شامل ہوں گے تاکہ ان آبی ذخائر کو قدیم شان رفتہ کو بحال کیا جاسکے جو نہ صرف جھیلوں کے آبی اور فضائی تنوع میں اِضافہ کرے گا بلکہ اِن علاقوں کی سیاحتی صلاحیت کو بھی فروغ ملے گا۔دریں اثنا کمشنر سیکرٹری نے پی آر آئیز اور مقامی لوگوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور اُن پر زور دیا کہ وہ ان آبی ذخائرکے تحفظ میں اِنتظامیہ کی مدد کریں کیوں کہ اِن آبی ذخائر کے کناروں پر رہنے والے لوگوں کی روزی کا انحصار بڑی حد تک آبی ذخائرپر ہے ۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ لوگوں میں بالخصوص ان آبی ذخائر کے اَطراف میں رہنے والے لوگوں کوان علاقوں کی قدرتی قدروں کے بارے میں بیداری پیدا کریںاور کسانوں کو کیمیائی کھادوں کے بجائے بائیو کھاد اِستعمال کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔