تازہ ترین

صارفین کوروشنی کی تلاش !

حال و احوال

تاریخ    15 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


شہراز میر
کسی بھی ملک کی جمہوریت کا اندازہ وہاں کے مقیم لوگوں کی ترقی سے ظاہر ہوجاتا ہے کیونکہ جمہوری ملک میں پانی بجلی سڑک اور تعلیم و دیگر بنیادی ضروریات لوگوں کو فراہم کرنا حکومت کی عین ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ہندوستان کے ایوانوں میں بھی ہر سال عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے کروڑوں روپے کے بجٹ کو منظوری دی جاتی ہے۔ جس سے عوام کو یقین ہوجاتا ہے کہ اُن کا مستقبل روشن ہونے جارہا ہے۔لیکن عوام تک یہ تمام سہولیات کیوں نہیں پہنچ پاتی ہیں ،ہر باریہ بات ایک سوال بن کر رہ جاتی ہے۔جہاں ایک طرف دنیا کے دوسرے ممالک چاند و سورج پر اپنی پکڑ بنا رہے ہیں وہیں ہمارے ملک میں لوگ بجلی,پانی جیسی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہیں۔
اگرجموں کشمیر کی ہی بات کی جائے تو آبی وسائل کی فراوانی ہونے کی وجہ سے یہاں کثیر مقدار میں بجلی پیدا کی جاتی ہے،لیکن اس کے باوجود یہاں کے اکثر علاقوں میں بجلی نایاب  رہتی ہےاورلوگوں کو تاریکی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔بالخصوص ضلع پونچھ کے عوام کے لئے بجلی کی عدم دستیابی اور ناقص سپلائی درد سر بنی ہوئی ہے۔ ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے بلاک ساتھرہ میں منڈی کی طرف سے آنے والے ایک دریا پر بجلی پروجیکٹ تعمیر کیا گیا ہے۔ لیکن جہاں پروجیکٹ تعمیر کیا گیا ہے ،وہاں کی عوام بجلی سے محروم ہیںجبکہ ہر مہینے بجلی کے ِبل لوگوں کے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ ان علاقہ جات تک بجلی پہنچانے کے لئے سبز درختوں پرتاریں لٹکائی گئی ہیں۔بارش تو دور کی بات ہے آسمان پر بادل چھانے پر بجلی کئی کئی روز تک لاپتہ ہو جاتی ہے۔اگر تھوڑی سی بھی ہوا چلے تو سبز درختوں اور بوسیدہ لکڑی کے کھمبوں کے ساتھ ترسیلی تاریں بوسیدہ کھمبوں کے سمیت زمین پر گر پڑتی ہیں اور عوام کیلئے وبال جان بن جاتی ہیں۔ پونچھ کے تحصیل منڈی کی پنچایت فتح پور کی بات کی جائے،تو اس کے محلہ میراں وارڈ نمبر 7 میں بجلی کی ترسیلی لائنیں سرسبز درختوں اور لکڑی کے کھمبوں کے ساتھ لٹکائی گئی ہیں جو سرعام موت کا پیغام دیتی نظر آ رہی ہیںجو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہیں۔  مقامی لوگوں نے متعلقہ محکمے کو کئی بار باور کروایا کہ علاقے میں بجلی کے کھمبے نصب کیے جائیں تاکہ بجلی کی سپلائی ہر موسم میں بحال رہ سکے اورکسی حادثہ کا بھی اندیشہ نہ رہےلیکن متعلقہ محکمہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔اس ترقی یافتہ دور میں بھی اس گاؤں کا یہ حال ہے کہ انسانوں کی جانوں کی پرواہ نہیں کی جاتی ہے۔اس سلسلہ میں وارڈ نمبر 7 کے مقامی شخص بشیر میر نے بتایا ہے کہ محکمہ بجلی نے آج تک اس علاقے میں بجلی کے کھمبے نصب کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔بجلی کی تاریں بھی ہم نے اپنے ذاتی پیسوں سے خریدی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی تاریں ٹوٹتی ہیں تو مقامی لوگوں کو خود ٹھیک کرنا پڑتی ہیں۔
 ایک اور مقامی شخص سرفراز میر کا کہنا ہےکہ لکڑی کے کھمبوں سے بندھی خستہ حال بجلی تاریں لوگوں کی زندگیوں کے لئے خطرہ بن چکی ہیں، جو کسی بھی وقت ایک بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہیںاور متعلقہ محکمہ خواب غفلت سے بیدار ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چند انچ کی برف باری سے ہی یہ کھمبے گر جاتے ہیں،پھر بجلی جیسی بنیادی ضرورت کی بحالی کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔سرفراز احمد نے یہاں کی ضلع انتظامیہ سے سوال کیا ہے کہ کیا ہم یہاں کے شہری نہیں ہیں؟ کیا ہم ووٹ نہیں دیتے ہیں؟الیکشن کے دور میں تواُمیدوار آسمان سےتارے توڑ لانے کے وعدے کرتے ہیںاور پھرکامیاب ہونے کے بعد وہ خود ہی ستارے بن بیٹھتے ہیں۔
پنچایت کے انتخا بات میںتاریںاور بجلی کے کھمبے مہیاکرنےکے وعدوں پر ہی ووٹ مانگے گئے۔پورے وارڈ میں تاریں اور بجلی کے کھنمبے بانٹے گئے۔لیکن کئی گھرانوںاس سہولت سے آج تک محروم رکھے گئے۔جنہیںمجبوراً انہی بوسیدہ لکڑی کے کھمنبوں اورسر سبز درختوں پر خستہ حال جھولتی ہوئی تاروںسے بجلی حاصل کرنا پڑتی ہےکیونکہ میں ماہانہ بجلی کے بلادا کرنے پڑتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں جب مقامی سرپنچ چودھری تاج حسین سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا ہم نے آپ کے تار اورکھمبے پنچائت کے پنچوں کے حوالے کر دئیے تھے۔جب پنچوں سے بات ہوئی تو انہوں نے کہاکہ اگلے الیکشن میں ووٹ پاکرہی یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ ا س سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام لوگوں کے ساتھ عوام کے نمائندہ کس طرح سے پیش آتے ہیں۔واضح رہے کہ جموں و کشمیر 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔لیکن پھر بھی فتح پور گاؤں کے محلہ میراں کے لوگ بجلی اور اس کے مستقل کھمبوں کیلئے پریشان ہیںاور اس ترقی یافتہ دور میں سرسبز درختوں سے تاریں باندھ کر بجلی حاصل کر رہے ہیں۔جبکہ موسم سرما میں برفباری کے ہوتے ہی لکڑی کے کھمبے اور درخت گر جاتے ہیںاور بجلی سپلائی منقطع ہوجاتی ہے۔ ہر بار انتظامیہ نےلوگوں کو یقین دلاتی رہتی ہے کہ اُن کا مطالبہ پورا کیا جائے گا  لیکن عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہورہا ہے ۔ اس سے پہلے کہ کسی کی قیمتی جان ان ترسیلی لائنوں سے چلی جائے متعلقہ محکمہ کو خواب غفلت سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔چنانچہاس معاملے پرجب  محکمہ کے جے ای سی صاحب سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ محکمہ پوری کوشش کررہا ہے کہ عوام تک بجلی پہنچائی جائے۔وقت ضرور لگ رہا ہے لیکن ہم بجلی کو تمام علاقوں تک پہنچانے کے لئے بھرپور کوشش کررہے ہیں۔بہرحال مقامی لوگوں کو اُمیدہے کہ ایک دن ضلع انتظامیہ اور محکمہ بجلی کے افسران کوان کی حالت پر رحم آئے گاا ور ان کے علاقوں میں بھی بجلی کی سپلائی کو یقینی بنایا جائے گا۔تبھی اُن کے لئے روشنی کی تلاش ختم ہوگی۔
رابطہ۔ فتح پور منڈی، پونچھ